پرفیسر غضنفر علی کی صدارت میں درحہ قطر میں اردو شعر و ادب کی شاندار بزم سجائی گئی
آلوک شریواستو شاذ جہانی مہمان خصوصی اور دوحہ کے معروف شاعر مظفر نایاب مہمان اعزازی شامل رہے
قطر/سبزار احمد بٹ/
اے ایم یو ایلومنائی ایسوسی ایشن قطر (AMUAAQ) نے موداہا ،اتر پردیش، ہندوستان، کے معروف اردو شاعر مسرور احمد مسرور (مرحوم) کی ادبی میراث کے حوالے سے ایک یادگار ادبی پروگرام کا انعقاد کیا۔ کنجانی ہال، ICBF میں منعقدہ اس تقریب میں ان کے بعد از مرگ شائع ہونے والے شعری مجموعے “زخموں کی کاشت” کی بین الاقوامی ریلیز کی تقریب ہوئی۔جس میں ممتاز ادبی شخصیات، شاعری کے شائقین اور وسیع تر کمیونٹی کے ارکان شامل تھے۔اس پروگرام کی صدارت پروفیسر غضنفر علی نے کی جو ایک نامور افسانہ نگار، شاعر ، خاکہ نگار اور جامعہ ملیہ اسلامیہ کے سابق پروفیسر بھی رہے ہیں۔ ان کی اردو ادب میں زندگی بھر کی خدمات کا بھی پروگرام کے دوران باضابطہ طور پر اعتراف کیا گیا اور انہیں علامتی شال اور سند توصیف سے بھی نوازا گیا۔ اس تقریب میں معروف شاعر جناب آلوک کمار سریواستو نے، جنہیں شاز جہانی کے نام سے جانا جاتا ہے، مہمان خصوصی کی حیثیت سے شرکت کی، اور معروف ادبی اسکالر مظفر نایاب، جو مہمان اعزازی کے طور پر موجود تھے۔تینوں معززین کو AMUAAQ کے جن عہدیداروں نے روایتی شال اور اسناد سے نوازا ان کے نام باالترتیب جاوید احمد (چیئرمین)، فیصل نسیم (نائب صدر) اور محمد فرمان خان (جنرل سیکریٹری)ہیں ۔ تقریب کی نظامت AMUAAQ کے صدر ڈاکٹر ندیم ظفر جیلانی نے کی، جن کی فصاحت و بلاغت اور وقفے وقفے سےاردو اشعار کی بے ساختہ ادائیگی نے شام کو ایک بھرپور شاعرانہ مزاج بخشا۔تقریب کی کمپیئرنگ کے علاوہ ڈاکٹر جیلانی نے نئی لانچ ہونے والی کتاب میں ایک تنقیدی مضمون بھی پیش کیا۔ ہندوستان کی دو دیگر معزز ادبی آوازوں نے بھی مسرور احمد مسرور کی شاعری پر مضامین لکھے جن میں ڈاکٹر انور رضوی، علی گڑھ مسلم یونیورسٹی (اے ایم یو) کی شعبہ فارسی کی ریٹائرڈ صدر شعبہ، اور معروف شاعر سید سلیمان احمد مانی کے نام قابل ذکر ہیں۔ شاعر مرحوم مسرور احمد کے عقیدت مند شاگرد ممنون احمد بنگش نے بہت جذباتی اور پر اثر انداز میں اپنے استاد محترم کو خراج عقیدت پیش کی۔ انہوں نے “زخموں کی کاشت” کی تالیف، تدوین اور اشاعت میں اہم کردار ادا کیا تھا۔ اپنی گفتگو میں، انہوں نے موصوف کی ذاتی زندگی کی عکاس کہانیاں شیئر کیں جو ان کے مرشد کے شاعرانہ فلسفے اور زندگی کے سفر پر روشنی ڈالتی ہیں۔ مسرور کے انتقال کے بعد جاری ہونے والی یہ کتاب ایک شاگرد کی طرف سے اپنے پیارے استاد کے لیے ایک دیرپا اور دلی خراج عقیدت کی مظہر ہے۔اس کتاب کے ادبی حسن اور شعری محاسن پر آصف شفیع اور ڈاکٹر حسن رضوی نے مزید روشنی ڈالی۔ جن کے تنقیدی مضامین بھی مجمعے کی زینت بنےہیں ۔ پروفیسر غضنفر علی نے شاعر کے کلام کے نچوڑ کو سمیٹتے ہوئے اپنے منفرد انداز میں مضمون پیش کیا، جب کہ مظفر نایاب نے شاعر اور ممنون بنگش کی عقیدت دونوں پر دل کو چھو لینے والے قطعات سنائے۔ لوگوں کی فرمائش پر غضنفر نے اپنی مشہور کہانی “مسنگ مین” بھی سنائی جس نے سامعین کو دیر تک مسحور رکھا۔پروگرام کے دوسرے حصے میں ایک معیاری مشاعرہ منعقد ہوا جس میں اردو ادبی دنیا کی ممتاز آوازیں شامل تھیں۔ شریک شعراء میں پروفیسر غضنفر علی، شاز جہانی، مظفر نایاب، ڈاکٹر ندیم جیلانی دانش، عزیز نبیل، آصف شفیع، انور مقصود، راقم اعظمی، اور ممنون احمد بنگش شامل تھے۔ ہر شاعر نے دلکش غزلیں اور نظمیں پیش کیں۔ اخیر میں مہمانوں اور صدر مشاعرہ نے اپنے تاثرات پیش کئے۔ اپنے اختتامی کلمات میں، ڈاکٹر جیلانی نے اردو کے بھرپور ادبی اور ثقافتی ورثے کے فروغ اور تحفظ کے لیے AMUAAQ کے غیر متزلزل عزم کا اعادہ کیا-اس تقریب میں AMUAAQ کے کئی سینیئر اراکین نے بھی شرکت کی جن میں فرخ فاروقی، ڈاکٹر محمد نعیم، ڈاکٹر اشنا نصرت، اور مسز غزالہ یاسمین شامل ہیں۔کمیونٹی کی ممتاز شخصیات جیسے علی عمران، سرور مرزا، غفران علی خان، شہاب الدین، اور ڈاکٹر سکندر نے بھی اپنی موجودگی سے پروگرام کو وقار بخشا۔ اس کے علاوہ ہندوستان سے آنے والے کئی مہمانوں نے بھی پروگرام میں شرکت کی۔
