باتیں اپنی اپنی
الطاف جمیل شاہ
ہم نے تمام عمر مسکرانا اور مسکراہٹ کے مواقع تلاش کئے غم الم تو ویسے ہی ہمارے ہاں ڈیرا جمائے تھے اکثر مجالس میں کسی بھی بات کو لے کر کچھ ایسے لمحات بیت گئے جو اساس زندگی ٹہر جاتے ہیں ان میں خوبصورت یادیں بھی اور افسردہ کرنے والی یادیں بھی مطلب زندگی یہی تو ہے کہ زندگی کو خوب بسر کیا جائے ویسے جو غم کے بت بن کر رہتے ہیں زندگی وہ بھی جیتے ہیں پر کیا خاک جیتے ہیں چند کھٹی میٹھا یادیں ۔
آپ کی نظر
ایک بار نکاح کی مجلس تھی اور ایک صاحب سامنے بیٹھ گئے دلہا بھی تھے پر جناب نے دلہے کی وکالت شروع کی ہم نے پوچھا دلہے میاں سے پہلا کلمہ سناؤ تو جناب نے پوری مجلس کو کلمہ طیبہ پڑھا کر دلہے کو بچا لیا
دوم
ایک مجلس نکاح میں وکیل سے کہا جناب مہر ادا کیجئے تو فرمایا کہ جناب آپ کو معلوم ہونا چاہیے ہم فلاں بزرگ کے خاص مرید رہے ہیں ۔
تو نکاح نامہ تھما کر میں نے کہا انہیں سے نکاح پڑھوائے ہم ان کے کام میں دخل نہیں دے سکتے کئی گھنٹوں بعد آئے اور معافی مانگ کر ہم سے ہی پڑھوایا کیوں کہ آدھی رات کو کوئی ملنے والا تھا ہی نہیں جو نکاح پڑھواتا۔
ایسے ہی ایک اور صاحب لڑکے کی طرف سے وکیل بن کر آئے تھے بہت باتونی اور بات بات پر ٹوکنا جب حد ہوگی تو میں نے پوچھا آپ کی مسجد میں صبح کی نماز کا وقت کیا ہے تو آدھا گھنٹے کا فرق بتایا میں نے کہا کیا آپ صبح کی نماز پر جاتے ہیں کہا نہیں بقیہ نمازیں پڑھ لیتا ہوں کبھی کبھی ،، ہم نے کہا سنو میاں آپ بے نمازی ہیں پہلے کسی نمازی کو لائیں وہ وکیل بن جائے آپ کی وکالت قابل اعتبار نہیں ہے ۔
اور غضبناک ہوکر فرمایا نماز الگ ہے اور نکاح الگ ہم نے کہا بھائی ہمارے ہاں نکاح نمازیوں کے ہوتے ہیں بے نمازی کو جو اچھا لگئے کرے بس انہیں غصہ آگیا ہماری بات پر ۔
سوم
جلسہ ہو اور علماء کی آمد ہو جی چاہتا ہے چلا جاؤں تاکہ علماء کو سنو اب کل ایک جگہ جانا ہوا شروع میں جو عالم تبلیغ کر رہے تھے وہ نہ عالمانہ تھی نہ عامیانہ جیسا ہمارے ہاں ہوتا ہے پر انہیں دعوت سخن دیتے ہوئے مائیک سنبھالے ہوئے صاحب نے آسمان زمین ملا دئے القابات بیان کرنے کے دوران ۔
باہر آیا تو ایک عطر فروش نے کہا
الطاف صاحب عطر اور ایک عدد کشمیری صدری خرید لیں ہم نے کہا کس لیے ۔۔۔؟
کہا یہ عالمانہ لباس ہے ۔۔۔؟
ہم نے مسکرا کر کہا اسی لئے تو نہیں خریدتا کیوں کہ میں الطاف ہوں عالم نہیں ۔۔
چہارم
اسٹیج پر بہت سے مانوس چہرے تھے ایک تیسرالمبتدی کو دس جلد کی فقہ کہنے والے صاحب بڑے طمطراق سے بیٹھے تھے ہم صف سامعین میں بیٹھ گئے تو مہتمم صاحب نے زبردستی اٹھایا تو پھر ان جناب سے پوچھ لیا ارے بھائی وہ تیسرالمبتدی کی نویں دسویں جلد مطلوب تھی اور جناب نے غضب سے دیکھ کر منہ پھیر لیا ۔۔۔۔
پنجم
اس نے کہا جناب یہاں سجدہ کر لو سب ٹھیک ہوگا میں نے کہا جب سب ایک سجدے سے ٹھیک ہوتا ہے تو تم اتنے سال سے یہاں کیا پاگل ہو جو ایک سجدہ کرکے دنیا کے امیر ترین بھکاری بن کر بھی دوسروں کے لیے جگہ خالی نہیں کرتے ۔۔۔
ششم
لوگ اکثر پوچھتے ہیں جناب کہاں سے ؟
ہم اکثر ایک ہی جواب دے دیتے ہیں جناب ہم اپنے گھر سے سامنے والے کمرے سے ہیں اور آپ ؟
ہفتم
خشوع خضوع اہم ہے عبادات میں تو پرانے زمانے کے لوگ خشیت الہی سے آنسو بہاتے تھے اللہ کے حضور خوب دل لگا کر دعائیں کرتے تھے اب لوگ کہتے ہیں یہ سب ڈرامہ ہے
تو یقین کرلیں یہ جو آپ اپنی چمڑی سے چپکا ہوا لباس پہن کر عبادت کرتے ہیں اصل میں یہ تمہارے آنسو نکلنے نہیں دیتے کیونکہ خون منجمد آنسو بھی منجمد ۔۔۔۔
ابھی جو شباب ہم سے رخصت لئے جارہا ہے اس کی ہزار یادیں ایسی ہیں کہ دل اب بھی یاد کرکے عجب سی دنیا میں چل دیتا ہے رفیع آباد کے ایک امام صاحب نے آج سے دس سال پہلے کہا ہماری مسجد میں ایک خطبہ دیں میں مسجد میں پہنچ گیا معلوم ہوا امام محترم کسی اور جگہ تبلیغ کرنے گئے ہیں پوچھنے پر علم ہوا یہاں کوئی اور آنے والا ہے نماز سے پہلے دس منٹ تک مسجد خالی اب میں تبلیغ کس کو کرتا میں نے ٹوپی اٹھائی اور جیب میں رکھ لی اب لوگ آنا شروع ہوئے تو امام نہ پاکر حواس باختہ ہونے لگئے ایک صاحب نے مجھ سے کہا آپ نماز پڑھا سکتے ہیں ہم نے کہا پڑھا سکتا ہوں پر پہلے آدھے گھنٹے کی تبلیغ ہوگی منظور ہو تو میں تیار ہوں مرتے کیا نہ کرتے تبلیغ ہوئی سب کی خوب خبر گیری کی اور چل دیا یہ انہیں بعد میں علم ہوا ہم ہم ہی تھے ۔۔۔۔
چلیں خوش رہیں
مسکراتے رہیں
فی امان اللہ
الطاف جمیل شاہ
