79

ہم سخن کلچرل اینڈ ویلفیئر آرگنائزیشن کے اہتمام سےدو روزہ ینگ رائٹرز کانفرنس اختتام پذیر

عابد الائی/کل یعنی مورخہ ١١ ستمبر ٢٠٢١ ء بروز سنیچر وار ہم سخن کلچرل اینڈ ویلفیئر آرگنائزیشن کشمیر کے اہتمام سے واری پورہ بالا کریری میں نوجواں شعراء اور ادباء کے لئے دو روزہ ادبی کانفرنس بعنوان “رات پھولوں کی” کا انعقاد کیا گیا۔جس میں وادی کشمیر کے اطراف و اکناف بلخصوص گریز،شپیان،کلگام،پلوامہ،بڈگام،کپواڑہ بارمولہ،پٹن،کریری،رفیع آباد اور دیگر مقامات سے آئے ہوئے نو آموز قلمکاروں اور شاعروں نے بڑھ چڑھ کر حصہ لیا اور اپنے فن کا خوب مظاہرہ کیا اور خاطر خواہ داد و تحسین حاصل کی۔کانفر‌نس لگاتار تین نشتوں پر مشتمل رہی۔پہلی نشست محفل افسانہ،دوسری نشست محفل مشاعرہ (اردو) جبکہ تیسری نشست محفل مشاعرہ (کشمیری) پر منحصر تھی۔محفل افسانہ میں روشن خیال،نثار اعظم اور مبارک لون نے مختلف افسانے پڑھ کر سامعین کے دل مول لیے۔اس نشست کی صدارت معروف قلم کار ، شاعر و نقاد جناب طارق احمدطارق نے کی جبکہ مشہور صحافی جناب ناظم نذیر اور جناب راھی نثار ایوان صدارت میں بطور مہمان خصوصی اور مہمان ذی وقار موجود رہے۔دوسری نشست محفل مشاعرہ اردو جس میں نوجواں شعراء نے اپنا اردو کلام پیش کیا اور سامعین سے خوب داد حاصل کی۔اس نشست کی صدارت مشہور شعراء جناب حسن اظہر اور جناب ساگر سرفراز نے مشترکہ طور کی جبکہ معروف معلم و شاعر جناب سید سریر احمد سرور ایوان صدارت میں بطور مہمان خصوصی موجود رہے۔تیسری نشست محفل مشاعرہ کشمیری کی صدارت حسن اظہر اور طارق احمد طارق نے کی جبکہ مشہور شاعر جناب شہزاد منظور اور مشہور جواں سال شاعر،ادیب ،قلمکار اور آرٹسٹ ریاض ربانی کشمیری ایوان صدارت میں موجود رہے۔کانفرنس کا باقاعدہ آغاز تلاوت کلام پاک سے کیا گیا جسکی سعادت ہم سخن کے سربراہ ریاض ربانی کشمیری نے حاصل کی جبکہ نعت رسول مقبول صلی اللہ علیہ وسلم پیس کرنے کی سعادت معروف نعت خواں بلال میاں نے حاصل کی۔افتتاحی کلمات ساگر سرفراز نے پیش کئے جبکہ تحریک شکرانہ کے فرائض ریاض ربانی کشمیری نے انجام دیے۔کانفرنس میں جن نوجواں اور کہنہ مشق شعراء،ادباء،نقاد و شائقین نے حصہ لیا ان میں سریر احمد سرور،ناظم نذیر،راہی نثار،ساحل نذیر،ساگر سرفراز،نثار اعظم،ریاض ربانی کشمیری،حسن اظہر،طارق احمد طارق،شہزاد منظور،مبارک لون،مذمل عبداللہ،اظہر ہاشمی،بلال میاں،فقیر اعظم،اشرف گلکار، اقبال خان عذیر،روشن خیال،امان واقف سامون،رفاقت حفیظ،احمد فراخ،ملک الطاف،صاد اکبر،عمر مشتاق،لون ہلال،شیخ محمد مظفر،میر شکیل،راتھر اشفاق،جاوید احمد،راہی رئیس،عابد لون،عمران بخاری،سید حامد،وانی عاشق،شاکر یاسین،عاصف محمد،سلمان ریاض،اقبال حسن،عاصم راتھر،فیضان لون،سلمان اشرف،ارسلان ربانی وغیرہ قابل ذکر ہیں۔مشہور کشمیری شاعر،ادیب اور تحقیق نگار غلام نبی آتش،ہردل عزیز شاعر و ماہر تعلیم شاد دردپوری اور معروف نوجوان شاعر جناب مسرور مظفر اور ریسرچ اسکالر جناب تنویر کشمیری نے کانفرنس میں آن لاین شرکت کرکے سامعین کو اپنے ذریں خیالات سے نوازا۔تنظیم کے بانی کار ریاض ربانی کشمیری نے میریا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ وہ آنے والے وقت میں بھی نوجوان اور گمنام شعراء و ادباء کے لئے ایسی تقاریب کا انعقاد کرتے رہیں گے اور ہر اس شاعر اور ادیب کی حوصلہ افزأئی کرتے رہیں گے جسکے اندر واقعی ادبی صلاحیتیں موجود ہوں اور اخلاص نیت سے ادب کی خدمت کرنے کے خواں ہوں۔۔کانفرنس میں نوجوان قلمکاروں کو آرگنائزیشن کی طرف سے کئی اسناد سے نوازا گیا جس سے انکی حوصلہ ہوئی۔کانفرنس کے آخر میں وادی کے معروف شاعر،نقاد اور علمی شخصیت ڈاکٹر عزیز حاجنی کی اچانک موت پر ایک دعایہ مجلس منعقد ہوئی۔جس میں انکے انتقال پر کافی دکھ کا اظہار کیا گیا اور مرحوم کے حق میں دعائے مغفرت کی گئی۔کانفرنس کی نظامت کے فرائض مشہور شاعر،افسانہ نگار اور ترجمہ کار جناب نثار اعظم نے بطریق انجام دئے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں