ساحر لدھیانوی:محنت کش طبقے کا نمائندہ شاعر‎ 0

ساحر لدھیانوی:محنت کش طبقے کا نمائندہ شاعر‎

خورشید جمال

‘آج سے اے مزدور کسانوں میرے گیت تمہارے ہیں
(محنت کش طبقے کا نمائندہ شاعر:ساحر لدھیانوی)
ایک اچھا شاعر یا ادیب حساس ہوتا ہے۔وہ اپنے ماحول میں روز و شب رونما ہونے والے واقعات یا کسی بھی طرح کی زیادتی یا ظلم و بربریت یا پھر نا انصافی کو صرف دیکھتا ہی نہیں ہے بلکہ اپنی تحریروں کے ذریعہ انھیں اجاگر بھی کرتا ہے اور اپنی مخالفت کا اظہار بھی کرتا ہے نیز ان مسائل کے حل کے لئے حتی الامکان کوششیں بھی کرتا ہے۔
ساحر لدھیانوی بھی ایک ایسے ہی شاعر تھے اور متذکرہ صفات انکے اندر بدرجہ اتم موجود تھی۔عوامی مسائل انکی شاعری کی پہچان تھی اور ہے یہی وجہ ہے کہ انھیں ‘عوامی شاعر کہا جاتا ہے۔ انہوں نے اپنی شاعری کے ذریعہ رجعت پسندی احتجاج اور مزاحمت کے جذبے رقم کئے۔انکی شاعری دل کو چھو لینے والےانقلابی نغموں اور جبر و استحصال کے خلاف احتجاجی نظموں کی شکل میں اپنے عہد کے انسانوں کی ترجمانی کرتی ہے۔بقول شاعر و ادیب سلیمان اطہر جاوید : ”ان (ساحر) کے یہاں محنت کشوںمزدوروں ,کسانوں اور مظلوموں کے جذبات و احساسات کی تصویریں اور تفسیریں ملتی ہیں۔“
آپ(ساحر) نے ”آج سے اے مزدور کسانوں میرے گیت تمہارے ہیں“ وہ صبح کبھی تو آئے گی“ جیسی نظموں اور متعدد گیتوں کے ذریعہ محنت کش طبقہ کی نمائندگی ہی نہیں کی بلکہ انھیں جینے کے لئے حوصلہ بھی بخشا۔ آپ نے متعدد اشعارگیتوں اور نظموں کے ذریعہ اس بات کو واضح کیا ہے کہ آپ کی شاعری اور فکر و فن کا مقصد محنت کش طبقہ کی نمائندگی اور انکے حقوق کا مطالبہ ہے۔اس تناظر میں انکے مخصوص اشعار ملاحظہ فرمائیں:
فن جو نادار تک نہیں پہنچا
ابھی معیار تک نہیں پہنچا
انقلاباتِ دہر کی بنیاد
حق جو حقدار تک نہیں پہنچا
آج سے اے مزدور کسانوں میرے گیت تمہارے ہیں
فاقہ کش انسانوں میرے جوگ بہاگ تمہارے ہیں
جب تک تم بھوکے ننگے ہو یہ نغمے خاموش نہ ہوں گے
جب تک بے آرام ہو تم یہ نغمے راحت کوش نہ ہوں گے
مجھ کو اس کا رنج نہیں ہے لوگ مجھے فنکار نہ مانے
فکر و فن کے تاجر میرے شعروں کو اشعار نہ مانے
میرا فن میری امیدیں آج سے تم کو ارپن ہے
آج سے میرے گیت تمہارے دکھ اور سکھ کا درپن ہے
ساحر نے اپنی شاعری اور گیتوں کے ذریعہ سرمایہ داری اور غلامی کے تصور کو ختم کرنے کی ہر ممکن کوشش کی اور عوام کو بیدار کیا۔ آپ خود فرماتے ہیں کہ: ”میری ہمیشہ کوشش رہی ہے کہ جہاں تک ممکن ہو فلمی نغموں کو تخلیقی شاعری کے قریب لاسکوں اور اس صنف کے ذریعے جدید سماجی اور سیاسی نظرئیے عوام تک پہنچا سکوں۔“ غالباََ آپ نے اسی تناظر میں درج ذیل شعر کہا تھا کہ:
دنیا نے تجربات و حوادث کی شکل میں
جو کچھ مجھے دیا ہے وہ لوٹا رہا ہوں میں
رومانیت اور انقلابیات آپ کی شاعری کا حسین امتزاج ہے۔ آپ نے رومانیت اور انقلابیت پر مبنی متعدد اشعار اور گیتوں کے ذریعہ غریبوں،مزدوروں اور کسانوں کے حالات و جذبات اور احساسات کی عکاسی بہت سلیقے سے اور موئثر انداز میں کی ہے۔ اس تناظر میں چند اشعار ملاحظہ فرمائیں:
