ہر ذہن الجھا، یہاں ہر شخص پریشاں ہے 120

افسانہ۔۔۔دنیاوی خُدا

عابد حسین راتھر

 

‘ارے بیٹا— آپ کو ہوا کیا ہے، صبح بھی آپ نے اچھے سے کھانا نہیں کھایا۔ اس وقت بھی ادھا کھانا ایسے ہی پلیٹ میں رکھ کے چھوڑ دیا۔ آپ ٹھیک تو ہو نا— شام کا کھانا کھاتے ہوئے عُمیر کی ماں عُمیر سے پوچھ رہی تھی۔
ہاں امی ٹھیک ہوں۔۔۔ بس ایسے ہی۔۔۔۔ اُداس چہرے سے اپنی ماں کی طرف دیکھتے ہوئے عُمیر نے جواب دیا۔
بیٹا— میں آپ کی ماں ہوں، مجھ سے اپنی اُداسی اور پریشانی کیسے چھپا سکتے ہو۔ مجھے بُولو ہوا کیا ہے۔ صبح سے دیکھ رہی ہوں آپ کچھ بےچینی سی محسوس کر رہے ہو۔ یہ آج اچانک آپ کو کیا ہوا ہے— اپنی شفقت کا دلاسہ دیتے ہوئے عُمیر کی ماں نے اس کی پریشانی کی وجہ جاننی چاہی۔

یہ سن کر عُمیر غم زَدَہ لہجے میں اپنی ماں سے اپنی اداسی کا سبب بتاتے ہوئے کہنے لگا— اصل میں امی صبح جب تُرکی میں زلزلے کی خبر انٹرنیٹ پر آئی تب سے وہاں کے خوف ناک اور دل دہلانے والے ویڈیوز سوشل میڈیا پر گردش کر رہے ہیں۔ بہت تکلیف ہوتی ہے دیکھ کر۔ ملبے میں دبی ننھے شگُوفوں کی لاشیں دل کو چھلنی کرتی ہیں۔
ارے بیٹے اِس میں کوئی کیا کر سکتا ہے۔ یہ تو اللہ کی مرضی ہوتی ہے کہ زمین پر ایسی ناگہانی آفات وجود میں آتی ہے۔ اصل میں بندئے خدا ہی راہِ راست سے بھٹک گیا ہے۔ گناہوں میں ڈوب کر انسان اپنے خُدا کو بھول بیٹھا ہے اور شاید یہی وجہ ہے کہ ہم پر کَرُونا، سیلاب، زلزلے اور باقی ناگہانی آفات نازل ہوتی ہیں— اسی لئے ہمیشہ آپ سے کہتی ہو کہ اپنا وقت بے سود کاموں میں ضائع کرنے کے بجائے اللہ کی عبادت میں صَرف کِیا کرو۔ نماز پڑھا کرو اور گناہوں سے بچا کرو— لیکن آپ کہاں میری نصیحت پر کان دھرتے ہو— اچھا چلو اٹھو، یہ سب اپنے دماغ سے نکال دو اور جاؤ اپنے کمرے میں آرام کرو۔ صبح سویرے اٹھنے کی عادت ڈال کر باجماعت نماز فجر ادا کیا کرو۔ اب آپ چھوٹے بچے نہیں رہے، بڑے ہوگئے ہُو۔۔۔ اپنے بیٹے کو تسلی دیتے ہوئے عمیر کی ماں اُس سے یہ الفاظ کہہ رہی تھی اور عمیر بھی غور سے سُن رہا تھا۔
ماں کی نصیحت سن کر عُمیر اپنے کمرے میں سونے کیلئے آگیا اور بستر بچھا کر اپنے پیچھے دیوار سے تکیہ لگا کر اس کے سہارے اپنے بستر کے اندر بیٹھ گیا۔ اپنا موبائل فون ہاتھ میں لئے عُمیر نے سوچا کہ سونے سے پہلے سوشل میڈیا پر ایک نظر ڈالی جائے اور حالات واقعات سے باخبر ہوجائے۔ جب عمیر نے سوشل میڈیا پر نظر ڈالی تو وہاں اس کو تُرکی زلزلے کے اور زیادہ بھیانک مناظر دیکھنے کو ملے۔ گِرتی اور زمین بوس ہوتی عمارتیں، خون سے لت پت لوگوں کی لاشیں، بچوں اور عورتوں کی چیخیں— یہ سب دیکھ کر عمیر کا جسم خوف سے کانپنے لگا۔ اس پر ایک عجیب قسم کی کیفیت طاری ہوگئی اور اُس کو یوں محسوس ہوا جیسے قیامت برپا ہوگئی ہے اور وہ اپنی جاگتی آنکھوں سے یہ منظر دیکھ رہا ہے۔ اسی حالت میں عُمیر کو اپنی ماں کی نصیحت یاد آگئی۔ ماں کی ایک ایک بات عُمیر کے کانوں میں گونجنے لگی۔ عُمیر سوچنے لگا کہ اس کی ماں بلکل صیح کہہ رہی ہے۔ انسان سچ میں صراط المستقیم سے بھٹک گیا ہے۔ ہم لوگ گناہوں کی دلدل میں پھنس گئے ہیں۔ زندگی کا کوئی بھروسہ نہیں ہے۔ موت کبھی بھی، کہی بھی اور کسی بھی حال میں کوئی بہانہ ڈھونڈ کر ہمیں اپنی آغوش میں لے سکتی ہے۔ کہیں اللہ کی نافرمانی کی حالت میں ہی موت نہ آجائے اور کل روزِ قیامت اللہ کے سامنے شرمسار نہ ہونا پڑے۔ لہذا بہتر ہے کہ اللہ کی نافرمانی سے توبہ کیا جائے اور اللہ کی عبادت کرکے احسن طریقے سے زندگی گزاری جائے۔ یہ سوچ کر عُمیر نے طے کر لیا کہ آج سے وہ صوم وصلٰوۃ کا پابند رہے گا اور اپنی زندگی اللہ کی رضامندی میں بسر کرے گا۔ عُمیرنے اپنے موبائل فون میں الارم سیٹ کرکے صبح سویرے اٹھ کر باجماعت نماز فجر پڑھنے کا ارادہ کر لیا اور سُو گیا۔
صبح صادق ہونے کو آیا۔ عُمیر گہری نیند میں پڑا تھا لیکن فون کی الارم نے اُس کو جگا دیا۔ وضو کرکے سنت کی دو رکعت گھر پر ہی ادا کر کے عُمیر مسجد کی طرف روانہ ہوا۔ چونکہ وہ کبھی کبھار ہی مسجد کی طرف رُخ کرتا تھا۔ آج کل کے اکثر مُسلم نوجوانوں کی طرح وہ بھی جمعہ، عید یا صِیام کے دنوں میں ہی مسجد کا دروازہ دیکھتا تھا۔ لہذا ڈر، خوف اور ندامت سے وہ مسجد میں داخل ہوگیا اور چُپکے سے ایک کونے میں بیٹھ کر جماعت نماز کا انتظار کرنے لگا۔ جو نمازی بھی مسجد میں داخل ہوتا تھا وہ عجیب نظروں سے اُس کی طرف دیکھتا تھا اور عُمیر عاجزی اور شرمندگی میں سر جُھکا کر چپ چاپ بیٹھا اپنے اللہ سے اپنے گناہوں کی مغفرت کی دعا مانگ رہا تھا۔ شاید باقی لوگ اس کو پہچاننے کی کوشش کر رہے تھے یا یہ سوچ کر حیران تھے کہ یہ شخص آج صبح سویرے مسجد میں کیوں اور کیسے آیا ہے۔
خیر جماعت کا وقت آپہنچا اور امام صاحب نے نماز پڑھائی۔ عُمیر نے بھی جماعت ادا کی اور سلام و دعا کے اختتام کے بعد باقی لوگوں کے ساتھ وہ بھی مسجد سے باہر نکل رہا تھا کہ پیچھے سے کسی شخص نے آواز دی— عُمیر صاحب، کہیں آپ اپنا راستہ تو نہیں بھولے ہو۔ آج صبح صبح آپ مسجد میں کیسے؟ عُمیر نے جان بُوجھ کر اُس کی باتیں نظر انداز کی۔ اسی اثنا میں کوئی دوسرا شخص طنزیہ لہجہ میں کہنے لگا— ابھی تو ماہ رمضان کے آنے میں دو ڈھائی مہینے باقی تھے، آپ نے ابھی سے مسجد میں آنا شروع کیوں کیا۔ دائیں جانب ایک اور آواز اُس کے کانوں سے ٹکرائی، کوئی قہقہ لگاتے ہوئے کہنے لگا— ارے چُھوڑو، بیچارہ آئے گا دو چار دن مسجد میں— پھر خود ہی گھر پر بیٹھے گا۔ بائیں جانب بھی کسی شخص کے ہر ایک لفظ سے تکبر چھلک رہا تھا۔ وہ بھی عُمیر کی طرف ہی اشارہ کرکے بلند آواز میں کہنے لگا— سب لوگ اپنے اپنے جوتے دھیان سے پہننا، کچھ لوگ کبھی کبھار ہی مسجد میں آکر دوسروں کے جوتے پہن کر گھر جاتے ہیں۔ عُمیر یہ سب باتیں خاموشی سے سن رہا تھا مگر اِن لوگوں کے الفاظ اُس کے دل پر تِیروں کا کام کر رہے تھے۔ وہ اندر سے بہت شرمسار ہوگیا۔ وہ بڑی مشکل سے اپنے آنسو روک رہا تھا اور دل ہی دل میں اپنے اللّٰہ سے فریاد کرنے لگا— یا اللہ میں اپنے گناہوں پر بہت نادم ہوں لیکن مجھے معلوم ہے تو غفور الرحیم ہے اور میرے گناہ معاف فرمائے گا— مجھے آپ کی رحمت پر کامِل یقین ہے مگر مجھے اِن دنیاوی خُداؤں سے ڈر لگنے لگا ہے۔
اے آسمان تیرے خدا کا نہیں ہے خوف
ڈرتے ہیں اے زمین ترے آدمی سے ہم
رابطہ :عابد حسین راتھر
ای میل: rather1294@gmail.com
موبائیل نمبر : 7006569430

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں