210

پلوامہ کے معروف صوفی شاعر کا انتقال، ادبی حلقوں میں رنج

کئی دینی، سماجی اور ادبی حلقوں نے شاندار خراج عقیدت پیش کیا
سرینگر؍جنوبی ضلع پلوامہ کے صوفی شاعر انتقال پا گئے ۔انکے انتقال سے کشمیر کے ادبی حلقوں میں زبردست رنج وغم کا اظہار کیا گیا۔ مرحوم پلوامہ کے نیو کالونی میں رہتے تھے تاہم اصل میں وہ ترال کے تھے اس لئے انہیں ترال میں ہی سپرد خاک کیا گیا۔ کشمیر نیوز سروس ( کے این ایس )کے مطابق قصبہ پلوامہ کے صوفی شاعرحبیب اللہ میر عرف مظلوم انتقال کر گئے۔ صوفی شاعر کے انتقال پر سماج کے مختلف طبقوں دینی، سماجی اور ادبی حلقوں نے سخت رنج و غم کا اظہار کر تے ہوئے مرحوم کے ادبی خدمات کو سراہایا۔ نمائندے کے مطابق ڈسڑکٹ کلچرل سوسائٹی پلوامہ کے سرپرست اعلیٰ غلام رسول مشکور نے صوفی شاعر کے انتقال پر رنج کا اظہار کر تے ہوئے کہا کہ مرحوم نہایت ہی شریف انسان تھے ۔انہوں نے مرحوم کو خراج عقیدت پیش کر تے ہوئے کہا کہ انکے انتقال سے کشمیری زبان کو بڑا نقصان پہنچا ہے۔ اس دوران ادبی تنظیم ڈسڑکٹ کلچر ل سوسائٹی پلوامہ جنرل سیکریٹری جلال الدین دلنواز اور کھریو پانپورہ کے معروف سماجی کارکن اور شاعر جی ایم دلشاد نے صوفی شاعر حبیب اللہ میر کے وفات پر زبردست رنج وغم کا اظہار کر تے ہوئے کہا کہ مرحوم نہایت ہی شریف انسان تھے۔ انہوں نے کہا کہ مرحوم کے انتقال سے جو خلاء پیدا ہوا ہے اسکی کسی بھی صورت میں بر پائی نا ممکن ہے ا دھر وادی کے کئی ادبی تنظیموں جن میں اے آر آزاد میموریل فائونڈیشن قوئیل، نو ادبی کاروان پلوامہ اور مراز ادبی سنگم نے صوفی شاعر کے انتقال پر دکھ کا اظہار کیا۔ ادھر چرار شریف کے نامور شاعر عنایت گُل اور وادی کے معروف قلمکار شاعر اور ادیب عبدالرحمان فدا نے صوفی شاعر مظلوم کی وفات پر گہرے صدمے کا اظہار کر تے ہوئے مرحوم کو شاندار الفاظ میں خراج عقیدت پیش کیا۔ دریں اثناء ڈسڑکٹ کلچرل سوسائٹی پلوامہ کا ایک وفد شاعر شاکر فاروق کی صدارت میں نائو پورہ ترال گیا اور وہاں فاتحہ خوانی کی اور مرحوم کے لواحقین کے ساتھ تعزیت اور ہمدردی کا اظہار کیا۔ نمائندے تنہاایاز کے مطابق صوفی شاعر پلوامہ کے نیو کالونی میں رہتے تھے جبکہ وہ اصل میں نائو پورہ ترال کے رہنے والے تھے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں