کٹھوعہ // ضلع کٹھوعہ کی تحصیل بنی کے عوام نے سب ضلع اسپتال بنی میں ڈاکٹروں اور پیرا میڈیکل اسٹاف کی کمی پر شدید تشویش کا اظہار کیا ، لوگوں کے مطابق سب ضلع اسپتال بنی میں ڈاکٹروں اور پیرا میڈیکل اسٹاف کی کمی ہونے کی وجہ سے ہمیں مریضوں کو جی ایم سی جموں منتقل کرنے پر مجبور ہونا پڑ رہا ہے، جو کہ بنی سے تقریباً 235 کلومیٹر کی دوری پر واقع ہے۔علاقہ بنی سے تعلق رکھنے والے ایک معروف سماجی کارکن مدثر علی نے ندائے کشمیر کو بتایا کہ اس جدید دور میں جہاں حکومت بڑے بڑے دعوے کر رہی ہے وہیں زمینی سطح پر اسکا فقدان دیکھنے کو مل رہا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ دور دراز علاقوں میں طبی سہولیات کی عدم دستیابی حکومت وقت کی نااہلی کو عیاں کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کی تحصیل بنی میں رہنے والے لوگوں کے ساتھ ہمیشہ سے سوتیلی ماں کا سلوک کیا گیا ہے، جو کہ ناقابل برداشت ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ ایس ڈی ایچ بنی اب ایک ریفرل اسپتال بن کر رہ گیا ہے کیونکہ ایس ڈی ایچ میں نہ تو کوئی ماہر طبیب اور نہ ہی جانچ اور علاج کے لئے مناسب آلات دستیاب ہیں۔ جسکی وجہ سے تحصیل بنی کے لوگ خون کے آنسو رو رہے ہیں۔ مدثر علی نے لیفٹیننٹ گورنر جموں و کشمیر منوج سنہا ڈائریکٹر ہیلتھ اور ضلع ترقیاتی کمشنر کٹھوعہ سے اس معاملے میں مداخلت کر کے عوام کی مشکلات کو حل کرنے کی اپیل کی ہے۔
0
- فیس بک
- ٹویٹر
- واٹس ایپ
- ای میل
