کہیں راشن کارڈ و یریفیکیشن کے نام پر لوٹ، کہیں انکم سرٹیفیکیٹ جمع کروانے کے قولی فرمان تو کہیں سٹوروں پر گندم ہی نہیں موجود ۔
ندائے کشمیر
ماجد چوہدری
پونچھ/۲۹ اپریل ۲۰۲۳/ مرکزی زیرِ انتظام جموں و کشمیر کے سرحدی ضلع پونچھ کی عوام کا محکمہ خوراک و شہری رسادات، امورِ صارفین و عوامی تقسیم کاری کے ملازمین نے عوام کی ناک میں دم کر رکھا ہے ۔ کہیں راشن کی دوکانوں پر عام لوگوں کو انکم سرٹیفکیٹ جمع کروانے کے لیے قولی فرمان دیئے جارہے ہیں تو کہیں دفتر میں عام لوگوں کو انکے راشن کارڈ کی ویریفیکیشن کے نام پر لوٹا جارہا ہے اور کہیں راشن کی دوکانوں پر چاول میسر ہیں لیکن گندم موجود ہی نہیں اور معلوم کرنے پر جواب ملتا ہے کہ ” پیچھے سے ہی نہیں آئی۔”
عوام نے ذرائع ابلاغ کے نمائندوں سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ انہیں پونچھ کے محکمہ خوراک و شہری رسادات، امورِ صارفین و عوامی تقسیم کاری کے ملازمین نے انہیں بری طرح سے پریشان کر رکھا ہے جہاں کہیں پہلے انکم سرٹیفکیٹ جمع کر راشن حاصل کرنے کے قولی فرمان ڈیلر حضرات دے رہے تھے تو وہیں اب راشن کارڈ ویریفیکیشن کروانے کے لیے لوگوں سے فائلیں جمع کروانے کے نام پر قولی بیانات جاری کیے جارہے ہیں جہاں سے ان سے فی فائل دو سو روپیہ وصولے جانے کی باتیں بھی سماعت ہورہی ہیں تو وہیں چکترو گاؤں کے کچھ لوگوں نے بتایا کہ اس ماہ انہیں چاول تو دیئے جارہے ہیں لیکن گندم موجود ہی نہیں۔
لوگوں نے کہا کہ پونچھ کے محکمہ خوراک و شہری رسادات، امورِ صارفین و عوامی تقسیم کاری کے ملازمین کے یہ تغلقی قولی فرمان پونچھ انتظامیہ کی ناک کے نیچے عوام کو پریشان کررہے ہیں لیکن انتظامیہ کو اس کی کوئی خبر ہی نہیں۔
اس ضمن میں ہمارے ذرائع نے جب اے ڈی فوڈ سپلائی سے اس بارے میں جواب طلب کیا تو انہوں نے اسطرح کے احکامات کی تردید کردی جبکہ اسی دفتر کے ملازمین و راشن کی دکانوں کے ڈیلرز نے عوام کا جینا مشکل کر رکھا ہے اور ان سے فارمیلٹیز کے نام پر دستاویزات مانگ مانگ کر انہیں ذہنی طور پر پریشان کررہے ہیں جبکہ اس طرح کا کوئی حکم نامہ ابھی تک منظرِ عام پر آیا ہی نہیں۔
عوام نے لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اس معاملے میں ڈپٹی کمشنر پونچھ کو ہدایت دے کہ وہ ان ملازمین کو طلب کرکے حقیقت دریافت کریں اور اگر اسی محکمہ کا ایڈیشنل ڈائریکٹر فوڈ تردید کررہا ہے تو یہ ملازمین عوام کو کس طرح سے پریشان کررہے ہیں اور جہاں پر راشن کی قلت ہے ی نصف راشن دیا جارہا ہے تو وہاں پوچھنے والا ہی کوئی نہیں اسلئے ان کی جوابدہی طے کی جائے اورانکی تحقیقات ایک اعلٰی سطحی کمیٹی سے کروائی جائے اور سرکاری احکامات سے علیحدہ من مانیاں کرنے والے ملازمین کے خلاف سخت سے سخت قانونی کاروائی عمل میں لاتے ہوئے انہیں نوکریوں سے برطرف کیا جائے تاکہ مستقبل میں یہ عوام کو بیوقوف نہ بنا پائیں اور ان ڈیلرز کے لائسنس منسوخ کیے جائیں جو بنا کسی سرکاری حکم نامے کے عوام کو پریشان کررہے ہیں۔
