گلشن کلچرل فورم کشمیر کے اہتمام سے شاہ جیلان کانفرنس کاانعقاد، مثنوی "گلزارحقیقت" کی رسم رونمائی 199

گلشن کلچرل فورم کشمیر کے اہتمام سے شاہ جیلان کانفرنس کاانعقاد، مثنوی “گلزارحقیقت” کی رسم رونمائی

گزشتہ شب گلشن کلچرل فورم کشمیراور لسہ خان فدا فاؤنڈیشن نے مشترکہ طور شاہ جیلان کانفرنس کا انعقاد کیا۔ کانفرنس کے دوران تعلیمات حضرت شیخ سید عبدالقادر جیلانی رح کی تعلیمات کے حوالے سے خطبات، نعت ومناقب اور درود ازکار بھی پیش کیےگیے۔ اس موقعے پر معروف صوفی بزرگ، شاعر اور ترجمہ کار لسہ خان فدا کی تصنیف گلزار حقیت کی رسم رونمائی بھی عمل میں لائ گئی۔ جس پر کئ مقالات پیش کی گی۔ تقریب میں پروفیسر گلشن مجید مہمان خصوصی کی حیثیت سے موجود تھے۔ جبکہ فورم کےصدر سید بشیر کوثر نے نشست کی صدارت کی۔ فورم کے جنرل سیکریٹری گلشن بدرنی نے اپنے خطبۂ استقبالیہ میں تصوف اور مقامی ریوایتوں کو اجاگر کرتے ہو تعلیمات فدا اپنانے پر زور دیا۔ خورشید خاموش، عبدالاحد شہباز، اور سید بشیر کوثر نے بالترتیب اپنے خطابات اور مقالات میں تعلیمات
حضرت سید عبدالقادر جیلانی رح اور جناب لسہ خان فدا کو روحانی اور اخلاقی قدروں کی وہ مشعل قرار دی جو بنی نوع انسان کےلی ہر موڈ پر رہنما ثابت ہوجاتی ہے۔ مہمان خصوصی پروفیسر گلشن مجید نے اپنے صدارتی خطبہ میں لسہ خان فدا فاؤنڈیشن اور گلشن کلچرل فورم کشمیر کی ان کاوشوں کو کافی سراہا جن کے تحت اخلاقی اور ثقافت کی مثبت ریوایتوں کو عروج حاصل ہوجاتاہے۔ اس موقعے پر ریاض احمد، مبشر گل، اور فاروق احمد، نے نعت ومناقب پیش کرکے محفل کو روح پرور بنادیا۔
محفل سماع تقریب کا اور ایک پہلو تھا۔ جس میں معروف گلو کار غلام حسن پرہ اور اس کے ساتھیوں نے صوفی کلام پیش کرکے سامعین پر ایک الگ کیفیت طاری کردی۔ محفل میں دیگر لوگوں کے علاوہ غلام محمد وانی،منظور احمد، محمداشرف، محمد رمضان وانی، عبدالرشید وانی، غلام محی الدین موہند، نذیر احمدشیخ، امتیاض احمد، شوکت احمد، گلزار احمد شامل تھے۔
مدعو حاضرین نے گلشن کلچرل فورم کشمیر اور لسہ خان فدا فاؤنڈیشن کی اس کوشش کوکافی سراہا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں