جاوید آزر سمیت کئ نامور ہستیوں کی شرکت
سبزار احمد بٹ۔۔۔اویل نورآباد
پہلی قسط
کاروان شعرائے اردو نے 31 جولائی 2021 بروز سنیچر کو ایوان صحافت سرینگر میں ایک شاندار نعتیہ مشاعرے کا انعقاد کیا. یہ مشاعرہ ایچ کے گروپ آف انڈسٹریز سرینگر کے اشتراک سے منعقد پایا جبکہ میڈیاپارٹنر ہفت روزہ ندائے کشمیر رہے۔ مزکورہ نعتیہ مشاعرے میں کشمیر کے طول و عرض سے آئے ہوئے شعرائے کرام نے شرکت کی۔ جن میں جناب بشیر داد، علی شیدا، ستیش ومل، شفیع شیدا، غلام حسن غمگین، ساگر سرفراز، مصروفہ قادر کے علاوہ کشمیر کے چند نامی گرامی شاعروں نے شرکت کی ۔کشمیر اعظمی کے مدیر اعلیٰ جناب جاوید آزر نے اس نعتیہ مشاعرے کی صدارت کی ۔جبکہ سابقہ ضلع ترقیاتی کمشنر جناب ایجاز احمد ککرو مہمان ذی وقار کی حیثیت سے اس نعتیہ مشاعرے میں موجود رہے۔مزکورہ نعتیہ مشاعرے میں نائب ضلع ترقیاتی کمشنر جناب سعید محمد حنیف بطور مہمان خصوصی موجود رہے ۔کاروان شعرائے اردو کے روح رواں پرویز مانوس نے استقبال کرتے ہوئے مہمانون کو گلدستے پیش کئے ۔نعتیہ مشاعرے کی شروعات تلاوت کلام پاک سے ہوئی ۔تلاوت پیش کرنے کی سعادت جناب قاری سعید مہدی نے حاصل کی ۔جس کے بعد نعت بہ حضور اکرم صلی علیہ وسلم پیش کی گئی جو عامر علی غازی نے کی ۔جنہوں نے تہت میں نعت پڑھی خطب استقبالیہ کاروان شعرائے اردو کے صدر ڈاکٹر تنویر طاہر نے پیش کیا جنہون نے کاروان شعرائے اردو کا مدلل تعارف پیش کیا اس کاروان کے اغراض و مقاصد کی وضاحت کیساتھ ساتھ اس بات کا انکشاف کیا گیا کہ اس کاروان کا اہم مقصد نئے شاعروں، ادیبوں، اور قلمکاروں کی حوصلہ افزائی کرنا ہے ۔تنویر طاہر نے شعرو ادب کی دنیا میں اخبارات کے رول کی بھی سرہانہ کی اس کے بعد نعتیہ مشاعرے کے ناظم جناب عارض ارشاد نے مشاعرے کی باضابطہ شروعات کے لیے توصیف رضا کو دعوت دی جنہوں نے نعت پڑھ کر سامعین کو محظوظ کیا
۔جس کے بعد جاوید عارف نے نعت سنائی ۔اس کے بعد عزرہ سفاق ،کشمیر کے نامور شاعر جناب شفیع شاداب،اور ستیش ومل جیسے نامور شعراء نے اپنا اپنا نعتیہ کلام پڑھ کر خیر دارین حاصل کیا اس طرح سے نعتیہ مشاعرے کی یہ پہلی نشست احسن طریقے سے انجام کو پہنچی ۔دوسری نشست کی شروعات بھی کلام پاک سے ہوئی کلام پاک پیس کرنے کی سعادت جناب تسنیم الرحمان نے کی ۔اس کے بعد نعتیہ مشاعرے کے ناظم عارض ارشاد نے نعت پڑھنے کی سعادت حاصل کی ۔پھر نسنیم الرحمن نے اپنی نعت پڑھی جس نے اپنی نعت کچھ اس طرح سے ادا کی کہ محفل میں رقحت آمیز مناظر دیکھنے کو ملے۔اس کے بعد مصروفہ قادر، اور شبینہ صاحبہ اور جناب گلزار جعفر نے اپنا نعتیہ کلام پڑھا ۔اس طرح سے یہ نعتیہ مشاعرہ عروج پاتا گیا ۔اس کے بعد وادی کے نامور شاعر جناب غلام حسن غمگین نے اپنی نعت ادا کی ۔غلام حسن غمگین نے اپنے منفرد انداز میں ایسی نعت پڑھی کہ پوری محفل میں سماع بند گیا ۔اس خوبصورت سماع کے بعد جناب ساگر سرفراز نے اپنی ایک نعت تہت میں اور ایک نعت ترنم میں ادا کی ۔سامعین اتنے متاثر ہوئے کی سب ان کی نعت ان کے ساتھ ساتھ گنگناتے لگے۔ نعتیہ مشاعرے کے آخری حصے میں پرویز مانوس اور. بزرگ شاعر جناب محمد یوسف مشہور کو سٹیج پر مدعو کیا گیا ۔جنہوں نے آقا کی خدمت میں اپنا نذرانہ پیش کیا ۔اس کے بعد ایوان صدارت می بیٹھے مہمان حضرات نے اپنے اپنے تاثرات پیش کئے۔ اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے بشیر دادا نے کہا کہ نعت لکھنے کے لئے آپ کا تن من صاف ہونا چاہیے۔ بشیر دادا نے اپنی نعت ادا کی اس کے بعد محمد اشرف باباسٹیج پر مدعو کئے گئے ۔ جنہوں نے سامعین کو مرحوم حاجی غلام حسن میر کا تعارف کروایا جن کے اعزاز میں یہ مشاعرہ منعقد کرایا گیا تھا ۔آخر پر دوسری نشست کے صدر جناب علی شیدا کو مدعو کیا گیا جنہوں نے اپنے تاثرات پیش کئے ۔ جنہوں نے اس بات پر زور دیا کہ شاعری میں نئے مضامین درج کرنا وقت کی اشد ضرورت ہے ۔نئی نسل کو انہوں نے مباکباد پیش کی کہ ان کی نئی فکر اور جہت قابل تعریف ہے انہوں نے کاروان شعراء اردو کو یہ کامیاب نعتیہ مشاعرہ منعقد کرنے کے لیے مبارکباد پیش کی اس کے بعد انہوں نے اپنی حالیہ تصنیف لا بہ لا میں سے سامعین کو ایک نعت سنائی ۔آخر پر سابقہ ضلع ترقیاتی کمشنر ایجاز احمد ککلرو نے اپنے خیالات کا اظہار کیا ۔جس کے بعدشرکاء میں اسناد تقسیم کی گئیں مجلس کے اختتامی کلمات جناب پرویز مانوس نے پیش کیا ۔دیکھا جائے تو یہ ایک کامیاب نعتیہ مشاعرہ ہوا۔اس طرح کے مزید مشاعرے کرنے کی ضرورت ہے تاکہ نئی نسل کی حوصلہ افزائی کر کے ان میں موجود صلاحیتوں کو اجاگر کیا ہے ۔یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ دوسروں کی حوصلہ افزائی وہیں لوگ کرتے ہیں جن میں حوصلہ موجود ہو ۔وادی میں صلاحیتوں کی کمی نہیں ہے بس ان صلاحیتوں کو نکھارنے کی ضرورت ہے ۔میں ذاتی طور پر کاروان شعرائے اردو کو یہ کامیاب نعتیہ مشاعرہ منعقد کرنے پر مبارکباد پیش کرتا ہوں اور امید کرتا ہوں کہ اس طرح کے مزید مشاعرے آنے والے وقت کی بھی منعقد کرائے جائیں گے ۔
����
علی شیدا
مقامِ نورِ ازل ہے زمانِ رحمت ہے
حضورؐ آپ کا اسوہ جہانِ رحمت ہے
سخن وحی سے جڑا ہے ادا ہے خوشبو کی
حریمِ غنچہ دہن میں زبانِ رحمت ہے
مہکتی سانس میں زمزم بھری طراوت ہے
سبیلِ پیاس کا ضامن دہانِ رحمت ہے
بتوں کو توڑ کے آئے صنم کدوں کے رہین
حضور پاک کی دعوت اذانِ رحمت ہے
نفس نفس میں پرویا مہک رہا ہے بدن
یہ ذکر اسمِ محمدؐ نشانِ رحمت ہے
اسی کے نور سے روشن جمالِ شمس و قمر
نظر نظر میں وہی کہکشانِ رحمت ہے
انہی کی یاد میں شیدا سکوں ہے سایہ فگن
اسی میں عمر گزاروں مکانِ رحمت ہے
ستیش ومل
مبارک صد مبارک مظہرِ انوار آئے ہیں
مکین سبز گنبد حامی و دِلدار آئے ہیں
گنہگارو نہ گھبراو، سیاہ کارو نہ شرمائو
بنائے دین و ملت مالک مختار آئے ہیں
غریبوںبے نوائوں بے کسوں کے منقذ و ہمدم
متاعِ جودورحمت نبع ایثار آئے ہیں
نوید کامرانی شادمانی برسر محشر
صدائے راز و وحدت صاحبِ اسرار آئے ہیں
وِمل کردہ گناہوں پہ نہ مضطر ہو نہ غمگین ہو
خطائیں بخشوانے مونسِ و غمخوار آئے ہیں۔
پرویز مانوس
قربان آپ پر ہیں دل و جان یا نبیؐ
بس ہے یہ میرا دین یہ ایمان یا نبیؐ
جانِ نجات، صاحبِ قرآن یا نبیؐ
کردیں ہماری آخرت آسان، یا نبیؐ
اس دہرِ بے بساط کی چھوٹے ہر ایک شئے
چھوٹے مگر نہ آپ کا دامان یا نبیؐ
قبلہ بنایا کعبے کو ، عالم کے واسطے
مکے کی ہے مدینے سے یہ شان یا نبیؐ
بے شک ہیں آپ خالق ہستی کے امر سے
تخلیق کائنات کا عنوان یا نبیؐ
اُمت کے غم کا اور نہیں ہے کوئی علاج
اک آپ ہی ہیں درد کا درمان یانبیؐ
دشوار کس قدر تھا مگر آپ سے ملا
رحمت کا اک وسیلہ آسان، یا نبیؐ
دائم خدا کے دین کی خوشبو ہے اس لئے
حسنینؑ گل ہیں، آپ ہیں گلدان یا نبیؐ
مانوس کا وصال ہو چوکھٹ پہ آپ کی
دل میں یہی ہے آخری اور مان، یا نبیؐ
محمد اشرف بابا
محمد کے غلاموں میں میرا بھی نام ہوجائے
صبح مکہ میں ار طیبہ میں میری شام ہوجائے
مدینے کی زمین ہوں اور آنکھیں ہوں میر
بلالے اب میرے آقا کہ میرا کام ہوجائے
میرے آقا میرے مولا میرے والی اگر کوئی
تجھے راضی نہ کر پائے برا انجام ہوجائے
جو چھو کر جالیاں روضے کی اپنا حال دل کہدوں
میرے بیمار دل کو پھر ذرا آرام ہوجائے
چرندوں اور پرندوں کی زبان سے آپ واقف ہیں
جو چھولیں آپ سوکھی شاخ بھی گلفام ہوجائے
نبی کا نام لیکر آخری ہچکی جو لے اشرف
تو اس ناچیز کا بھی حشر میں اکرام ہوجائے
