کلچرل اکیڈیمی کے اہتمام سے منظور آکاش کے شعری مجموعے کی رونمائی 0

کلچرل اکیڈیمی کے اہتمام سے منظور آکاش کے شعری مجموعے کی رونمائی

تقریب میں فن، ادب، ثقافت، موسیقی اور تھیٹر جیسے شعبوں کو فروغ دینے کی اہمیت پر زور
سری نگر، 5 اپریل:
جموں و کشمیر اکیڈمی آف آرٹ، کلچر اینڈ لینگویجز کے اہتمام سے آج کانفرنس ہال ٹیگور ہال میں ایک ادبی تقریب کا انعقاد کیا گیا۔ جسمیں منظور آکاش کا انگریزی شعر ی مجنوعہ Between Echoes and Shadow کی رونمائی انجام دی گئی۔ تقریب کی صدارت سابق سیکریٹری کلچرل اکیڈیمی ڈاکٹر رفیق مسعودی نے کی۔جبکہ ایڈیشنل سیکریٹری کشمیر کلچرل اکیڈیمی عدیل سلیم، کتاب کے مصنف منظور آکاش اور ایڈیٹر انگریزی عابد احمد بھی ایوانِ صدارت میں موجود تھے۔تقریب کے آغاز میں ایڈیشنل سیکریٹری نے مہمانوں کا والہانہ استقبال کیا۔ انہوں نے فن، ادب، ثقافت، موسیقی، تھیٹر وغیرہ کے متنوع شعبوں میں مقامی ٹیلنٹ کو فروغ دینے کے لیے اکیڈیمی کی جانب سے شروع کی گئی مختلف اسکیموں اور اقدامات کے بارے میں بھی تفصیل سے آگاہ کیا۔ تقریب کیصدر ڈاکٹر رفیق مسعودی نے اس موقعے پر اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے آج کی دنیا میں تخلیقی اظہار بالخصوص شاعری کی اہمیت پر زور دیا۔ انہوں نے دوسری زبانوں پر عبور کے ساتھ ساتھ مادری زبان کو جاننے کی اہمیت پر بھی بات کی۔ممتاز ادیب اور ماہر تعلیم افتخار عمران نے منظور آکاش کے شعری مجموعے Between Echoes and Shadowپر تنقیدی جائزہ پیش کیا۔ انہوں نے شاعر کے گہرے مشاہدے کو سراہا جو کتاب کے موضوعاتی تنوع سے ظاہر ہوتا ہے۔تقریب میں ادیبوں، شاعروں، دانشوروں کے علاوہ سکالروں نے شرکت کی۔ تقریب پر شہناز رشید ، شفیع احمد، ڈاکٹر نیلوفر ناز نحوی، محمد یوسف شاہین، پروفیسر اسحاق وانی، پروفیسر طارق احمد، بشارت معراج اور فیصل جاوید شامل تھے۔ تقریب پر مقررین نے کلچرل اکیڈیمی کی کاوشوں کی سراہنا کی اور منظور آکاش جیسے مصنفین کی حوصلہ افزائی کرنے اور مستقل بنیادوں پر اس طرح کے ادبی اجتماعات منعقد کرنے پر مبارکباد دی۔تقریب میں صاحبِ کتاب منظور آکاش نے اپنے شعری مجموعے سے چنداقتباسات پڑھے، جس سے سامعین کو ان کی تخلیقی مصروفیات کی جھلک ملی۔ تقریب کی نظامت کے فرائض ایڈیٹر انگریزی عابد احمد نے انجام دئے

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں