سکینہ ایتو کی بطور مہمان خاص شرکت
کہامنشیات سے پاک جموںوکشمیر آنے والی نسلوں کی بقاء اور بہبود کیلئے ناگزیر ہے
سری نگر//منشیات کا مسئلہ کسی ایک فرد یا خاندان کا نہیں بلکہ ایک سنگین اجتماعی بحران بن چکا ہے، جس نے ہماری نسلوں کے مستقبل کو خطرے میں ڈال دیا ہے۔ ان خیالات کا اظہار جموں و کشمیر کی وزیر برائے صحت، طبی تعلیم، سماجی بہبود اور تعلیم محترمہ سکینہ ایتو نے پیر کو سری نگر میںوائس آف ویکلی نیوز پیپرس کشمیر اور اے آر آزاد میموریل کی جانب سے منعقدہ ایک اہم سمینار سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔یہ سمینار گورنمنٹ کالج آف ایجوکیشن (جی سی او ای)، ایم اے روڈ سری نگر میں “منشیات سے پاک کشمیر – ایک عملی قدم” کے عنوان سے منعقد کیا گیا تھا، جس میں کلچرل وینگ انفارمیشن ڈیپارٹمنٹ سرینگر، جموںوکشمیر پولیس اور جموں کشمیر بینک کا اشتراک تھا۔پروگرام میں نظامت کے فرائض شکیل آزاد انجام دئے اور خطبہ استقبالیہ بھیپیش کیا۔ تقریب میں وزیر برائے صحت و طبی تعلیم، سماجی بہبود اور تعلیم سکینہ اِیتو نے اپنے خطاب میں کہاکہ منشیات کے بڑھتے ہوئے ناسور کے خلاف مؤثر اقدام کے لئے معاشرے کے تمام طبقات، مذہبی رہنماؤں، سرکاری اِداروں، قانون عملانے والے اِداروں اور ہر شہری کی مشترکہ اور مستقل شمولیت وقت کی اہم ضرورت ہے۔اُنہوں نے اَپنے کلیدی خطاب میں کہا کہ نوجوان نسل میں منشیات کی لت ایک خطرناک حد تک بڑھ چکی ہے اور حکومت اکیلے اس مسئلے سے نہیں نمٹ سکتی۔ اِس کے لئے علمائے کرام ، والدین، تعلیمی اِدارے، سول سوسائٹی اور تمام فریقین کی مشترکہ کوششیں ناگزیر ہیں۔انہوں نے وائس آف ویکلیز نیوز پیپرس کشمیر کے اس اقدام کی سراہنا کی اور امید جتائی کہ ایسے پروگرام مستقبل میں بھی منعقد کئے جائیں گے تاکہ لوگوں کومنشیات سے متعلق بہتر جانکاری دی جاسکے۔
سیمینار کے دوران منشیات سے متعلق بیداری پیدا کرنے والے ثقافتی پروگرام بھی پیش کیے گئے جنہوں نے نشے کی تباہ کاریوں کو مؤثر انداز میں اجاگر کیا۔ وزیر نے ان پروگرامز کو نہ صرف شعور اجاگر کرنے کا ذریعہ بلکہ پالیسی سازوں اور عوام کے درمیان ایک اہم پل قرار دیا۔پروگرامیں وادی کے مشہور معروف براڈکاسٹر شمشاد کرالہ واری نے بھی خطاب کیا۔ انہوں نے سماج میں پنپ رہی اس بدعت پرکھل کر روشنی ڈالی اور اس کے تدارک کی بھی مانگ کی۔ اس دوران وادے کے معروف ادیب ، شاعر،قلمکارپرویز مانوس نے بھی سمینار میں شرکت کی اور انہوں نے “بچوں کی پرورش میں والدین و اساتذہ کی ذمہ داریوں پر روشنی ڈالی۔ جہاں تک منشیات کا تعلق ہے یہ ایک خاموش قاتل ہے جو آہستہ آہستہ جسم، دماغ اور روح کو کھوکھلا کر دیتی ہے۔ اس کے نقصانات صرف صحت تک محدود نہیں بلکہ یہ تعلیمی کارکردگی، سماجی تعلقات، اخلاقی اقدار اور معاشی حالات کو بھی برباد کر دیتی ہے۔ پاکستان، بھارت اور دیگر جنوبی ایشیائی ممالک سمیت دنیا بھر میں نوجوان نسل منشیات کا آسان ہدف بنتی جا رہی ہے۔
معاشی بے یقینی، سماجی دباؤ، بے روزگاری، غلط صحبت، والدین کی عدم توجہ اور خالی پن جیسے عوامل اس لعنت کو فروغ دیتے ہیں۔ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر بچوں کی ابتدائی عمر ہی سے ان پر توجہ دی جائے تو وہ بعد میں برے رجحانات کی طرف مائل نہیں ہوتے۔ بچوں کے مزاج، عادات اور رجحانات کی تشکیل والدین کے ہاتھ میں ہوتی ہے۔ گھر کا ماحول پرسکون، محبت بھرا اور دوستانہ ہونا چاہیے تاکہ بچے اعتماد کے ساتھ اپنی بات والدین سے کہہ سکیں۔سمینار میںجوائنٹ ڈائریکٹر اِنفارمیشن کشمیر سیّد شاہنواز بخاری نے بھی منشیات کی بدعت پر کھل کر بات کی انہوں نے میڈیا سے وابستہ افراد کی حوصلہ افزائی بھی کی اور اُنہیں یقین دلایا کہ ایسے پروگرام منعقد کرنے میں انفارمیشن ڈیپارٹمنٹ ہمیشہ شانہ بشانہ کھڑا رہے گی۔محکمہ انفارمیشن کی کلچرل ونگ کے اسسٹنٹ ڈائریکٹر برہان وانی نے اپنے خطاب سے ہال میں موجود سامعین کو جوڑے رکھا انہوں نے منشیات کی وبا کے بارے میں سامعین کو آگاہ کیا اور اس بدعت کو ختم کرنے کیلئے مختلف طریقے کار بھی سامنے رکھے۔ اِس موقعہ پر طلبائ، اَساتذہ، نوجوان رہنما، طبی ماہرین، قانون عملانے والے اِداروں کے اَفسران اور سول سوسائٹی کے نمائندگان کی بڑی تعداد نے شرکت بھی کی اور تقاریر بھی کیں۔اِس کے علاوہ سمینار میںجوائنٹ ڈائریکٹر اِنفارمیشن کشمیر سیّد شاہنواز بخار، نوڈل پرنسپل کشمیر ڈویژن کالجز پروفیسر سیما ناز ،پرنسپل گورنمنٹ وومن کالج سری نگر ، پرنسپ لجی سی او اِی سری نگر ، ڈاکٹر جاوید انچارج کارپوریٹ کمیونکیشنز جموںوکشمیرو نصیر احمد،برہانی وانی اسسٹنٹ ڈائریکٹر انفارمیشن کلچرل ونگ،محمد یاسر ڈپٹی سپرانٹنڈنٹ کوٹھی باغ، محمد عادل ایس ایچ او کوٹھی باغ اورضلعی اِنتظامیہ کے دیگر اعلیٰ اَفسران بھی موجود تھے۔سمینار کے اختتام پر سکینہ ایتو نے میڈیا سے گفتگو میں اس بات پر زور دیا کہ اگر ہم نے اب بھی سنجیدگی نہ دکھائی تو ہم اپنی نسلوں کو اس لعنت سے بچانے میں کامیاب نہیں ہوپائیں گے ۔اور وقت کا تقاضا ہے کہ ہم متحد ہو کر منشیات کے خلاف صف آرا ہوں۔ یہ سیمینار محض تقاریر کا مجموعہ نہیں بلکہ عملی اقدام کی ایک علامت تھا ۔ اس پیغام کے ساتھ کہ کشمیر کو منشیات سے پاک اور محفوظ بنانے کا سفر مشکل ضرور ہے، لیکن ناممکن نہیں۔