زندگی صرف محبت نہیں کچھ اوربھی ہے
زلف و رخسار کی جنت نہیں کچھ اور بھی ہے
بھوک اورپیاس کی ماری ہوئی اس دنیا میں
عشق ہی ایک حقیقت نہیں کچھ اوربھی ہے
ہر ایک گھر میں افلاس اور بھوک کا شور
ہر ایک سمت یہ انسانیت کی آہ و بکا
یہ کارخانے میں لوہے کا شور و غل جس میں
ہے دفن لاکھوں غریبوں کی روح کا نغمہ
افلاس زدہ دہقانوں کے ہل بیل بکے کھلیان بکے
جینے کی تمنا کے ہاتھوں جینے کے ہی سب سامان بکے
ہمیں سے رنگ گلستاں ہمیں سے رنگ بہار
ہمیں کو نظمِ گلستاں پہ اختیارنہیں
ساحر ایک ایسے شاعر تھے جو آئین , سماج , سیاست اور اقتدار سے آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر سوال کرنے کی جرأت رکھتے تھے۔ آپ نے اپنی شاعری اور حق گوئی و بیباکی سے حکومتِ وقت اور ارباب اقتدار کو بھی متوجہ کیا۔ فلم ‘پیاسا کے گیت ”جنہیں ناز ہے ہند پر وہ کہاں ہیں“ سن کر اس وقت کے وزیر اعظم پنڈت جواہر لعل نہرو بھی کافی متاثر ہوئے تھے۔
ذرا ملک کے رہبروں کو بلاؤ
یہ کوچے یہ گلیاں یہ منظر دکھاؤ
جنہیں ناز ہے ہند پر ان کو لاؤ
جنہیں ناز ہے ہند پر وہ کہاں ہیں
کہاں ہیں , کہاں ہیں , کہاں ہیں
ساحر نے اپنی نظموں اور گیتوں کے ذریعہ محنت کش طبقہ کے اندر ایک ایسا جذبہ پیدا کیا جو معاشرے پر چھائی ہوئی کالی گھٹاؤ کو چاک کرکے اجالے کو نکھارتا ہے اور صبر آزما اور مشکل لمحات میں بھی انکا حوصلہ اور عزم جواں رکھتا ہے۔انہوں نے دنیا کو بہت کچھ دیا اور کچھ نہ بھی دیا ہو تو خواب ضرور دئے۔ وہ خواب جس سے جینے کے لئے حوصلہ ملتا ہے اور آگے بڑھنے کا جذبہ۔۔اس پس منظر میں انکے اشعار آپ قارئین کی نذر ہیں۔:
ان کالی صدیوں کے سر سے جب رات کا آنچل ڈھلکے گا
جب دکھ کے بادل پگھلیں گے جب سکھ کا ساگر چھلکے گا
جب امبر جھوم کے ناچے گا جب دھرتی نغمے گائے گی
وہ صبح کبھی تو آئے گی وہ صبح کبھی تو آئے گی
پونچھ کر اشک اپنی آنکھوں سے مسکراؤ تو کوئی بات بنے
سر جھکانے سے کچھ نہیں ہوتا سر اٹھاؤ تو کوئی بات بنے
زندگی بھیک میں نہیں ملتی زندگی بڑھ کے چھینی جاتی ہے
اپنا حق سنگ دل زمانے سے چھین پاؤ تو کوئی بات بنے
نہ منہ چھپاؤ کے جیو اور نہ سر جھکا کے جیو
غموں کا دور بھی آئے تو مسکرا کے جیو
المختصر ساحر لدھیانوی محنت کش طبقہ کے ایک نمائندہ شاعر تھے۔انہوں نےاپنی شاعری کے ذریعہ مزدوروں کے حقوق کسانوں کے ساتھ ہونے والی نا انصافی اور غریبوں پر ہونے والے ظلم کو اجاگر کیا ۔ محنت کش طبقہ کو مایوسی اور محرومی کی زندگی سے باہر نکال کر انکے چہرے پر مسکراہٹ بکھیرنے کی کوشش کی نیز انکی خاردار راہوں میں امیدوں کے پھول کھلائے ۔ وہ(ساحر) اپنے اس شعر کے مصداق ہیں کہ:
مانا کہ اس زمین کو نہ گلزار کر سکے
کچھ خار کم تو کرگئے گزرے جدھر سے ہم
����

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں