افسانہ۔۔۔۔۔۔۔چیل اور چنار 113

افسانہ………………..خوشـبــو

راجہ یوسف

ا ٓج میرا اپنا ہی فیصلہ میری بے چینی کا سبب بن چکا تھا۔ میری سوچ کے سوتے منجمد ہورہے تھے۔ سامنے ایک نہ ہٹنے والی دھند سی چھائی تھی۔جو میرے ذہن و دل کو بے انتہا اندھیرے میں ڈبو رہی تھی ۔ ساتھ ہی میرے روم روم سے درد کی ٹھیسین ابھر رہی تھیں اور میرے دل سے ایک کسک ، ایک ہوک سی اٹھ رہی تھی ۔ میں خود کو ہمیشہ غیر جانبدار منصف سمجھتا رہا ہوں۔ میراہر فیصلہ حق گوئی کا جیتا جاگتا ثبوت مانا جاتا ہے ۔۔۔ پر آج میرااپنا ہی غیرجانب دارانہ فیصلہ میرے اندر تلاطم بپا کررہا تھا۔ میں اپنے کمرے میں قید ہوکر رہ گیا تھا۔ میری بیوی رضیہ اور میرے دونوں بیٹے ا ٓصف اور عارف مجھ سے ناراض تھے۔۔۔ میں نے اپنا فیصلہ افشاں کے حق میں سنایا تھا ۔۔۔ افشاں! جو ابھی تھوڑی دیر تک ہماری بہو ، میرے بیٹے عارف کی بیوی تھی۔ اپنا سارا سامان سمیٹ کراپنے میکے جا چکی تھی۔ لیکن پورا گھر اس کے سوگ میں بہت زیادہ اداس اور غم زدہ تھا ۔ میرے غیر جانب دارانہ فیصلے نے سبوں کے چہروں سے خوشیاں نوچ لی تھیں ۔۔۔ دو سال پہلے افشاں ہمارے گھربہوبن کرا ٓئی تھی۔ یہ شادی ہماری مجبوری بن گئی تھی ۔ افشاں اور عارف سکول کے دنوں سے ہی ایک دوسرے سے محبت کرتے تھے۔ افشاں بڑے باپ کی اکلوتی بیٹی تھی۔ ایم ایڈ کے بعد اس کی سرکاری نوکری بھی لگ گئی تھی۔ وہ افیشنٹ ٹیچر تھی۔لیکن پھر بھی میرے بے کار بیٹے عارف سے شادی کرنا چاہتی تھی۔ عارف ابھی ابھی پوسٹ گریجویشن سے فارغ ہوکر آیا تھا۔ میں چاہتاتھاکہ وہ ریاست سے باہرجاکر کسی اچھی یونیورسٹی سے P hd. میں داخلہ لے لے۔ لیکن افشاں کے پیار میں وہ کچھ ایسا گرفتار ہوچکا تھا کہ سب کچھ تیاگ دیا ۔ اپنی ماں کو بھی اپنے ساتھ ملا لیا ۔ رضیہ بھی اس رشتے سے خوش تھی۔ شاید اس لئے کہ افشاں سرکاری ملازمہ تھی، اور امیر باپ کی اکلوتی بیٹی بھی ۔ اس شادی سے ہمارابیٹا مفت میں کروڑوں کی جائیداد کا مالک بن رہا تھا ۔پر میں حیران تھا کہ افشا ں کے والدین بھی اس رشتہ کے لئے ایڈی چوٹی کا زور لگا رہے تھے۔ مجھے اس شادی پر اعتراض تھا۔ اعتراض یہی تھا کہ عارف میرا چھوٹابیٹا تھا۔ میرا بڑا بیٹا آصف ابھی یونیورسٹی کے فائینل ائیر میں ہی تھا۔ اور چھوٹے بیٹے کی شادی ۔۔۔(جو ابھی بے کار بیٹھا تھااور آگے کی تعلیم کے بارے میں سیریس بھی نہیں تھا) پر میں رضیہ کی ضد کے سامنے مجبور ہوگیا اور یہ شادی ہوگئی ۔۔۔ شادی کے بعد وہی ہوا جس کا مجھے ڈر تھا۔ عارف نے پڑھائی کے بجائے کہیں کنٹریکچول نوکر ی شروع کی تھی۔اس کی ا ٓگے کی تعلیم کا میرا سپنا چکناچور ہورہا تھا ۔۔۔ویسے اس شادی سے ہمارے گھر کے لئے بہت کچھ اچھا بھی ہوا تھا ۔ خاص طور سے میرے اور رضیہ کے لئے تو بہت بہتر ہوگیا تھا۔ افشاں نے پورا گھر سنبھال لیا تھا۔میری چھوٹی سی چھوٹی بات کا خیال رکھتی تھی۔ جوتے کی پالش سے لے کر میرے لئے ڈرس تک تیار رکھتی تھی ۔ رضیہ کو کس وقت کونسی دوا ئی کھانی ہے۔ کون سی نئی دوا ئی لانی ہے ۔ ڈاکٹر کے ساتھ کب اپوینٹمنٹ ہے، یہ سب افشاں ہی د یکھتی تھی ۔اور سب سے بڑی بات یہ کہ افشاں میرے بڑے بیٹے آصف کی اچھی دوست بن گئی تھی۔ اس دوران ا ٓصف کو ایک نیوز چینل میں نیوز ایڈیٹرکی جاب لگ گئی تو گھر میں زیادہ ہی خوشیاں آگئیں تھیں ۔
دو سال کیسے بیت گئے یہ پتہ بھی نہیں چلا۔ لیکن رضیہ بہت پریشان رہنے لگی تھی۔ اس نے دبے لفظوں میں ایک دو بارمجھ سے کہا بھی ۔ پر میں نے دھیان نہیں دیا۔ اسے غم تھا عارف باپ نہیں بن رہا ہے ۔اور میں سوچ رہا تھاکہ بچے تو ماں باپ کی مرضی سے ہی پیدا ہوتے ہیں۔ کیا پتہ عارف اور افشاں ابھی بچے نہ چاہتے ہوں ۔پراب کبھی کبھی مجھے بھی گھر میں ایک چھوٹے ننے منے کی کمی محسوس ہورہی تھی۔۔۔ پھر ایک دن وہ سب کچھ ہوگیا جس سے ہمارے گھر کی ساری خوشیاں تنکوں کی طرح بکھر گئیں ۔جب آصف نے مجھے بتایا ۔
’’ ڈیڈی اگرمیں بتادوں توا ٓپ کو یقین نہیں آئے گا۔ لیکن یہ سچ ہے ۔ ‘‘
’’ پہیلیاں نہ بجھائو ۔ صاف صاف کہو کیا کہنا چاہتے ہو ؟ ‘‘ میں اسے تیکھی نظروں سے دیکھ رہا تھا ۔
’’ عارف ڈرگس کر رہاہے ۔ اور وہ اس لت میں بری طرح سے مبتلا ہوچکا ہے ۔‘‘
آصف نے بتا تو دیا پر میں کچھ سمجھا نہیں۔ اصل میں میرے لئے یہ سب کچھ ہضم کرناممکن ہی نہیں تھا ۔۔۔ میرا بیٹا ۔ عارف ۔۔ اور ڈرگس ۔۔میں یقین کرنے کے لئے تیار ہی نہیں ہورہا تھا ۔۔۔ یہ ایک طوفان تھا جس میں میری عزت ، رضیہ کے سارے خواب اور عارف کا مستقبل بہے جارہا تھا اور میں بے یارو مددگار خود کو لٹتے دیکھ رہا تھا ۔۔۔ اب ہمارے گھر میں کسی مستقبل کی باتیں نہیں ہورہی تھیں۔ اب ہم ایک دوسرے کے ساتھ خوشیاں نہیں بانٹ رہے تھے۔ بس ہر چہرے سے اداسی ، غم ، یاس اورناامیدی ٹپک رہی تھی۔ ۔۔ میری باتوں میں چڑھ چڑھا پن آرہا تھا۔ میری روز کسی نہ کسی بات پر رضیہ سے جگڑا ہورہا تھا۔وہ ہر وقت عارف کا سپورٹ کرتی تھی تو میرے تن بدن میں آگ لگ جاتی تھی۔ افشاں یہ سب کچھ شادی سے پہلے ہی جانتی تھی ۔ اور عارف اسے وعدہ کرچکا تھا کہ وہ شادی کے بعد یہ سب کچھ چھوڑ دے گا۔ لیکن یہ سب عارف کا جھوٹ تھا ، فریب تھا ۔۔۔ اب تو عارف حد پار کررہا تھا۔پہلے پہل وہ افشان سے پیسے مانگ کر لیتا تھا، لیکن جب اس نے پیسہ دینا بند کردیا تووہ اسے زور زبردستی کرنے لگا۔ اب بات مارپیٹ تک پہنچ چکی تھی ۔ جب افشاں نے یہ بات رضیہ کو بتا دی تو اسنے افشاں کی ایک بات نہ سنی۔ وہ بیٹے کے خلاف ایک لفظ بھی سننا نہیں چاہتی تھی۔ پھر بات آصف تک پہنچ گئی اور آصف سے مجھ تک ۔۔۔ تو ہم نے فیصلہ کیا کہ عارف کی یہ لت ہم سب کو لے ڈوبے گی اس لئے اس کو کسی ایسے ہسپتال میں بھرتی کروادیں گے ۔جہاں سے بات باہر تک نہیں پھیلے گی ۔ میری نظر میں پولیس کا ریہبلِ ٹیشن سنٹر زیادہ بہتر تھا۔وہاں کا ایس۔ ایس۔پی میری جان پہچان کا تھا اور وہ یہ بات کسی سے کہتابھی نہیں ۔ لیکن جونہی رضیہ نے پولیس ہسپتال کا نام سناتو وہ چیختی چلاتی رہی ۔ اس پر دورے پڑنے لگے ۔ ہمیں عارف کے بدلے اسے کئی بار اسپتال میں داخل کرنا پڑا۔۔۔ عارف کی عادتیں بڑھ رہی تھیں تو دونوں میاں بیوی کے بیچ تناو بھی بہت زیادہ بڑھ رہا تھا۔۔۔جھگڑا، مارپیٹ اور گالی گلوچ اب ان کا روز کا معمول بن چکا تھا ۔۔۔ اس دن تو حد ہی ہوگئی جب عارف نے افشاں کے لاکر سے پانچ لاکھ کا ہارچرایا ۔ تب پتا چلا عارف اس سے پہلے بھی افشاں کی کئی چیزیں بھیج کر کھا چکا تھا۔
گھر میں کافی ہنگامہ ہوا تھا۔ افشان بھی بہت ضدی اور جلد باز تھی۔ اس نے عارف کے ساتھ شادی کرنے میں بھی اپنی ضد اور جلد بازی سے کام لیا تھا اور اب وہ عارف سے علحیدہ ہونے میں بھی اپنی ضد اور جلد بازی کا مظاہرہ کررہی تھی ۔ وہ پھر ضد پر اتر آئی تھی۔ کسی بھی حال میں عارف کے ساتھ نہں رہنا چاہتی تھی۔ اس نے عارف پر کئی الزام لگادیئے۔جس میں ایک یہ بھی تھا کہ عارف میںبیوی رکھنے کی صلاحیت ہی نہیں ہے۔ثبوت سامنے تھا۔ دو سال شادی کے بعد بھی ان کا کوئی بچہ نہیں ہوا تھا۔ افشاں کے ساتھ اس کاباپ اور دوسرے رشتہ دار بھی کھڑے ہوگئے تھے۔ رضیہ اب بھی اپنے بیٹے کا سپورٹ کررہی تھی۔ آخر بات میرے فیصلہ دینے تک آگئی تھی۔ ۔۔ میںنے پورے کیس پر از سر نو غور کیا تو مجھے ہر زاویہ سے افشاں بے قصور لگی اور عارف مجرم نظر آرہا تھا۔ چونکہ مجھے عارف میں بدلاو کی کوئی سبیل یا ڈرگس چھوڑدینے کاکوئی بھی مثبت پہلو نظر نہیں آرہا تھا اور ایک جوان لڑکی کی زندگی تباہ ہورہی تھی جو میں نہیں دیکھ سکتا تھا ۔۔۔ میں ایک منصف ہوں اور ہمیشہ سچائی کا ساتھ دیتا رہا ہوں ۔۔۔ یہاں بھی میں نے وہی کیا ۔ اپنے انصاف سے کام لیا ۔اپنے بیٹے کا کوئی لحاض نہیں کیا ۔ عارف کو ملزم جان کر افشاں کو آزاد کرالیا ، اس کو طلاق دلادی۔۔ ۔ افشاں اور اس کے سارے رشتہ دار حیرت زدہ تھے ۔ میں نے اس کیس میں اپنے بیٹے ، اپنے خون کے خلاف بہت زیادہ بولا تھا ۔ اور اپنے بیٹے کے خلاف فیصلہ سناتے وقت میرے ہاتھ نہیں کپکپائے تھے ۔۔۔
پھر کچھ ایسا ہوا کہ عارف ایک دم بدل گیا۔ اسے چپ سی لگ گئی۔ رضیہ بہت دنوں تک روتی رہی۔ گھر میں کوئی بھی مجھ سے ٹھیک طرح سے بات نہیں کررہا تھا ۔ عارف نے اپنا فیصلہ سنایا اوروہ مزید پڑھائی کے لئے ملک سے باہر چلا گیا۔ اب میں اسے روکنا چاہتا تھا پر رضیہ نے اس پر کوئی بھی ردعمل نہیں دکھایا تھا۔ عارف نے وہاں پر منیجمنٹ کی ڈگری لی اور وہیں کسی کمپنی میں جاب شروع کی۔ ۔۔ آصف بھی اپنے کام میں مشغول ہوگیا تھا ۔۔ ۔ اب تو سب کچھ معمول پر آگیا تھا۔ بس اتنی سی بات ہوگئی تھی کہ اس کے بعد ہمارے گھر میں کسی کے ہونٹوں پر مسکراہٹ نہیں کھل پائی تھی ۔۔۔ آج کئی دنوں سے میں ایک بڑی کشمکش میں پھنسا تھا۔ اپنے چمبر میں کافی دیر سے اس کیس پر غور کررہا تھا ۔جو افشاں کا کیس تھا۔ اس کے خلاف اس کے شوہر نے کیس دائر کیا تھا کہ افشاں ایک پاگل عورت ہے اور اس کو ا سے چھٹکارا دلایا جائے ۔ دو بار افشاں میرے کورٹ میں بھی آئی تھی۔ جب پہلی بار میں نے اسے دیکھا تو میں دھنگ رہ گیا۔ اس کے چہرے پر کوئی چاشنی، کوئی رونق نہیں تھی ۔اس کی آنکھیں ویران لگ رہی تھیں ۔ وہ ہونقوں کی طرح کورٹ میں ادھر اُدھر دیکھ رہی تھی ۔ایک دو بار اس کی نظریں میری نگاہوں کے ساتھ بھی ٹکرائی ، لیکن اس کے چہرے پر کوئی بھی تاثر نہیں ابھرا تھا۔ جیسے اس نے مجھے پہچانا بھی نہیں تھا۔۔۔ میں اس کیس میں بہت زیادہ دلچسپی لے رہا تھا۔ میںیہ جاننے کے لئے بے قرار تھا کہ ہمارے گھر سے جانے کے بعد اس پر ایسی کیا بیتی ہے جو وہ کورٹ کچہری تک پہنچ گئی تھی ۔ جب اس کی زندگی کے حالات سے میں با خبر ہوگیا تو میرے رونگٹھے کھڑے ہوگئے ۔۔۔
اس کے باپ نے پھر اس کی تین بار شادی کردی تھیں ۔ دو جگہوں سے طلاق ہو چکی تھی اور یہ تیسرا عدالت سے خلع مانگ رہا تھا ۔۔۔
افشان اپنے باپ کی اکلوتی بیٹی تھی اور اس کے پاس زمین جائیداد کی کوئی کمی نہیں تھی۔ خود بھی سرکاری ملازم تھی اس لئے کوئی بھی اس کے ساتھ شادی کرنے کے لئے تیار ہوجاتا تھا۔ لیکن اب تک اس کے دو شوہر اسے طلاق دے کر بھاگ چکے تھے۔ اب یہ تیسرا آدمی تھا جس سے افشاں کے باپ نے ایگریمنٹ لیا تھا کہ اگر وہ افشاں کو چھوڑ دے گا تو اس کو ایک خطیر رقم ادا کرنی ہوگی ۔ وہ آدمی دولت کی لالچ میں آکر شادی تو کر بیٹھا لیکن کچھ دنوں کے بعد ہی افشاں کو چھوڑکر بھاگ گیا تھا۔ جب افشاں کے باپ نے یہ شرط یاد دلا دی کہ یا تو افشاں کے ساتھ رہو یا وہ رقم ادا کرو جو شادی سے پہلے ایگریمنٹ میں لکھی ہے تو اس نے انصاف کے لئے عدالت کا دروازہ کھٹکھٹایا ۔ آج کیس کی پھر پیشی تھی اور میں اپنے چمبر میں بیٹھا اس ادھیڑ بن میں تھا کہ آخر افشاں کا شوہر اس سے خلع لینے کے لئے کیا جواز پیش کرے گا ۔۔۔ آخر کورٹ لگ گیا۔ وکلاٗ جرح کررہے تھے اور میں بار بار افشاں کی طرف دیکھ رہا تھا۔جو بے نیاز کبھی عدالت کی چھت اور کبھی آس پاس بیٹھے اورکھڑے لوگوں کو آنکھیں پھاڑ پھاڑ کر دیکھ رہی تھی ۔ وکیل اس کے شوہر سے سوال جواب کررہے تھے۔ میں نے ان کو روکا اور خود ہی افشاں کے شوہر سے سوال کیا۔ ’’ تم اسے خلع کیوں چاہتے ہو ۔‘‘
’’ جج صاحب وہ اس لئے کہ میں اسے طلاق نہیں دے سکتا ہوں۔ کیونکہ اس کے باپ نے مجھ پر جوبوجھ ڈال رکھا ہے ۔ میں اُسے کبھی اتار ہی نہیں سکتا ہوں ۔‘‘ ’’ پر تم اسے علٰحیدگی کیوں چاہتے ہو ؟ ‘‘ میں نے ایک اور سوال کیا ’’ جناب ۔۔۔ یہ ایک پاگل عورت ہے ۔ میری لالچ نے اسے میرے سر منڈھ دیا ہے ۔ ‘‘
’’ کیا پاگل پن کیا ہے اس نے ۔ یہ تو بالکل بھی پاگل نہیں لگ رہی ہے ۔۔۔‘‘
’’ جج صاحب ۔ میں ہی کیا اسے پہلے جو اس کے تین شوہر تھے وہ اسے چھوڑ کر بھاگ کیوں گئے ہیں ۔۔۔ اسی سے پوچھئے نا‘‘
’’ کیا کرتی ہے یہ ؟ ‘‘ میں نے پہلے افشاں کو دیکھا پھر اس کے شوہر سے سوال کیا۔
’’ جناب ۔ سنا ہے جب یہ پڑھتی تھی ۔ انہی دنوں اس نے کسی سے محبت کی ہے ۔پھر دونوں کی شادی بھی ہوگئی ۔ وہ شادی کیوں ٹوٹ گئی مجھے نہیں معلوم ۔۔۔ اب جس کے ساتھ بھی اس کی شادی ہوجاتی ہے۔ یہ بڑے شوق سے شادی کا جوڑا پہن تو لیتی ہے، اور عجلہ عروسی تک بھی آجاتی ہے ۔ جب اس کے قریب جائو تو یہ آدمی کو سونگتی ہے ۔ پھر چیختی ہے ، چلاتی ہے ۔۔۔ تم میرا پہلا پیار نہیں ہو ۔ تم میں میرے پہلے پیار کی خوشبو نہیں ہے ۔۔۔ پھر شادی کا جوڑا پھاڑ کر بھاگ جاتی ہے ۔ ۔۔ تنہائی میں روتی رہتی ہے اور لوگوں کے سامنے ہنستی رہتی ہے ۔۔۔‘‘
میں ہکا بکا افشاں کو دیکھ رہا تھا اور وہ لمحہ یاد کرہاتھا جب میں نے اس کے حق میں طلاق کا فیصلہ سنایا تھا اور یہ مجھے حیرت سے دیکھتی رہی تھی ۔۔۔ اب مجھے اپنے غیرجانب دارانہ منصف ہونے پر پشتاوا ہورہا تھا اور افشاں سے زیادہ اپنی ضد اور تجلدبازی پر افسوس ہورہا تھا ۔۔۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں