راستے بند ہونے کے آڑ میں لوٹنے کا عمل تیز،متعلقہ محکمے غائب
سرینگر؍یکم ،ستمبر ؍وادی کشمیر میں گزشتہ روز سے مختلف قسم کی سبزی،پھلوں اور انڈے وغیرہ کی قیمتوں میں ہوش ربا اضافہ ہوا ہے، جس کے نتیجے میں لوگ سخت مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں۔ادھر عوامی حلقوں کا کہنا ہے قیمتوں پر نظر گزر رکھنے ولے محکمے کا کوئی اتہ پتہ نہیں ہے ۔کشمیر نیوز سروس ( کے این ایس ) کے مطابق وادی کشمیر میں گزشتہ کئی روز سے بازار میں روز مرہ میں کام آنے والے اشیاء ضرویہ کی قیمتوں کئی گنا اضا ہوا ہے جس کے نتیجے میں عوام خاص کر غریب غربات لوگ طرح کے مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں ۔کشمیر نیوز سروس کے نامہ نگار نے سرینگر کے مختلف بازاروں کا دورہ کر کے ازخود عوامی شکایات کا جائز لیا ہے، جو سو فیصد سچ ثابت ہوئے ہیں ،جہاں کیلا100روپے سے120دیگر قسم کے میوہ جاتا میں 30سے40فیصد اضافہ دیکھا گیا ہے, جبکہ سبزیو قیمتیں بھی آسمان کو چو رہے ہیں جس میں پیاز40،ٹماٹر60سے70،آلو،40سے50کے ساتھ ساتھ باقی سبزیوسونے کے بک رہے ہیں ۔اس دوران انڈے کی قیمتوں میں حد سے زیادہ اضافہ ہوا ہے ۔مقامی لوگوں نے بتایا انڈا چار روپے ملتا تھا وہ کئی روز سے6روپے کے حساب سے ملتا ہے ۔لوگوں نے الزام لگا یا کہ قیمتوں پر کنٹرول رکھنے والا محکمہ کہیں نظر نہیں آتا ہے جس کے سبب عوام بے یار مدد گار نظر آ رہا ہے ۔اس دوران کچھ ڈیلران نے بتایا کہ حالیہ مسلسل کئی روز کی بارشوں کے کے بعد سرینگر جموں شاہراہ 4روز تک بند رہنے کے بعدتمام قسم کے اشیاء ضرویہ میں زبردست اضافہ دیکھنے میں آیا ہے جس کے نتیجے میں عوام کو سخت مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے ۔اس دوران کشمیر نیوز سروس کے نامہ نگاروں نے ضلع صدر مقامات سے اطلاع دی ہے کہ یہاں بھی اشیاء ضروریہ کی قیمتوں میں زبردست اضافہ کیا گیا ہے نمائدوں نے لوگوں کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا اس طرح موسم سرما ہوتا تھا تاہم امسال سرما سے کئی ماہ قبل ہی ہوا ہے ۔
156
