ماہِ رمضاں آ گیا 0

ماہِ رمضاں آ گیا

( رمضان المبارک کے استقبال میں )

علی شاہد ؔ دلکش

لیجئے رحمت لُٹانے ماہِ رمضاں آگیا
کھل گئے رب کے خزانے ماہِ رمضاں آگیا
دکھ کے بادل کو ہٹانے ماہِ رمضاں آگیا
بارشیں سکھ کی کرانے ماہِ رمضاں آگیا
دل سے استقبال ہے اے نوری موسم اب ترا
روح کو فرحت بنانے ماہِ رمضاں آگیا
خلق پر رب کی عطا دن رات ہو گی بالیقیں
رب سے سب کچھ بخشوانے ماہِ رمضاں آگیا
اپنے رب کی بندگی سے ہو چکا تھا دور جو
رب سے بندے کو ملانے ماہِ رمضاں آگیا
زور کم ہو جائے گا اس ماہ میں شیطان کا
من عبادت میں لگانے ماہِ رمضاں آگیا
امتی کے واسطے ہے فضلِ ربی دیکھئے
کُل گناہوں کو مٹانے ماہِ رمضاں آگیا
فقر و فاقہ تیس روزے کا صلہ دیتا ہے رب
نعمتیں ذیشاں دِلانے ماہِ رمضاں آگیا
شکوہ، غیبت، فتنہ سازی کلمہ گو میں عام ہے
ہر برائی سے بچانے ماہِ رمضاں آگیا
روح کی تقدیس ہو گی نفس کی تطہیر سے
صائمو! قدسی بنانے ماہِ رمضاں آگیا
نیک کاموں کا اجر ستر گنا ہو جائے گا
کھل گئے عرشی خزانے ماہِ رمضاں آگیا
رات دن فضلِ خدا کی ہوگی بارش ہر طرف
ابر رحمت خود لٹانے ماہِ رمضاں آگیا
بجھ گئے تھے جن کے چہرے لغزشوں سے رات دن
نور چہروں پر بڑھانے ماہِ رمضاں آگیا
بھاگ جاگیں گے ہمارے یوں بھی دستر خوان کے
سحری ، افطاری کھلانے ماہِ رمضاں آگیا
آخری عشرے میں جگنے کی فضیلت خوب ہے
پھوٹی قسمت کو جگانے ماہِ رمضاں آگیا
دیکھئے فطرے میں بھی قدرت کی حکمت ہے غضب
پست بندوں کو اُٹھانے ماہِ رمضاں آگیا
ہم مناتے کیا بھلا! شاہدؔ خدا کا ہے کرم
رب کو ایسے میں منانے ماہِ رمضاں آگیا
�����
فکر: علی شاہد ؔ دلکش، مغربی بنگال، بھارت
رابطہ: 8820239345

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں