ویڑیو

ای پیپر

اہم خبریں

جموں کے بکرم چوک میں ایک المناک حادثے میں گاڑی دریا تیوی میں گر گئی جس کے.

پولیس نے دعویٰ کیا ہے کہ سادھنا ٹاپ پر خاتون سمیت تین افراد سات کلو نارکوٹکس.

گاندربل میں نوجوان کو مردہ پایا گیا وسطی ضلعع گاندربل کے گاڈوہ کھیتوں میں.

دہلی فسادات میں مسلمانوں پر عائد دفعہ 436 خارج

   109 Views   |      |   Saturday, May, 28, 2022

مقدمات عائد کرنے میں کامن سنس کے استعمال نہ کرنے پر سخت ناراضگی کا اظہار
سرینگر/24ستمبر/سی این آئی// شمال مشرقی دہلی فساد معاملے میں کڑ کڑ ڈوما کورٹ کے ایڈیشنل جج ونود یاود نے دہلی پولیس کے ذریعہ مقدمات عائد کرنے میں کامن سنس کے استعمال نہ کرنے پر سخت ناراضگی کا اظہار کیا ہے اور چند مسلم نوجوانوں پر عائد آئی پی سی کی دفعہ 436 کے تحت مقدمہ چلانے کو خارج کردیا۔ جج اس موقع پر جمعیت علماء ہند کی طرف سے مقرر کردہ وکیل ایڈووکیٹ سلیم ملک کی بحث سن رہے تھے جو کہ سیشن کیس نمبر 44/2021 کے تحت محمد شعیب عرف چھوٹوا،شاہ رخ ، راشد عرف راجا، اشرف علی اور محمد طاہر کی طرف سے مقدمہ کی پیروی کررہے ہیں۔ان سبھی ملزموں پر دہلی پولیس نے آئی پی سی کی دفعہ 436بھی عائد کی تھی ، جس کے تحت مجرم کو عمر قید کی سزا ہو تی ہے اور اس کا مقدمہ سیشن کورٹ میں ہی لڑا جاسکتا ہے۔جج نے کہا کہ شکایت کنندہ کے پورے بیا ن میں کوئی بھی ایسا لفظ نہیں ہے جس میں لکھا ہے کہ فسادیوں نے آگش زنی یا اس کے اسباب والے اسلحے کا استعمال کیاہے۔ جج نے کہا کہ یہ سپریم کورٹ کی واضح گائیڈ لائن ہے کہ کسی بھی ملزم کے خلاف اسی وقت الزام طے کیا جاسکتا ہے جب کہ مواد، دستاویز اور زبانی بیان پرائما فیسی اس کیس میں اس کے شامل ہو نے کو ظاہر کرتا ہو یا اس سے متعلق کوئی سنگین شبہ ظاہر ہو تاہو۔ اس معاملے میں چمن پارک میں واقع کپل رکشا بیٹری کی دکان ، شیوم سائیکل اسٹور اور شیوم جنرل اسٹور میں لوٹ مار کا مقدمہ ہے۔ جمعیت علماء ہند کے وکیل ایڈووکیٹ سلیم ملک نے کورٹ میں سوال کیا کہ جائے واقعہ سے کسی بھی طرح کے جلنے کے شواہد نہیں ہیں اور نہ ہی مقدمہ کرنے والوں نے ملزمین کا نام کہیں نامزد کیا ہے۔ حیرت تو یہ ہے کہ یہ واقعہ24 فروری 2020کو ہوا ، مگر اس سلسلے میں یہ ڈسکلوزر بیان 8اپریل 2020 کو آئی او کے ذریعہ لیا گیا اور اس بنیاد پر ان لوگو ںکو ملزم بنایا گیا ، یہ بیان دینے والے بظاہر پلانٹیڈ گواہ ہیں ، کیوں کہ بیان میں اتنی تاخیر کی کوئی وجہ درج نہیں ہے ، بیان دینے والے پولیس کانسٹبل ہیں ، تو سوال یہ ہے کہ آخر انھوں نے اتنی تاخیر تک خاموشی کی چادر کیوں اوڑھ رکھی تھی۔ تمام بیانا ت کے بعد عدالت نے فیصلہ کیا ہے کہ یہ مقدمہ مجسٹریت کی عدالت میں چلے گا اور اس میں دفعہ 436کا اندراج غلط ہے ، اسے فوری طور سے خارج کیا جاتاہے۔اس فیصلے پرجمعیت علماء ہند کے قانونی معاملات کے ذمہ دار ایڈووکیٹ و مولانا نیاز احمد فاروقی نے کہا کہ دہلی پولیس کے رویہ پر عدالتو ںنے لگاتار سوالات اٹھائے ہیں اور سب سے پہلے جمعیت علماء ہند نے بھی دہلی ہائی کورٹ میں سوالات قائم کیے ہیں، اصل معاملہ ’ ارادہ‘ کا ہے ،اب یہ سوال اٹھایا جانا چاہیے کہ کیا تحقیقاتی ایجنسیوں کا کام فسادیوں کو کیفر کردار تک پہنچانا ہے یا پھر بے قصوروں پر بڑے بڑے مقدمات عائد کرکے اصل مجرموں کو بے نقاب ہو نے سے بچانا ہے۔

متعلقہ خبریں

جموں کے بکرم چوک میں ایک المناک حادثے میں گاڑی دریا تیوی میں گر گئی جس کے نتیجے میں ڈرائیو اور کنڈیکٹر کی موت ہوئی پولیس.

پولیس نے دعویٰ کیا ہے کہ سادھنا ٹاپ پر خاتون سمیت تین افراد سات کلو نارکوٹکس اور 2آئی ای ڈی سمیت گرفتار کئے گئے پولیس.

گاندربل میں نوجوان کو مردہ پایا گیا وسطی ضلعع گاندربل کے گاڈوہ کھیتوں میں 28سال کے نوجوان کی نعش برآمد کرلی گئی پولس.

صدرِ جموں وکشمیر نیشنل کانفرنس و رکن پارلیمان ڈاکٹر فاروق عبد للہ نے حضرت میرک شاہ صاحب ؒ کے سالانہ عرص مبارک باد.

کونہِ بل پانپور میں آج صبح ایک دلدوز سانحہ پیش آیا جسمیں دو افراد موت کی آغوش میں چلے گۓ۔ کونہِ بل علاقے میں کھیتوں.