مسافرکرایہ میں 6ماہ قبل کیاگیا30فیصد اضافہ واپس 163

مسافرکرایہ میں 6ماہ قبل کیاگیا30فیصد اضافہ واپس

مسافروں سے پراناکرایہ ہی وصول کریں
کمشنر سیکرٹری محکمہ ٹرانسپورٹ کی نجی ٹرانسپورٹروں کوواضح ہدایت،خلاف ورزی پرہوگی سخت کارروائی
سری نگر:۲، دسمبر::ٍٍٍ جموں وکشمیرکی حکومت نے نجی ٹرانسپورٹروں کی جانب سے مسافروں سے اضافی کرایہ لینے کی مسلسل شکایات موصول ہونے کے بعدکرایہ میں30فیصداضافے سے متعلق22جون2020 کوجاری کیاگیا حکمنامہ واپس لے لیا۔جے کے این ایس کے مطابق حکومت نے نجی ٹرانسپورٹروں پرواضح کیاکہ گاڑیوں میں بغیرکسی سماجی دوری یاجسمانی فاصلے کے مسافروں کوسوار کئے جانے کے باوجوداُن سے اضافی 30فیصدکرایہ وصول کرنا جائز نہیں ہے ،اسلئے آئندہ کیلئے نجی ٹرانسپورٹرمسافروں سے 22 جون2020سے پہلے مقررہ کردہ مسافرکرایہ ہی وصول کریں ۔کمشنرسیکرٹری محکمہ ٹرانسپورٹ ہردیش کمار نے یکم دسمبر2020کوایک آرڈر زیرنمبر 62-JK(TR)آف 2020جاری کرتے ہوئے کہاکہ کوروناوائرس پھیلنے کے اندیشے کودیکھتے ہوئے 22جون 2020کوایک آرڈرزیرنمبر 31-JK(TR) آف 2020جاری کرتے ہوئے نجی ٹرانسپورٹروں سے کہاگیاتھاکہ وہ سماجی دوری اورجسمانی فاصلہ قائم رکھتے ہوئے اپنی گاڑیوں میں گنجائش سے نصف مسافروں کوسوار کرکے مسافروں سے اضافی30فیصدکرایہ وصول کرسکتے ہیں ۔انہوںنے کہاکہ22جون کوجاری کیاگیا آرڈرنئے جاری کئے گئے آرڈرکے تحت واپس لیاجاتاہے ،اورنجی ٹرانسپورٹروں کو یہ ہدایت دی جاتی ہے کہ وہ آئندہ مسافروں سے اضافی تیس فیصد کرایہ لینے کے بجائے22جون سے پہلے مقررکردہ کرایہ ہی وصول کریں۔اپنے جاری کردہ آرڈرمیں کمشنرسیکرٹری محکمہ ٹرانسپورٹ ہردیش کمار نے نجی ٹرانسپورٹروں کوخبردارکیاکہ اُن کی جانب سے مسافروں سے اضافی کرایہ من مانے طورپروصول کئے جانے کے عمل کاسخت نوٹس لیاجائیگا،اورجوکوئی بھی ٹرانسپورٹر خلاف ورزی کامرتکب ہوگا،اُس کیخلاف موٹر وہیکل ایکٹ 1988کی متعلقہ شقوں کے تحت سخت کارروائی عمل میں لائی جائیگی ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں