ڈائریکٹر ہیلتھ سروسز کشمیر نے امرناتھ گھپا تک طبی خدمات کی سہولیات کا تفصیلی جائزہ لیا یاتریوں کو بہتر طبی خدمات بہم رکھنے پر دیا زور گاندربل/ندائے کشمیر/مختار احمد ڈائریکٹر ہیلتھ سروسز کشمیر ڈاکٹر جہانگیر بخشی نے ہفتہ کو یاترا بیس کیمپ بال تل کا دورہ کرکے یاترا کے سلسلے میں بیس کیمپ سے امرناتھ گھپا تک یاتریوںکئے گئے طبی سہولیات کا جائزہ لیا۔ ڈائریکٹر نے دورے کے دوران عملے کی دستیابی ، انفراسٹرکچر ، ادویات ، سازوسامان اور صحت کی دیکھ بھال کی خدمات کو بہتر طریقے سے انجام دینے کے لئے درکار دیگر لاجسٹکس کی دستیابی کے معاملے میں صحت کی سہولیات کا تفصیلی جائزہ لیا۔ دورے کے دوران انہوں نے ذاتی طور پر سازوسامان کی فعالیت کی جانچ کی اور سہولیات کے تمام حصوں کا تفصیلی جائزہ لیا۔ اس نے اس بات کو یقینی بنایا کہ تمام طبی سٹیشنوں پر درکار تمام ادویات اور دیگر سازوسامان سے لیس ہیں جو پہلے سے طے شدہ چیک لسٹ کے مطابق ہیں۔ ان انتظامات پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے انہوں نے ملازمین پر زور دیا کہ وہ کسی بھی صورتحال سے نمٹنے کے لئے ہر وقت تیار رہیں اور یاتریوں کو بہتر طبی خدمات بہم رکھنے کو یقینی بنائیں ۔ان کے ہمراہ دیگر افسران بھی موجود تھے۔ 0

گاندربل میں لاکھوں روپئے مالیت کی دوائی جنگلاتی علاقے میں کی گئی ضائع

مقامی لوگوں میں تشویش،محکمہ ڈرگ نے دی کاروائی کی یقین دہانی

گاندربل/ندائے کشمیر/مختار احمد

گاندربل کے گنڈ رحمان جنگلاتی علاقے میں نامعلوم افراد نے لاکھوں روپئے کے مالیت کا صحت بخش ادویات ایک نالے میں ڈال کر ضائع کی ہے تاہم محکمہ ڈرگ کنٹرول کو خبر ملتے ہی محکمہ کی ایک ٹیم نے موقعے پر جاکر ضائع کی گئی ادویات اپنی تحویل میں لیکر تحقیقات شروع کردی ۔ اس حوالے سے محکمہ ڈرگ کنٹرول کے ذمہ داران نے بتایا کہ اس حوالے سے پوری چھان بین کی جائے گی ۔انہوں نے مزید کہا کہ وہ یہ سمجھنے سے قاصر ہیں کہ یہ دوائی کہاں سے آئی ہے تاہم وہ Batch نمبرات کی مدد سے اس کا پتہ لگائیں گے ۔انہوں نے کہا جو بھی میڈیکل شاپ مالکان ہیں ان سے کہا گیا ہے کہ وہ Expired دوائی کو تین ماہ قبل ہی سٹاک سے نکال دیا کریں اور اس کو واضع کئے گئے طریقوں سے ضائع کیا کریں۔مقامی لوگوں نے بتایا کہ جس نالے میں یہ دوائیں ضائع کی گئی ہے اُس نالے کا پانی لوگ پینے کیلئے استعمال کرتے ہیں ۔انہوں نے حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اس سلسلے میں تحقیقات کریں ۔واضع رہے گزشتہ سال بھی ملہار شاہی باغ علاقے میں کھلے میں آیوش کی دوائیوں کو ضائع کیا گیا تھا۔جس کے بعد محکمہ نے ایک کمیٹی تشکیل دے کر تحقیقات شروع کرنے کی یقین دہانی کرائی تھی ۔،تاہم آج تک اس میں ملوث افراد کے خلاف کی گئی تحقیقات کی رپورٹ عوام کے سامنے نہیں لائی گئی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں