تحریر:ڈاکٹر نذیر مشتاق
ماں باپ کے ساتھ اچھا سلوک کیجئے اور اس حسن سلوک کی توفیق کی دونوںجہاں کی سعادت سمجھئے ۔ خدا کے بعد انسان پرسب سے زیادہ حق ماں باپ کا ہی ہے ۔ ماں باپ کے حق کی اہمیت اور اندازہ اس سے کیجئے کہ قرآن پاک نے جگہ جگہ ماں باپ کے حق کو خدا کے حق کے ساتھ بیان کیا ہے اور خدا کی شکر گزاری کی تاکید کے ساتھ ساتھ ماں باپ کی شکرگزاری کی تاکید ہے ’’ اور آپ کے رب نے فیصلہ فرمادیا کہ تم خدا کے سوا کسی کی بندگی نہ کرو اور والدین کے ساتھ نیک سلوک کرو ‘‘…(بنی اسرائیل)
سوچئے اور وہ دن یادکریں جب آپ کا وجود ہی نہ تھا ، آپ کی ماں نے نو ماہ آپ کو اپنے شکم میں رکھ کر ، ہزاروں مشکلات اور مصائب کا سامنا کرکے ایک دن زندگی اور موت کی کشمکش میں مبتلا ہونے کے بعد آپ کو جنم دیا اور پھر دو سال تک اپنے جسم کے خون سے بنے دودھ سے آپ کی پرورش کی اور پھر دونوں نے مل کر آپ کی ہرآسائش کا خیال رکھا ،آپ کی پرورش کی ،خودبھوکے پیاسے رہے مگر آپ کو کسی بھی قسم کی تکلیف کا احساس نہیں ہونے دیا ، آپ کو زندگی میں چلنا پھرنا سکھایا ، زندگی کے حالات اور طوفانوں سے مقابلہ کرنا سکھایا ،آپ پر اپنی جوانی نچھاور کردی اور آپ ہی کی دیکھ بھال کرتے کرتے ان کی عمر گزرگئی اور ان کی زندگی میں بڑھاپا آگیا اور وہ تھکے ہارے مسافروں کی طرح ہانپنے لگے اور گوناگوں جسمانی اورنفسیاتی امراض میں مبتلا ہوگئے ۔ آپ جوانی کی وادی میں ٹہلنے لگے اور وہ بڑھاپے کے وسیع وعریض میدان میں بھٹکنے لگے جس طرح بچپن میں آپ کمزور اور بے یارومددگار تھے اور وہ آپ کو سہارا دیئے جارہے تھے اسی طرح بڑھاپے میں وہ بے یار ومددگار ہیں اورانہیں آپ کے سہارے کی ضرورت ہے ۔
کشمیر میں دورِ حاضر ہ میں نوجوانوں میں ایک وباء پھیلی ہوئی ہے کہ وہ عمر رسیدہ ماں باپ کو تنہائی کے صحرامیں بے یار ومدد گار چھوڑ کے چلے جاتے ہیں اور اس طرح وہ ایک ایسے گناہ کے مرتکب ہوتے ہیں جو کسی بھی صورت میں قابل معافی نہیں ہے ۔ ایسے نوجوانوں کو حضورؐ کا ارشادگرامی یاد رکھنا چاہئے ’’ماں باپ ہی تمہاری جنت ہیں اور ماں باپ ہی دوزخ‘‘ (ابن ماجہ)
میرے مطب میں ایک نوجوان نے مجھ سے کہا ’’ڈاکٹر صاحب میں کیا کروں ، میرا باپ ہر دن مریض رہتاہے ، آخر میں کب تک اس کی بیماری اور دوائیوں کا بوجھ اٹھائے پھروں ‘‘۔میں نے اس سے کہا ’’ یہ تمہارا فرض ہے ‘‘،انہوں نے تمہیں اس قابل بنا دیاہے کہ آج تم ایک اعلیٰ عہدے پر فائز ہو اور پھر تمہاری ماں نے تمہیں جنم دیا اور تمہارے باپ نے تمہاری پرورش کی ، اپنے خون پسینے کی کمائی تم پر اب تک لٹاتے رہے اور اب تمہارا فرض ہے ……‘‘ میری بات کاٹ کر اُس نوجوان نے جواب دیا’’ یہ توماں باپ کا فرض ہے ، انہوں نے مجھ پر کوئی احسان نہیں کیاہے‘‘… اسی طرح اور بھی بے شمار کشمیری نوجوانوں کے ذہن میں یہ خیال ہے کہ اولاد کی پرورش کرنا اسے کسی خاص مقام تک پہنچانا والدین کا فرض ہے مگر…ان کا کیا فرض ہے وہ یکسر بھول جاتے ہیں ۔ ایسے نادان نوجواں سے عرض ہے کہ ’’والدین کے شکرگزار رہیں ، محسن کی شکر گزاری اور احسان مندی شراف کا اولین تقاضا ہے اور یہ حقیقت ہے کہ ہمارے وجود کا محسوس سبب والدی ہیں۔ پھر والدین ہی کی پرورش اور نگرانی میں ہم پلتے بڑھتے اور شعور کو پہنچتے ہیں اور وہ جس غیر معمولی قربانی ، بے مثال جان فشانی اور انتہائی شفقت سے ہماری سرپرستی فرماتے ہیں اس کا تقاضا ہے کہ ہمارا سینہ ان کی عقیدت واحسان مندی اور عظمت ومحبت سے سرشار ہواور ہمارے دل کا ریشہ ریشہ ان کا شکر گذارہو۔ یہی وجہ ہے کہ خدانے اپنی شکر گزاری کے ساتھ ساتھ ان کی شکرگزاری کی تاکید فرمائی ہے ۔
ان اشکرلی ولوالدبک …(’’ہم نے وصیت کی ، کہ میرا شکر ادا کرو اور اپنے ماں باپ کے شکر گزار رہو‘‘)
عہد شباب اپنے بچوں کی خاطر لُٹا کر جب ماں باپ عہد پیری میں قدم رکھتے ہیں تو ان کے جسم اور ذہن کے اندر جسم کے تمام نظاموں میں مختلف قسم کی تبدیلیاں رونما ہوتی ہیں ۔ زندگی کے دیو کے ساتھ لڑتے لڑتے وہ تھکے ہارے ہوتے ہیں ۔ ان کے جسم کی ہڈیاں کمزور ہوتی ہیں ۔ ان کا نظام قوت مدافعت وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ کمزور ہواہوتاہے اور وہ مختلف قسم کی بیماریوں بلند فشار خون ، ذیابیطس ،د ل اور گردوں کی بیماری ،پھیپھڑوں ، معدے اور جوڑوں کی بیماریوں میں مبتلا ہوجاتے ہیں ۔اس کے علاوہ وہ مختلف قسم کے کینسر وں کے بھی شکار ہوتے ہیں۔گوناگوں نفسیاتی امراض (پریشانی ، ڈپریشن، ڈیمنشیا) وغیرہ میں مبتلا ہوکر وہ زندگی سے مایوس ہوجاتے ہیں ۔ ان کے سامنے موت اور پیچھے یادِ ماضی ہوتی ہے جس سے وہ اندرونی تضاد کے شکارہوکر ہروقت افسردہ رہتے ہیں ۔ ان کی بینائی اور قوت سماعت ان کے ساتھ بے وفائی کرتی ہے اور وہ زندگی سے بیزار ہوکر ڈپریشن کے شکار ہوجاتے ہیں ۔ ان کی یاداشت کمزور ہوجاتی ہے اور ان کے اعصابی نظام کی کارکردگی حد سے زیادہ نیچے گر جاتی ہے…اور وہ نہیں جانتے کہ وہ کیا کررہے ہیں اور کیا نہیں کرتے ،ایسے حالات میں ان کو مضبوط سہارے کی ضرورت ہوتی ہے تاکہ وہ زندگی کی شاہراہ پر ’’اعتدال‘‘ کے ساتھ چل سکیں۔
عمر کی راہ پر چلتے چلتے بڑھاپے میں داخل ہونے کے بعد والدین گوناگوں امراض کے شکار ہوتے ہیں اور ہر بیمار انسان کو خصوصی سہاروں کی ضرورت ہوتی ہے ۔ اب سوال یہ ہے کہ والدین کی صحت کا خیال کیسے رکھا جائے ؟
سب سے پہلے یہ ضروری ہے کہ بڑھاپے میں ان کو یہ احساس نہ ہو کہ وہ اکیلے ہوگئے ہیں اور ان کی طرف توجہ دینے والا کوئی نہیں ہے ۔ انہیں ہروقت ایک مخصوص توجہ کی ضرورت ہوتی ہے ،اس ضمن میں اولین توجہ ان کے کھانے پینے کی طرف دینا لازمی ہے ۔ وہ کسی وجہ سے کھانے پینے سے لاپروائی برت سکتے ہیں مگر ان کو متوازن ، مناسب اور موزوں غذا فراہم کرنا ضروری ہے ۔
یہ دیکھنا بہرصورت لازمی ہے کہ ان کو ایک ایسی غذا مہیا کی جائے جس میں چربی کم ،وٹامن اور لازمی نمکیات اور آٹی آکسیڈنٹ وافر مقدار میں موجود ہوں ۔ ان کے لئے 1400سے 1500حرارے والی غذا ضروری ہے ۔ یہ بات ثابت ہوچکی ہے کہ زیادہ حرارے والی غذا ان کے جسم کے خلّیوںپر اثر انداز ہوکر’’بڑھاپے کی رفتار‘‘ تیز کردیتی ہے کیونکہ اس عمر میں نظام سوخت وساز کمزور ہوچکا ہوتاہے او ر وہ ورزش بھی نہیں کرپاتے جس سے اضافی حرارے کام میں آتے ہیں ‘ اسلئے انہیں زیادہ پروٹین والی غذائیں دینے سے اجتناب کرنا چاہئے ، ان کا نظامِ ہاضمہ کمزور ہوا ہوتاہے اسلئے وہ دیر سے ہضم ہونے والی غذائوں کو برداشت نہیں کرسکتے ۔
سلسلہ جاری صفحہ نمبر پر
کوشش یہ کی جائے کہ ان کے لئے نرم وزودہضم غذائوں کو استعمال میں لایا جائے ۔ بلند فشار خون اور ذیابیطس کے خطرے کے پیش نظر ان کی غذا میں نمک اور شکر بالکل کم استعمال کی جائے ۔ انہیں سبزیاں اور میوہ جات وافر مقدار میں دی جائیں اور انہیں غذا مقدار میں کم لیکن دن میں پانچ چھ باردی جائے …جیسے کہ صبح ناشتہ میں دودھ ،چائے اور روٹی ، دن کے گیارہ بجے چائے اور کچھ بسکٹ ، دوپہر میں چاول، سبزیاں ، دہی ، مچھلی ،گوشت مرغ (ایک دو ٹکڑے) چار پانچ بجے کے درمیان چائے اور روٹی ،سات آٹھ بجے حسب معمول رات کا کھانا اور پھل ، اور دیر سے دس گیارہ بجے رات ایک گلاس دودھ مہیا کیا جائے ۔ رات کا کھانا آٹھ بجے ہی دیں تاکہ بستر ے میں جانے اور کھانے کے درمیان دو گھنٹے کا وقفہ ہو ۔ رات کے کھانے پر سبزیوں کا استعمال کم کیا جائے انہیں دیسی غذا فراہم کی جائے جس کو وہ پسند کرتے ہوں۔ ہمارے ہاں بڑھاپے میں کسی وجہ کے بغیر ہی عمر رسیدہ لوگوں کومقوی غذائوں سے محروم رکھتے ہیں ۔جب تک نہ کسی ماہر ڈاکٹر نے سوچ سمجھ کر کسی خاص قسم کی غذا کھانے سے منع کیا ہو تب تک ان کو ہر وہ غذادی جائے جس کے وہ شوقین ہوں تاکہ انہیں یہ احساس نہ ہو کہ انہیں جان بوجھ کر گھر کے دوسرے افراد سے الگ تھلگ رکھا جارہاہے اور وہ ذہنی پریشانی کے شکارہوں ۔
ورزش:
ورزش کرنا ہرعمر میں ضروری اورفائدہ مند ہے ۔ بڑھاپے میں بھی اس کی ضرورت ہے کیونکہ صرف ورزش ہی سے ان کے پھیپھڑے ، دل اور جسم کی ہڈیاں تندرست رہتی ہیں وہ بڑھاپے کے کسل کی وجہ سے ورزش کرنے سے کترائیں گے ،بچوں کا فرض ہے کہ وہ انہیں صبح کے وقت ورزش کرنے میں مدد اور حوصلہ افزائی کریں ۔ بیمار ہونے کے بعد جب وہ صحت یاب ہوجائیں تو ان کو بسترے سے چپکے رہنے کی ہدایت دینے کے بجائے ان کو گھومنے پھرنے کے لئے پیار سے آمادہ کریں نہ کہ (جیسے کہ ہمارے ہاں رواج ہے) انہیں سختی سے بسترے میں پڑے رہنے پر مجبور کیا جاتاہے ۔ ایسا کرنے سے نہ صرف وہ ذہنی طور بیمار ہوجاتے ہیں بلکہ کئی دوسرے امراض انکو اپنی گرفت میں لیتے ہیں ۔
نفسیاتی مسائل :
بڑھاپے میں ہرانسان کو مختلف قسم کے نفسیاتی مسائل کا سامنا کرناپڑتاہے ۔ان مسائل کے محرکات یوں ہیں ۔(۱) نظام اعصاب اور یاداشت کا کمزور ہونا…یاداشت میں خلل کی وجہ سے اس عمر میں وہ چھوٹی چھوٹی باتوں کے علاوہ کچھ اہم واقعات بھی بھول جاتے ہیں ۔(۲) قوت سماعت وبصارت کے کمزور ہونے کی وجہ سے وہ ذہنی دبائو اور کھچائو کا شکار ہوتے ہیں ۔(۳) ریٹائرمنٹ اور اپنی ’’پوزیشن‘‘ کھونے کا اندرونی احساس (۴)۔ اقتصادی بحران(۵) احساس کمتری واحساس کم مائیگی … وہ اس عمر میں سوچنے لگتے ہیں کہ اب وہ غیر ضروری ہو کر رہ گئے ہیں اور ان کی اہمیت ختم ہوچکی ہے ۔(۶) کسی عزیز (بیوی ،شوہر) کے جدا ہونے سے احساس تنہائی (۷) مختلف امراض جن کی تشخیص نہ ہوسکی ہو او ر وہ ان میں مبتلا ہوں ۔(۸) مختلف قسم کی دوائیاں اور ان کے اثراتِ جانبی (۹)۔دماغ کا حجم کم ہونا ،دماغ کی مختلف بیماریاں مثلاً(برین ٹیومر)۔
ان محرکات کی وجہ سے وہ (ماں باپ) سماجی کنارہ کشی اختیار کرتے ہیں اور وہ ذہنی پریشانی اور ڈپریشن کے شکار ہوجاتے ہیں۔نوّے فیصد افراد زندگی کی ساتویں دہائی میں ڈپریشن کے شکارہوجاتے ہیں ۔ اگر آپ کے ماں باپ اس بیماری میں مبتلا ہوں تو انہیں سہارے کی ضرورت ہے ، کیونکہ اگر انہیں سہارانہ ملا تو وہ خودکشی کرنے کی کوشش کرسکتے ہیں ۔ اس بیماری میں مبتلا ہونے کے بعد وہ اُداس رہتے ہیں ، کسی بھی چیز کی طرف توجہ نہیں دیتے ، بار بار غصّہ کرتے ہیں ، چڑچڑاپن ان کی زندگی کا روزکا معمول بن جاتاہے ، کھانا کھانے سے انکار کرتے ہیں ۔ بچوں کی طرح رونا شروع کرتے ہیں اور احساسِ ندامت واحساسِ گناہ کے شکار ہوتے ہیں ۔ انہیں راتوں کونیند نہیں آتی اور وہ رات بھر ٹہلتے رہتے ہیں جس سے گھر کے باقی افراد کی نیندبھی متاثر ہوتی ہے ۔ ہمارے سماج میں بڑھاپے میں ایسے علائم ’’زیادہ عمری‘‘ سمجھے جاتے ہیں ، ایسا نہیں ہے کیونکہ اگر ذہنی طور وہ صحت مند ہوں تو وہ ایک نارمل زندگی گزار سکتے ہیں ۔ماں باپ میں ایسے علائم دیکھ کر بچے یہ کہہ کر دامن چھڑاتے ہیں کہ یہ ’’علائم پیری ‘‘ہیں ۔
اس لئے ان کی طرف توجہ نہیں دیتے اور جس وجہ سے ان کی بیماری اور علائم میں روز افزوں اضافہ ہوتاہے ۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ ماں باپ کے ساتھ نرمی سے کلام کرکے اس بات کا پتہ لگایا جائے کہ کہیں وہ نفسیاتی یا ذہنی بیماریوں میں مبتلا نہیں جن کا بروقت علاج کرنے سے وہ بھی ایک صحت مند زندگی گزارسکتے ہیں ۔ آج کل کے نوجوان اس طرف کوئی توجہ نہیں دیتے ، ماں باپ نے غصّے میں آکر کچھ کہہ دیا تو وہ آگ بگولہ ہوکر تُرکی بہ تُرکی جواب دے کر ماں باپ کی بیماری کو بڑھاوا دیتے ہیں ۔ دراصل بڑھاپے کی عمر میں بات کی برداشت نہیں کہتی اور ضعیفی کی وجہ سے وہ ذرا ذرا سی بات کو محسوس کرنے لگتے ہیں مگر جو نوجوانی کے عالم میں ہوتے ہیں ان کو چاہئے کہ اپنے کسی قول وعمل سے ماں باپ کو ناراض ہونے کا موقعہ نہ دیں ۔ جب بھی موقع ملے اپنے ماں باپ کے ساتھ وقت گزارئیے، ان کو رفتار زمانہ سے آشنا کریں ، ان کے ساتھ اپنا دُکھ دردبانٹ لیں ، ان کو نئی نئی باتیں ، نئی نئی خبریں اور لطیفے سنائیں ۔ ان کے لئے کسی وقت تحفے لائیں ، ان کے لباس کا خیال رکھیں ۔ ان کو کبھی یہ احساس نہ ہونے دیں کہ وہ ’’ڈیڈ سٹاک‘‘ ہیں اور ان کی ضرورت نہیں رہی ہے ، بلکہ ان کو یہ احساس دلائیں کہ وہ گھر کے بیش قیمت انمول ہیرے ہیں جو اللہ تعالیٰ نے عطا کئے ہیں اور ان کے ہر طرح سے حفاظت کی جارہی ہے ، اس طرح وہ ذہنی طور صحت مند رہ سکتے ہیں اور جب وہ ذہنی طور صحت مند ہیں تو جسمانی طور بھی صحت مند رہیں گے ۔ ہر حال میں اپنے ماں باپ کی صحت کا خاص خیال رکھئے کیونکہ اسی میں دونوں جہاں کی بھلائی ہے ۔
