جموںوکشمیر میں بدترین بجلی بحران جاری 99

جموں و کشمیر کی نوجوان نسل مایوسی کا شکار

خطرناک رجحان کو روکنے کیلئے ٹھوس اور کارگر اقدامات کی اشد ضرورت/ساگر

سرینگر//جموںوکشمیر کے عوام اس وقت گوناگوں مشکلات سے دوچار ہیں جبکہ یہاں کی نوجوان نسل انتہائی مایوسی اور بد دلی کے بھنور میں ہے۔ مسلسل بے چینی اور غیر یقینیت نے نوجوانوں کو پشت بہ دیوار کردیاہے ، بھرتی عمل پر مسلسل بریک لگائے جانے سے ہزاروں کی تعداد میں یہاں کے نوجوان عمر کی حد کو پار کرگئے ہیں جبکہ یہاں کا پرائیویٹ سیکٹر دم توڑ رہا ہے، اس صورتحال سے نئی نسل کو اپنا مستقبل مخدوش نظر آرہا ہے ۔ سی این آئی کے مطابق ان باتوں کا اظہار نیشنل کانفرنس جنرل سکریٹری حاجی علی محمد ساگر نے مختلف علاقوں سے آئے ہوئے پارٹی عہدیداران اور تعلیم یافتہ نوجوانوں و عوامی وفود سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہا کہ نوجوانوں میں خودکشی کا بڑھتا ہوا رجحان اور منشیات کے استعمال میں تشویش ناک حد تک اضافہ اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ نوجوان نسل کس قدر مایوسی کا شکار ہوگئی ہے۔ یہ ایک تشویشناک رجحان ہے اور اس کا سدباب کرانے کیلئے تمام سطحوں پر ٹھوس اور کارگر اقدامات اُٹھانے کی اشد ضرورت ہے۔ اُن کا کہنا تھا کہ کورونا وائرس نے پہلے سے ہی مشکلات سے دوچار جموں وکشمیر کے عوام پر زبردست منفی اثرات مرتب کئے ہیں ، یہاں کے بیشتر طبقوں کی اقتصادی حالت انتہائی خستہ ہوگئی ہے اور ایسے میں ایک جامع منصوبے کی اشد ضرورت ہے جو زمینی سطح پر حقیقی معنوں میں لوگوں کی راحت کا سبب بنے۔جنرل سکریٹری نے پارٹی لیڈران، عہدیداران اور کارکنان پر زور دیا کہ وہ اس مشکل دور میںعوام کیساتھ قریبی رابطہ رکھیں اور لوگوں کے مشکلات کا ازالہ اور ہرحال میں مدد کیلئے پیش پیش رہیں، جو ہماری پارٹی کا اولین منشور رہاہے۔ انہوں نے کہا کہ نیشنل کانفرنس کا لائحہ عمل عوام کی خدمت کرنا ہے اور ہمیں ہر حال میں اس لائحہ عمل میں چلنا ہوگا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں