سمینار میں رحمان راہی کے کئی ادبی پہلوئوں کو اُجاگر کیا گیا
سرینگر/ ندائے کشمیر/جمیل انصاری/
جموں اینڈ کشمیر اکیڈیمی آف آرٹ کلچر اینڈ لینگویجز کے اہتمام سے جاری ٹیگور ہال سرینگر میں پروفیسر رحمان راہی کی شخصیت اور ادبی کارناموں کے موضوع پر دو روزہ کشمیری سمینار آج اختتام پذیر ہوا۔ابتداء میں ایڈیٹر کشمیری جاوید اقبال خان نے مہمانوں کا والہانہ استقبال کیا۔سمینار کے دوسرے دن کی چوتھی نشست کی صدارت پروفیسر شاد رمضان نے کی۔ اس نشست میں یوسف جہانگیر، شمشاد کرالہ واری، شبیر احمد شبیر، ڈاکٹر شفقت الطاف اور ظریف احمد ظریف نے پروفیسر راہی کی شعریات پر مفصل مقالے پیش کئے۔اس نشست کی نظامت کے فرائض شعبہ کشمیری کے اسسٹنٹ ایڈیٹر ڈاکٹر گلزار احمد راتھر نے انجام دئے۔سمینار کی پانچویں نشست کی صدارت ظریف احمد ظریف نے کی۔ اس نشست میں منشور بانہالی، عبدالخالق شمس، اعجاز محمد شیخ نے پروفیسر راہی کے فن پر اپنے مقالات پیش کئے۔ اس نشست کی نظامت کے فرائض شعبہ کشمیری کے ایڈیٹر جاوید اقبال خان نیانجام دئے۔سمینار کی چھٹی نشست میں محفلِ مشاعرہ کا انعقاد کیا گیا۔ اس نشست کی صدارت پروفیسر محمد زمان آزردہ نے کی۔ مشاعرے میں وادی کے اطراف و اکناف سے آئے قریبن بیس شعراء نے پروفیسر رحمان راہی کو شایانِ شان خراج عقیدت پیش کیا۔مشاعرے کی نظامت کے فرائض شعبہ کشمیری کے ریسرچ اسسٹنٹ مقبول ساجد نے انجام دئے۔ مشاعرے میں جن شعراء کرام نے اپنا منظوم کلام پیش کیا اُن میں محمد زمان آزردہ،شاد رمضان، شیر علی مشغول،رنجور تلگامی، شوکت انصاری، شوکت تلگامی، ڈاکٹر مسرور مظفر،ساگر سرفراز، مظفر حسین دلبر، اظہار مبشر،عبدالرحمان فدا، سکندر ارشاد، رشید کانسپوری، ڈاکٹر شیدا حسین شیدا، نگہت نسرین، ڈاکٹر امتیاز لون قابلِ ذکر ہیں۔ سمینار کے اختتام پر ایڈیٹر کشمیری جاوید اقبال خان نے شکریہ کی تحریک پیش کی۔سمینار میں وادی کے سرکردہ ادیبوں، دانشوروں اور سکالروں کی کہکشاں موجود تھی۔
