170

بھرتی عمل کے لئے جموں و کشمیر میں پہلے سے ہی شفاف طریقۂ کار موجود ہے۔مشیر خان

سری نگر میں ہفتہ وار عوامی شکایتی دربار میں زائد از 90 وفود اور اَفراد سے ملے

سرینگر ، 22 اکتوبر// لیفٹیننٹ گورنر کے مشیر فاروق خان نے آج کہا کہ جموں و کشمیر میں بھرتیوں کے لئے ایک شفاف طریقۂ کار پہلے سے موجود ہے جس کے لئے کسی بھی ملازمت کے خواہشمند کو سرکاری خدمات میں داخلے کے لئے طریقۂ کار پر عمل کرنا ہوگا۔مشیر نے اِن باتوں کا اظہار آج لیفٹیننٹ گورنر س شکایتی سیل چرچ لین سونہ وارمیں اَپنے ہفتہ وار عوامی شکایتی ازالہ کیمپ کے دوران کیا ۔کشمیر اور جموں ڈویژن کے مختلف علاقوں سے تعلق رکھنے والے زائد از 90 عوامی وفود اور اَفراد نے مشیر سے ملاقات کی اور اَپنے علاقوں کے مختلف مسائل جیسے تعلیم ، سڑک رابطے ، صحت معاملا ت وغیرہ مشیر کو گوش گذار کئے اور ان کے ازالے کے لئے مشیر کی ذاتی مداخلت طلب کی۔ضلع بڈگام کے علاقے چیک پورہ کلان سے آئے ایک وفد نے گاؤں میں سرکاری راشن گھاٹ چالو کرنے کی مانگ کی۔ اسی طرح بین الاقوامی گوجر مہاسبھا کے ایک اور وفد نے لولاب کے علاقے گاؤں میدان پورہ میں ایس بی آئی برانچ کے قیام کی مانگ کی۔جسمانی طور خاص افراد کی طرف سے ایک وفد نے نابینا بچوں کے سکولی مسائل ، تھری وہیلر سکوٹیاں ، ماہانہ الائونس میں اِضافے کے معاملات اُٹھائے۔اسی طرح این آئی ایس کمیونٹی کوچوں کی ایک نمائندگی نے محکمہ امورِ نوجوان و کھیل کود میں ان کی خدمات کو باقاعدہ کرنے اور التوأ اجرتوں کو واگزار کرنے کی مانگ کی۔ بڈگام کے گاؤں کانہامہ کے ایک وفد نے اپنے علاقے میں سڑکوں کی تجدید و مرمت کی مانگ کی۔اننت ناگ سے آل ٹرائبل کاڈی نیشن کمیٹی کے ایک اور وفد نے مشیر کے سامنے متعدد ترقیاتی امور اُٹھائے۔کیمپ کے دوران اُٹھائے گئے دیگر امور میں بجلی کے شعبے ، تعلیم ، پی ایچ ای اور آبپاشی ، صحت ، صنعت و اطلاعات کے محکموں ، سڑکوں ، نالوں ،سکولوں اور دیگر عوامی سہولیات کی درجہ بندی ، زمین تجاوزات کے مسائل کے علاوہ سماجی بہبود ، آئی سی ڈی ایس ، بڑھاپے اور ناخیز افراد کا پنشن سے متعلق متعدد امور شامل ہیں۔بارہمولہ ، رفیع آباد ، سوپور ، سری نگر ، پلوامہ ، پامپور ، راجوری ، پونچھ ، جموں ، کپواڑہ ، ہندواڑہ اور دیگر علاقوں سے متعدد دیگر افراد اور نمائندوں نے بھی مشیر سے ملاقات کی اور اپنے معاملات اور مشکلات گوش گذار کئے۔مشیر خان نے اَفراد اور وَفود کے مسائل بغور سنے اور انہیں یقین دِلایا کہ ان کے معاملات اور مسائل پر غور کیا جائے گا۔(انفو)

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں