ویڑیو

ای پیپر

اہم خبریں

صدرِ جموں وکشمیر نیشنل کانفرنس و رکن پارلیمان ڈاکٹر فاروق عبد للہ نے حضرت.

کونہِ بل پانپور میں آج صبح ایک دلدوز سانحہ پیش آیا جسمیں دو افراد موت کی.

جنوبی قصبہ قاضی گنڈ میں ٹرین کی ٹکر سے 50 سال کی خاتون لقمہ اجل بن گئیں فہمیدہ.

جموںوکشمیر کی سیاسی پارٹیوںنے جمہوری عمل میں کھبی بھی رکاوٹ نہیں ڈالی

   127 Views   |      |   Saturday, May, 28, 2022

سرینگر؍؍11 اکتوبر؍سینٹر آف انڈین ٹریڈ یونینز (CITU) جموں و کشمیر کے صدر محمد یوسف تاریگامی کی صدارت میں دو روزہ میٹنگ یہاں سری نگر میں اختتام پذیر ہوئی۔ CITU کے قومی سیکرٹری ڈاکٹر کشمیر سنگھ ٹھاکر نے بھی اجلاس میں شرکت کی۔ اوم پرکاش ، جنرل سیکرٹری سی آئی ٹی یو جموں و کشمیر نے تنظیمی رپورٹ پیش کی۔ اجلاس میں مزدور طبقے خاص طور پر تعمیراتی کارکنوں ، آنگن واڑی ورکروں ، ہیلپروں ، آشا ورکروں ، دستکاری کارکنوں ، ہائیڈل پروجیکٹ ورکروں، ٹرانسپورٹ ورکروں، ہوٹل اور شکاری والے ورکروں ، باہر سے آئے ہوئے مزدوروں کو درپیش مختلف مسائل پر غور کیا گیا۔ ایس این ایس کے مطا بق اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے محمد یوسف تاریگامی نے جموں و کشمیر انتظامیہ کی ملازم اور مزدور مخالف پالیسیوں پر تنقید کی۔ انہوں نے کہا کہ جموں و کشمیر میں بے روزگاری کی شرح بلند ترین سطح پر پہنچ گئی ہے اور حکومت نئی راہیں پیدا کرنے کے بجائے ان لوگوں کی روزی چھین رہی ہے جو پہلے ہی نوکریوں میں تھے۔ انہوں نے کہا کہ حال ہی میں مختلف سرکاری ملازمین کو بغیر کسی انکوائری یا چارج شیٹ کے برطرف کر دیا گیا جس سے ملازمین میں خوف کا احساس پیدا ہوا ہے۔ انہیں برطرفی سے پہلے اپنے دفاع کا موقع ضرور دیا جانا چاہئے تھا۔ ان ملازمین کیلئے پہلے سے ہی قوانین اور طریقہ کار موجود تھے جن پر عمل نہیں کیا گیا۔ یہ فیصلے صوابدیدی اور سخت ہیں۔ اسی طرح جموں و کشمیر انتظامیہ نے 918 آنگن واڈی ہیلپروں کو جو آئی سی ڈی ایس اسکیم میں کام کررہے تھیکو برطرف کر دیا گیا۔ انتظامیہ یہ دعویٰ کر کے اپنی غلطی کو درست ثابت کرنے کی کوشش کر رہی ہے کہ ان کی تقرری میں کچھ خامیاں تھیں۔ اگر ایسا ہوتا تو خامیوں کو دور کیا جانا چاہیے تھا اور انکی نوکری کو جاری رکھنا چاہیے تھا۔ برسوں تک انہوں نے حکومت کی خدمت کی اور ان کی اجرت سرکاری بجٹ سے آتی رہی۔ اچانک انتظامیہ کو کیسے پتہ چلا کہ وہ مناسب طریقے سے محکمہ میں نہیں آئی ہیں؟۔سی آئی ٹی یوکے نیشنل جنرل سکریٹری ڈاکٹر کشمیر سنگھ نے مرکزی حکومت کی قومی منیٹائزیشن پائپ لائن پالیسی کو تنقید کا نشانہ بنایا جو کہ ایک بھی روپیہ خرچ کیے بغیر پورے پبلک سیکٹر کو ملک کے اجارہ داری گھروں کے حوالے کردے گی۔ یہ ملک کے اثاثوں کی ننگی فروخت ہے ، جو عوامی پیسے کے بغیر تعمیر کی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ سماجی تحفظ کے فوائد جیسے پنشن ، پروویڈنٹ فنڈ ، ہیلتھ انشورنس وغیرہ محنت کش طبقے کے حقوق ہیں جو کئی دہائیوں کی جدوجہد کے ذریعے حاصل کیے گئے ہیں۔ یہ فوائد اب پنشن فنڈز کی پرائیویٹائزیشن ، پروویڈنٹ فنڈز اور سبسڈی اور فلاحی مراعات میں کٹوتی کے ذریعے پلٹائے جا رہے ہیں اور اس طرح کے اقدامات جو آج پوری دنیا میں نافذ کیے جا رہے ہیں خاص طور پر سماجی تحفظ کے فوائد کو نشانہ بناتے ہیں تاکہ محنت کش لوگوں پر بوجھ ڈالیں۔ایس این ایس کے مطابق اوم پرکاش جنرل سکریٹری CITU نے جموں وکشمیر حکومت کو تنقید کا نشانہ بنایا کہ وہ جموں و کشمیر میں دستکاری کی صنعت کو مدد فراہم کرنے کے لیے کوئی قدم نہیں اٹھا رہی۔ وادی کشمیر میں دستکاری سے وابسطہ ہزاروں مزدور موجود ہیں اور حکومت کی دیوالیہ پالیسیوں کی وجہ سے ان مزدوروں کو بہت سارے مسائل کا سامنا ہے اور وہ بھوک کشی پر ہیں۔ انہوں نے حکومت پر زور دیا کہ وہ دستکاری صنعت کو بچانے کے لیے آگے آئے۔ سی آئی ٹی یو نے دوسکول اساتذہ ، ایک ممتاز کشمیری پنڈت ایم ایل بندرو اور ایک مہاجر مزدور کے حالیہ قتل کی مذمت میں قرارداد منظور کی۔ بے گناہ لوگوں پر حملوں کو فوری طور پر ختم کیا جائے۔ سی آئی ٹی یو نے 26 نومبر 2021 کو مرکزی حکومت کی محنت کش طبقہ مخالف پالیسیوں کے خلاف جموں و کشمیر میں ایک بڑا مظاہرہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے جس میں 4 لیبر کوڈز کو واپس لینے کا مطالبہ کیا جائے گا جس میں ہزاروں مزدوروں کی شرکت متوقع ہے۔ اس موقع پر خطاب کرنے والوں میں عبدالرشید نجار ، عبدالرشید پنڈت CITU لیڈران ، لطیفہ گنائی آنگن واڑی لیڈر ، مصرہ اور مبینہ آشا لیڈران شامل ہیں۔

 ہم حقوق کی بحالی چاہتے ہیں جو ہمیں آئین اور پارلیمنٹ نہیں دئے ہیں /تاریگامی

سرینگر// جموںوکشمیر کے عوام کے حقوق اور دستور بحال کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے پیپلز الائنس کے ترجمان نے کہاکہ آئین اور قانون نے جو حقوق جموںوکشمیر کے لوگوں کو دئے ہیں اُنہیں بحال کیا جانا چاہئے۔ انہوںنے کہاکہ رکاوٹیں سیاسی پارٹیوں کی طرف سے نہیں بلکہ حکومت کی طرف سے کھڑی کی جارہی ہیں ۔ پیپلز الائنس کے ترجمان نے کہاکہ جموںوکشمیر کے ساتھ پچھلے دو سالوں سے جو سلوک روا رکھا گیا وہ غیر قانونی ، غیر آئینی اور غیر اخلاقی ہے۔ انہوںنے سوالیہ انداز میں کہاکہ جب پارلیمنٹ ، پنچایتی ، ڈی ڈی سی چناو کرانے میں کوئی دقت نہیں تو بھلا اسمبلی الیکشن کرانے میں کیا دشواریاں پیش آرہی ہیں۔ یو پی آئی کے ساتھ ایک خصوصی انٹرویو کے دوران پیپلز الائنس فار گپکار الائنس کے ترجمان یوسف تاریگامی نے کہاکہ جموںوکشمیر میں جمہوری عمل شروع کرنے میں کسی بھی سیاسی پارٹی نے آج تک اڑچن نہیں ڈالی ۔ انہوںنے کہاکہ جموںوکشمیر کی تاریخ رہی ہے کہ جب بھی جمہوری راستے میں رکاوٹیں حائل رہی وہ گورنمنٹ آف انڈیا کے کئی ذعمائوں کی طرف سے ہی ہوئی ہے ۔ انہوںنے کہاکہ جموں وکشمیر اور لداخ کے لوگ کسی بھی مذہب ، ذات پات سے تعلق رکھتے ہو وہ بہتر زندگی ، بہتر ماحول چاہتے ہیں تاکہ اُن کی زندگی سنور سکیں ۔ اسمبلی انتخابات میں پیپلز الائنس کی جانب سے شرکت کرنے کے بارے میں پوچھے گئے سوال کے جواب میں یوسف تاریگامی نے کہاکہ سیاسی پارٹیوں نے کھبی بھی جمہوری عمل میں رکاوٹ نہیں ڈالی ۔ انہوںنے کہاکہ مسند اقتدار پر جلوئے افروز ہونے والوں کی طرف سے ہی دشواریاں اور رکاوٹیں ڈٓلی جارہی ہیں۔ انہوںنے کہاکہ جموںوکشمیر کے لوگ حقوق چاہتے ہیں جو اُن سے زبردستی چھیننے گئے ہیں۔ انہوںنے کہاکہ ہمیں دستوار چاہئے اوروہ وعدئے جو ہم سے وقتاً فوقتاً کئے گئے۔ انہوںنے کہاکہ ہمارے حقوق کو پامال نہ کیا جائے ۔ ترجمان کے مطابق جموںوکشمیر کے ساتھ پچھلے دو سالوں سے جو سلوک روا رکھا گیا وہ غیر قانونی ، غیر آئینی اور غیر اخلاقی ہے ۔ انہوںنے کہا کہ ہمیں وہ حقوق دئے جائیں جو ہمیں آئین اور پارلیمنٹ نے دئے تھے۔ یوسف تاریگامی کے مطابق الیکشن کا سفر ابھی بہت دور ہے ۔ انہوںنے کہاکہ اگر یہاں پر پارلیمانی ، پنچایتی ، ڈی ڈی سی چناو کرانے میں کوئی دقت نہیں تو بھلا اسمبلی چناو کرانے میں مرکز کو کیا دشواریاں پیش آرہی ہیں۔ انہوںنے کہاکہ دراصل حکومت کو ڈر اور خوف ہے کہ اسمبلی اگر یہاں وجود میں آئی تو وہ یہاں نئے قوانین پاس نہیں کرا سکتے ہیں۔ انہوںنے کہاکہ جو نئے قوانین نافذ کئے گئے ہیں وہ اسمبلی کو اعتماد میں لئے بغیر ہی پاس کئے گئے ہیںلہذا وہ اسمبلی چناو کیلئے فی الحال تیار نہیں دکھائی دے رہے ہیں۔ نئی دہلی میں آل پارٹی میٹنگ کے بارے میں پوچھے گئے سوال کے جواب میں یوسف تاریگامی نے بتایا کہ نشست کے دوران وزیر اعظم نریندر مودی کو بتایا گیا کہ آپ نے تاریخی ریاست کو تقسیم کیا ، اس کی حیثیت کو تبدیل کیا جس کو فوری طورپر بحال کرنے کی ضرورت ہے۔ انہوںنے کہاکہ میٹنگ کے دوران وزیر اعظم کو بتایا گیا کہ کشمیر ، جموں اور لداخ کے لوگوں کی مانگ ہے کہ خصوصی حیثیت کو بحال کیا جائے۔

 

متعلقہ خبریں

صدرِ جموں وکشمیر نیشنل کانفرنس و رکن پارلیمان ڈاکٹر فاروق عبد للہ نے حضرت میرک شاہ صاحب ؒ کے سالانہ عرص مبارک باد.

کونہِ بل پانپور میں آج صبح ایک دلدوز سانحہ پیش آیا جسمیں دو افراد موت کی آغوش میں چلے گۓ۔ کونہِ بل علاقے میں کھیتوں.

جنوبی قصبہ قاضی گنڈ میں ٹرین کی ٹکر سے 50 سال کی خاتون لقمہ اجل بن گئیں فہمیدہ بانو زوجہ بشیر احمد ساکنہ پازنتھ نامی.

سرینگر کے صورہ اور اونتی پورہ کے آگہانجی پورہ علاقوں میں فوج و فورسز اور عسکریت پسندوں کے مابین مسلح تصادم آرائیوں.

سرینگر /26مئی جنوبی قصبہ اونتی پورہ کے آگہناز پورہ علاقے میں جمعرات کی شام فوج و فورسز اور عسکریت پسندوں کے مابین.