صد فیصدی ٹیکہ کاری اور متعلقہ ضلعی ترقیاتی کمشنروں کی اجازت کے بعد اعلیٰ تعلیمی اداروں کو کھولنے کی اجازت ہوگی
سرینگر/29اگست/کورونا وائرس کے کیسوں میں اتار چڑھائو کے بیچ انتظامیہ نے اعلان کیا ہے کہ جموں کشمیر میں تمام اسکولوں اور کوچنگ سنیٹر تاحکم ثانی بند رہیں گے تاہم ضلع ترقیاتی کمشنروں کی جانب سے اجازت نامہ ملنے اور طلبہ و عملے کی صد فیصدی ٹیکہ کاری کے بعد ہی اعلیٰ تعلیمی اداروں کو محدو د تعداد میں کھولنے کی اجازت دی گئی ہے ۔ اسی دوران شام 8سے صبح کے 7بجے تک شبانہ کرفیو کا نفاذ بدستور جاری رہے گا ۔ سی این آئی کے مطابق گزشتہ کئی دنوں سے کورونا کی دوسری لہر میں اتار چڑھائو دیکھنے کو ملتا ہے جس کے دوران کبھی کیسوں میںکمی آتی ہے اور کبھی کیسوں میں اضافہ ہوتاہے جس کو مد نظر رکھتے ہوئے انتظامیہ نے اتوار کو ایک اور حکمنامہ جاری کیا گیا جس میں لکھا گیا کہ جموں کشمیر میں تمام تعلیمی ادارے تا حکم ثانی بند رہیں گے ۔ حکمنامہ کے مطابق ایک میٹنگ چیف سیکرٹری کی صدار ت میںمنعقد ہوئی جس میں انتظامیہ کے دیگر آفیسران نے شرکت کی اور فیصلہ لیا گیا کہ تمام تعلیمی ادارے فی الحال تعلیمی سرگرمیوں کیلئے بند ہی رہیں گے تاہم داخلہ سرگرمیوں کیلئے جانے کی اجازت ہو گی ۔ تاہم حکمنامہ میں کہا گیا ہے کہ اعلیٰ تعلیمی اداروں کو محدود حاضری کے ساتھ کھولنے کی اجازت ہو گی لیکن اس کیلئے ایک تو طلبہ اور عملے کا صد فیصدی ویکسنیشن ہونالازمی ہے جبکہ اس کے علاوہ متعلقہ ضلعی ترقیاتی کمشنروں سے خصوصی اجازت نامہ بھی حاصل کرنا لازمی ہوگا ۔ ساتھ ہی ضلع مجسٹریٹوں سے کہا گیا ہے کہ وہ تمام اقدامات کو سختی سے عمل میںلائیں ۔ تاہم شام 8سے صبح کے 7بجے تک شبانہ کرفیو کا نفاذ بدستور جاری رہے گا ۔
