تیسری لہرپھوٹ پڑنے کے امکانات سرکارکی غیرسنجیدگی ناقابل برداشت /عدالت عظمیٰ
سرینگر03/ستمبر/کرونا وائرس کی وبائی بیماری سے مرنے والے افراد کے لواحقین کو دیتھ سرٹیفکیٹ اور معاوضہ فراہم کرنے کے سلسلے میں جانکاری فراہم نہ کرنے کاعدالت عظمیٰ نے سنجیدہ نوٹس لیتے ہوئے سولسٹرجنرل کی درخواست کومستردکرتے ہوئے 11استمبر تک مرکزی حکومت کومرنے والے افراد کومعاوضے کی رقم اور سرٹفکیٹ اجراء کرنے کے بارے میں جانکاری فراہم کرنے کی ہدایت کی ۔اے پی آ ئی ے مطابق کروناوائرس کی وبائی بیماری پھوٹ پڑنے کے بعد ملک میں مرنے والے افراد کے نزدیکی شتہ داروں کوحکومت کی جانب سے ڈیتھ سرٹفکیٹ اور معاوضے کی رقم ادانہ کرنے کے سلسلے میں عدالت عظمیٰ کے دو رکنی ڈویژن بینچ جسٹس ایم آرشاہ جسٹس انوراد بوس نے سرکار کومتنبہ کرتے ہوئے کہا کہ 30جون کوہدایت کی گئی تھی کہ کروناوائرس کی وبائی بیماری سے مرنے والے افرادکے نزدیکی رشتہ داروںکوسرٹیفکیٹ اجراء کرکے حکومت لواحقین کومعاوضہ فراہم کرنے کی رقم طے کر کے عدالت عظمی کوجانکاری فراہم کرے تاہم تیسری لہراب پھوٹ پڑنے والی ہے جسکے بارے میں ماہرین امکانات ظاہرکررہے ہے اور دوسری لہرسے متاثرہ کنبوںکونہ تومعاوضہ فراہم کیاہے ا ورنہ ہی ڈیتھ سرٹیفکیٹ انہیں اجراء کی جارہی ہے ۔حکومت کی جانب سے سولسٹرجنرل ایشوریہ بھارتی نے دورکنی ڈویژن بینچ سے درخواست کی حکومت کودس دنوںکی مہلت فراہم کی جائے تاہم ڈویژن بینچ نے سولسٹرجنرل کی درخواست کومستردکرتے ہوے مرکزی حکومت کوہدایت کی کہ دس ستمبر تک ڈیتھ سرٹیفکیٹ اجراء کرنے اور مرنے والے افراد کے لواحقین کو معاوضہ فراہم کرنی کی جانکاری عدالت کوفراہم کی جانی چاہئے ۔واضح رہے کہ عدالت عظمی میں مفادعامہ کے تحت رٹ پٹشن دائرکی گئی تھی جسکے بعد عدالت عظمی نے دس ستمبر تک مرکزی حکومت کومعاوضے کی رقم طےکرنے اور ڈیتھ سرٹیفکیٹ اجراء کرنے کی ہدایت کی ہے ۔
