سری لنکا معاشی بحران: ’ہم اب گوشت اور انڈے نہیں خرید سکتے کیونکہ قیمتیں چھ گنا بڑھ چکی ہیں‘ 0

سری لنکا معاشی بحران: ’ہم اب گوشت اور انڈے نہیں خرید سکتے کیونکہ قیمتیں چھ گنا بڑھ چکی ہیں‘

آمدن میں کمی کی وجہ نادیکا کے لیے اپنے بچوں کو سکول بھیجنا مشکل ہو گیا ہے
تین بچوں کے والد اور یومیہ اجرت کمانے والے کروپایا کمار کہتے ہیں کہ ’جیک فروٹ کا درخت ہم جیسے لاکھوں لوگوں کو پالتا ہے۔ یہ وہ درخت تھا جس نے ہمیں بھوک سے بچا لیا۔‘
کبھی ایک کم قیمت پھل جو بیچا نہیں جا سکتا تھا اور درختوں کے نیچے پڑا رہتا تھا، اب ایک نجات دہندہ ہے۔
چالیس سالہ کمارکہتے ہیں کہ ’معاشی بحران سے پہلے لوگوں کے پاس چاول یا روٹی کھانے کے لیے کافی پیسے ہوتے تھے، لیکن اب خوراک کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کے ساتھ، بہت سے لوگ تقریباً ہر روز جیک فروٹ کھاتے ہیں۔‘
سری لنکا کی آبادی کا تقریباً ایک تہائی حصہ خوراک کے عدم تحفظ کا شکار ہے، جہاں دو میں سے ایک گھر اپنی آمدنی کا 70 فیصد سے زیادہ خوراک پر خرچ کرتا ہے۔
تین بچوں کی ماں 42 سالہ نادیکا پریرا کہتی ہیں: ’پہلے ہم تین وقت کا کھانا کھاتے تھے، اب اسے کم کر کے دو کر دیا گیا ہے۔ پچھلے سال تک 12 کلو گھریلو گیس سلنڈر کی قیمت تقریباً 1500 روپے تھی۔‘
ناریل کے چھلکوں سے چولہا جلاتے ہوئے دھوئیں میں ڈوبی ہوئی نادیکا کہتی ہیں ’اب جب کہ ایک سلنڈر کی قیمت دوگنی سے بھی زیادہ ہو گئی ہے، روایتی طریقے سے کھانا پکانے کا واحد آپشن بچا ہے۔‘
جب سے سری لنکا 2022 میں اپنے بدترین مالی بحران کا شکار ہونا شروع ہوا ہے، آمدنی میں کمی آئی ہے اور خوراک کی قیمتوں میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے۔
مہینوں کی مسلسل بجلی کی کٹوتی اور ایندھن کی قلت کے ساتھ، لوگوں نے نو جولائی 2022 کو صدر گوٹابھایا راجا پکشے کی سرکاری رہائش گاہ پر دھاوا بول دیا، اور انھیں ملک سے فرار ہونے پر مجبور کر دیا۔
اس کے بعد سے حکومت کی جانب سے بین الاقوامی مالیاتی فنڈ سے مالی امداد حاصل کرنے کی کوششیں کامیاب رہی ہیں تاہم غربت کی شرح دوگنی ہو گئی ہے۔
نادیکا کولمبو میں دو بیڈ روم والے گھر میں اپنے شوہر اور بچوں کے ساتھ رہتی ہیں۔ وہ نیشنل کیرم چیمپئن شپ میں رنرز اپ ہے اور شدید مالی مشکلات کا شکار ہے۔
لیکن وہ میچ ریفری کی ملازمت سے ہاتھ دھو بیٹھی ہے اور اس کے شوہر اب ٹیکسی ڈرائیور کے طور پر کام کر کے پیسے کمانے کی کوشش کر رہے ہیں۔
نادیکا کہتی ہیں کہ ’ہم اب گوشت اور انڈے نہیں خرید سکتے کیونکہ قیمتیں چھ گنا بڑھ چکی ہیں۔ اکثر بچے سکول بھی نہیں جاتے کیونکہ وہ بس کا کرایہ برداشت نہیں کر سکتے۔ مجھے امید ہے کہ گیس کی قیمتیں اور یہ بل ایک دن نیچے آئیں گے۔‘
فروری میں افراط زر کی شرح 54 فیصد سے کم ہو کر جون میں 12 فیصد پر آگئی، لیکن حکومت گھریلو آمدنی میں کمی کے باعث بڑھتی ہوئی قیمتوں کو کنٹرول کرنے کے لیے جدوجہد کر رہی ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں