حتمی سیفٹی آڈیٹ رپورٹ آنے تک گرونڈ فلور اور حمام مسجد میں نماذ ادا کی جاسکتی
سرینگر8ستمبر/ لیفٹنٹ گورنر شری منوج سہنا کے حکم پر تشکیل دی گئی سیفٹی آڈیٹ ٹیم کے ایک اور تازہ فیصلے میں تاریخی خانقاہ ریشیہ اویسیہ کے ایک طرف موجود سپریٹ مسجد اور حمام کے علاؤہ گرونڈ فلور میں نماذیوں کو جماعت منعقد کرنے کا زکر موجود ہے تاہم کنسٹریکشن کمپنی جے کے پی سی سی نے ایک مہینہ گزرنے کے باوجود گرونڈ فلور میں چار سال قبل لگائے گئے چار جیکوں کی جگہ کوئی احاطہ بندی نہیں کی ہے جیسا کہ این آ ئی ٹی کے ساتھ منعقد خاص محکمانہ مٹینگ کے دوران جے کے پی سی سی کو ذمہ داری سونپی گئی تھی لیکن گذشتہ مہینے کی دس تاریخ سے متعلقہ حصے کو کسی بھی محکمہ نے حصار بند نہیں کیا ہے مقامی شہریوں نے مسلم وقف بورڈ، جے کے پی سی سی اور متعدد سرکاری ایجنسیوں کو اس بات پر اج مرود الزام ٹھہرایا کہ ان تمام محکموں میں ایک دوسرے کے ساتھ اپسی اور مظبوط تال میل موجود نہیں ہونے کے سبب نہ صرف قصبہ چرارشریف کے عوام کو بلکہ خاص طور سے زائیرینوں کو نئے نئے مشکلات اور مصائیب کا یہاں شکار ہونا پڑھتا ھے۔ دریںاثنا سب ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ چاڈورہ پرنس نور الحمید کی طرف سے اج وقف بورڈ چرارشریف کو ایک ایسا حکم نامہ موصول ہوا جس میں صرف یہ درج ھے کہ اج سے مقامی وبیرونی لوگ تاریخی خانقاہ کے گرونڈ فلور والے حصے میں نماذ ادا کرسکتے اور جمعہ تقریب کے موقعے پر بھی زمینی سطح پر مزید گنجائیش کا اہتمام کرنے کو کہا گیا ہے تاھم باشندگان چرارشریف نے سی این ایس کو ںتایا کہ وہ خانقاہ میں موجود اس سلیب کی ویبریشن دور کروانے کیلئے متبال تعمیری کام فورا شروع کرنے کے اپنے فیصلے پر ںدستور قائم ہے جبکہ بیس سال سے زیر تعمیر اس قومی یادگار جامع کا ہر ایک اور باقی ماندہ تعمیری کام ڈسمبر تک پایہ تکمیل کروانے کی دوبارہ اجتماعی اپیل کرتے ہیں
