ادبی انجمن "انہار کشمیر" کی جانب سے مقبول عام پروگرام تنقید برائے تعمیر کا پھر سے ہوا آغاز 0

ادبی انجمن “انہار کشمیر” کی جانب سے مقبول عام پروگرام تنقید برائے تعمیر کا پھر سے ہوا آغاز

سلیم یوسف کی غزل پر شاہباز ہاکباری نے کیا تفصیل سے تبصرہ

سرینگر/ ندائے کشمیر/شافیہ گلفام

وادی کی معروف ادبی انجمن “انہار کشمیر” کی جانب سے مقبول عام تنقید برائے تعمیر پروگرام کا سلسلہ پھر سے شروع کیا گیا ہے اور اس پروگرام میں کسی معروف شاعر کی ایک غزل یا نظم کو تنقید برائے تعمیر کے لئے منتخب کیا جاتا ہے اور بعد میں اس غزل یا نظم پر تنقیدی تبصرہ پیش کیا جاتا ہے۔ اس تنقیدی تبصرے کا مقصد منتخب کلام میں پائی جانے والی خامیوں یا اچھائیوں کو اجاگر کرنا ہوتا ہے تاکہ قلم کار کو رہبری اور رہنمائی کے ساتھ ساتھ حوصلہ افزائی بھی حاصل ہو جائے۔حالیہ پروگرام میں وادی کے معروف ادیب۔ قلم کار اور شاعر سلیم یوسف چیلکی کی ایک غزل کو تنقید برائے تعمیر کے لئے منتخب کیا گیا تھا جس پر بعد میں معروف ادیب۔ قلم کار۔ نقاد۔ تنقید نگار۔ شاعر اور ماہر تعلیم شاہباز ہاکباری نے اپنا تنقیدی تبصرہ تفصیل سے پیش کیا.شاہباز ہاکباری نے غزل کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ بہترین الفاظ کے انتخاب سے شاعر نے غزل کے ساتھ پورا انصاف کیا ہےجس کے لئے سلیم یوسف مبارکبادی کے مستحق ہیں۔ پروگرام کے ترتیب کار اور پیش کار گلفام بارجی تھے جبکہ تکنیکی معاون ساحل ڈار اور پروگرام انچارج رتبہ قریشی تھیں۔ پروگرام کے نگران فیاض تلگامی۔ جمیل انصاری اور انہار کشمیر کے بانی ریاض پروانہ تھے۔ پروگرام کے اختتام پر سلیم یوسف چیلکی نے انہار کشمیر کے منتظمین اور خاص کر شاہباز ہاکباری کا شکریہ ادا کیا۔یہ بات قابل ذکر ہےکہ ادبی حلقوں میں انہار کشمیر کے اس منفرد اقدام کی کافی سراہنا کی جارہی ہے،

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں