"عالمی یوم صحت" World Health Day 0

“عالمی یوم صحت” World Health Day

سی ایم او پلوامہ ڈاکٹر تحمینہ جمیل، ڈاکٹر جاوید ، ڈی این او آیوش ڈاکٹر فاروق نقشبندی اور عاشق حسین کی ندائے کشمیر سے بات چیت

پلوامہ/ ندائے کشمیر/تنہا ایاز/
عالمی یوم صحت کے دن پر کئی افراد نے ندائے کشمیر کے ساتھ بات کرتے ہوئے اپنے خیالات کا اظہار کیا۔تفصیلات کے مطابق ( World Health Day) اقوام متحدہ کے ذیلی ادارے عالمی ادارہ صحت کے تعاون سے 1950ء سے ہر سال دنیا بھر میں 7 اپریل کو صحت کا عالمی دن منایا جاتا ہے جس کا مقصد دنیا بھر میں صحت و امراض سے بچاؤ کے لیے شعور اجاگر کرنا ہے۔ 1948ء میں یہی دن تھاجس روز عالمی ادارہ صحت کا قیام عمل میں آیا تھا۔ ہر سال صحت کے کسی خاص موضوع کے تحت تمام ممالک اِس دن کو مناتے ہیں۔ عالمی ادارہ صحتWHOنے اس سال کا تھیم “صحت مند آغاز، امید بھری زندگی” (Healthy Beginnings, Hopeful Futures) مقرر کیا تھا، جس کا مقصد دنیا کے ہر فرد کے لیے معیاری طبی سہولیات کی دستیابی کو یقینی بنانا ہے۔ چاہے وہ کسی بھی قوم، زبان، مذہب یا علاقے سے تعلق رکھتا ہو، تاکہ وہ ایک بہترین مستقبل بنا سکے۔یہ دن صرف بیماریوں سے بچاؤ کی یاد دہانی نہیں بلکہ صحت کی مکمل تعریف، جسمانی، ذہنی اور جذباتی صحت کی اہمیت کو بھی اجاگر کرتا ہے۔ اسی سلسلے میں آج ضلع پلوامہ میں چیف میڈیکل آفس اور ڈسٹرکٹ لیگل سروسز اتھارٹی پلوامہ کے باہمی اشتراک سے بھی ایک تقریب کا انعقاد کیا گیا۔تقریب کے اختتام پر جب ندائے کشمیر کے بیورو چیف تنہا ایاز نے ضلع پلوامہ کی چیف میڈیکل آفیسر ڈاکٹر تحمینہ جمیل سے بات کی تو انہوں نے بتایا کہ عالمی یوم صحت منانے کا مقصد عام لوگوں میںصحت کے بارے میں بیداری پیدا کرنا ہے۔ہمارے یہاں آج تک صحت کے متعلق یہی عام بات رہی ہے کہ جب بھی کوئی انسان بیمار ہو تو اُس کو اسپتال پہنچانا ہے اور وقت پر دوائی پہنچانی ہے۔ جبکہ صحت صرف اسی بات تک محدود نہیں ہے۔ صحت کا مطلب انسانی کو ذہنی اور جسمانی طور تندرست رہنا ہے۔ ہمارے ار د گرد کا ماحول صحت مندر رکھنا ہے۔ہم نے ہر سال کی طرح اس سال بھی کوشش کی کہ ہم عام لوگوں تک صحت کی بیداری کے متعلق جانکاری پہنچائیں کہ صرف ایک شخص کا صحت مند ہونا ہی کافی نہیں ہے بلکہ ایک پورا کنبہ صحت مند ہو ۔ ہم نے کوشش کی کہ صحت کا خیال رکھنے کا مطلب صرف بیمار کا خیال رکھنا نہیں ہے بلکہ ہر اُس شخص کا خیال رکھنا ہے جو اس سماج میں موجود ہے۔ ہم نے کوشش کی کہ لوگوں کو اس جانکاری سے بھی آگاہ کیا جائے کہ صحت مند رہنے کیلئے رہن سہن اور کھان پان کیسا ہونا چاہئے تاکہ ایک صحت مند سماج تیار ہوسکے۔انہوں نے مزید کہا کہ اس سال جو تھیم ہے وہ اسی بات پر مبنی ہے کہ جب ہماری صحت ٹھیک رہی گی تو ہمارا مستقبل بھی محفوظ رہےگا۔ عالمی یوم صحت پر روشنی ڈالتے ہوئے محکمہ آیوش کے ڈسٹرکٹ نوڈل آفیسر ڈاکٹر فاروق نقشبندی نے کہا کہ ہماری جو اس سال کی تھیم ہے اُس کا مقصد ہے کہ جو نہی بچہ اس دنیا میں آئے یا جب ایک عورت حاملہ ہو تبھی سے ان کی صحت کے بارے میں خاص خیال رکھا جائے ۔ انہوں نے کہا کہ تقریبا 3لاکھ حاملہ عورتیں پچے کی پیدائش کے دوران موت کی شکار ہوجاتی ہیں اور دنیا بھر میں ہر سال تقریباً 20 لاکھ بچے مردہ پیدا ہوتے ہیں جو کہ بہت بڑی تعداد ہے۔اور یہی وجہ ہے کہ ہماری کوشش یہ رہی کہ ان اموات میں کسی طرح کمی لائی جائے۔ہماری بدقسمتی ہے کہ کچھ لوگ حاملہ عورتوں کا زیادہ خیال نہیں رکھتے ہیں جس کہ وجہ سے اکثر بچے یا تو مردہ پیدا ہوتے ہیں یا پیدا ہوتے ہی مر جاتے ہیں۔ اس لئے میں ہر ایک سے گزارش کرتا ہوں کہ جس گھر میں بھی حاملہ عورت ہو اُس کا بھر پور خیال رکھا جائے اور وقتاً فوقتاً اُن کو نزدیک طبی مراکز لے جایا کریں تاکہ اُن کی صحت کا بھر پور خیال رکھا جاسکے۔ ڈسٹرکٹ ہیلتھ افسر پلوامہ ڈاکٹر جاوید احمد کا کہنا تھا کہ اس سال کا جو عالمی یوم صحت کا تھیم ہے اُس کا مقصد یہ ہے کہ ہم حاملہ عورتوں کا خاص خیال رکھیں اور زچگی کے دوران ہونے والی اموات پر قابو پائیں۔ہماری کوشش ہے کہ زچگی کے دوران دونوں ماں اور بچے کا خیال رکھا جائے اور دونوں کی صحت کے متعلق اگر کوئی مسئلہ درپیش آتا ہے تو وقت پر اُس کا سدباب کیا جاسکےاور زچگی کے دوران پیش آنے والی اموات کو کم کیا جاسکے۔ چونکہ ضلع پلوامہ میں اس بار یہ دن چیف میڈیکل آفس پلوامہ اور ڈسٹرکٹ لیگل سروسز اتھارٹی پلوامہ کے باہمی اشتراک سےمنایا گیا تو ہمارے نمایندے تنہا ایاز نے ڈسٹرکٹ لیگل سروسز اتھارٹی سے وابستہ عاشق حسین سے بات کی تو انہوںنے بتایا کہ مختلف ہیلتھ سینٹروں سے حاملہ خواتین کو ضلع اسپتالوں کی طرف ریفر کیا جاتا ہے کہ وہاں پر ان حاملہ خواتین کو بہتر علاج و معالجہ فراہم کیا جاسکے مگر بدقسمتی کی بات ہے کہ یہاں پرریڈیالوجی صرف شام آٹھ بجے تک ہی میسر ہوتی ہے جس کی وجہ سے ان بیماروں کو بڑی پریشانیوں میں مبتلا ہونا پڑتا ہےدوسرا یہ کہ ہر ضلع اسپتال میں بچوں کیلئے ایک خاص ڈاکٹر ہونا چاہئے جو کہ انتہائی ضروری ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ یہ چیلڈ سپیشلسٹ یا گاینی ڈاکٹرز صرف ضلع اسپتالوں میں ہی نہیں بلکہ ہر ایک چھوٹے ہیلتھ سینٹروں پر بھی کم سے کم ہفتے میں ایک دن میسر ہونے چاہئے تاکہ بچوں کو یا حاملہ عورتوں کو زیادہ ضلع اسپتالوں کا رخ نہ کرنا پڑتا۔ اور میرا ماننا ہے کہ اگر ایسی سہولیات ان سینٹروں پر دستیاب رکھی جائیں تو یقیناً آج کے دن کی یہ جو تھیم ہے اس کا مقصد پورا ہوجاتاہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں