بھارتیہ جنتاپارٹی کے لئے این سی اور پی ڈی پی نے جموں وکشمیر میں دروازہ کھولا 88

جموں وکشمیر میں جیالوجی اور کان کنی سرگرمیوں سے متعلق پالیسی پر نظرثانی کی جائے/الطاف بخاری

سرینگر04//جولائی//جموںوکشمیر اپنی پارٹی صدر سعید محمد الطاف بخاری نے حکومت پرزور دیا ہے کہ جموں وکشمیر میں کان کنی اور جیالوجی سرگرمیوں سے وابستہ ہزاروں کنبہ جات کی روزی روٹی اور صنعتی اکائیوں سے متعلق مسائل کا ازالہ کرنے کے لئے سرنوپالیسی مرتب کی جائے۔ایک بیان میں بخاری نے کہا ہے کہ جب تلک پالیسی بنائی جاتی ،حکومت قلیل مدتی پرمٹ کی بنیاد پر کن کنی اور خام مال جیسے کہ پتھر ، ریت بجری وغیرہ اُٹھانے کی اجازت دے تاکہ کریشر یونٹس فعال ہوں جن کے ساتھ لاکھوں لوگوں کی روزی روٹی کا انحصار ہے۔ بخاری نے کہاکہ کن کنی اور خال مال بشمول پتھر، ریت، بجری وغیرہ اُٹھانے پر عائد پابندی سے نہ صرف مارکیٹ میں تعمیراتی میٹریل کی شدیت قلت ہے بلکہ اِس سے قیمت میں بھی اضافہ ہوا جس سے یونین ٹیراٹری کے دونوں صوبوں میں نجی وسرکاری ترقیاتی سرگرمیاں متاثر ہوئی ہیں۔ بخاری نے مطالبہ کیاکہ سرینگر میں اتھوا جان، پانتھا چوک، زیوان، خانموہ کے علاوہ صوبہ جموں کے کٹھوعہ، سانبہ، اکھنور، ریاسی، ڈوڈہ اور کشتواڑ میں مقامی مالکان کو قلیل پرمٹ بنیادوں پر کن کنی کی اجازت دی جانی چاہئے۔ اسی طرح بارہمولہ، کپواڑہ، بڈگام، بانڈی پورہ، گاندربل، اننت ناگ کے دیہی علاقہ جات اور پنچایتوں میں بھی خام مال اُٹھانے کی اجازت دی جائے۔ جموں وکشمیر میں جیالوجی اور کان کنی سرگرمیوں سے متعلق پالیسی پر نظرثانی کرنے پرزور دیتے ہوئے بخاری نے حکومت سے گذارش کی ہے کہ متعلقہ محکمہ سے کہاجائے کہ ہماچل پردیش اور اترا کھنڈ کی طرز پر چند شقیں شامل کی جائیں جن میں چھوٹی کان کنی سرگرمیوں کے لئے مقامی افراد کو تحفظ فراہم کیاجاتا ہے تاکہ غیر قانونی مائننگ اور ای بولی عمل سے اُن کی روزی روٹی متاثر نہ ہو۔بخاری کے مطابق چونکہ مقامی وسائل پر پہلا دعویٰ جموں و کشمیر کے مقامی باشندوں کا ہے ، لہٰذا حکومت کو چاہئے کہ ایسا طریقہ کار اختیار کیاجائے کہ خام مال کی غیر قانونی کان کنی پر روک لگے کیونکہ اس سے لاکھوں مقامی کنبے روزی روٹی سے محروم ہوجائیں گے اور تعمیراتی میٹریل کی قیمتوں میں بھی اضافہ ہوگا۔ اپنی پارٹی صدر نے مطالبہ کیاکہ جموں وکشمیر میں باقی بچے معدنیات کے بلاک کی اچھے ڈھنگ سے حدبندی کی جانی چاہئے اور سٹون کریشر یونٹس کے لئے آس پاس آٹھ کلومیٹر کے دائرہ تک نوٹیفائی کیاجائے اور کم سے کم 50فیصد متعین کردہ بلاکس مقامی حصہ داروں کے لئے مخصوص کئے جائیں۔ انہوں نے کہاکہ جموں وکشمیر حکومت کی غلط پالیسیوں کی وجہ سے 600سٹون کریشر یونٹس پہلے ہی بُری طرح متاثرہوئے ہیں اور کم وبیش سبھی اِس وقت بند ہونے کے دہانے پر ہیں۔ کشمیر صوبہ میں صنعتی علاقوں کے لئے قائم سٹون کریشر یونٹس کو کہاگیا کہ وہ انسدادِ سیلاب اور آبپاشی اور ماہی گیری محکمہ جات سے این او سی لائیں، اسی طرح جموں میں اسٹون کریشر یونٹس کو اپنے ہی علاقوں میں خام مال اُٹھانے کی اجازت نہیں دی جارہی۔نتیجہ کے طور پر یونٹس غیر فعال ہیں اور مالکان قرضہ جات کی ادائیگی کرنے کی پوزیشن میں بھی نہیں۔ بخاری نے مزید کہاکہ حکومت کی غلط پالیسیوں کی وجہ سے نہ صرف تعمیراتی میٹریل کی قلت ہے ، قیمتوں میں اضافہ ہوا ہے بلکہ نجی وسرکاری سیکٹرز میں ترقیاتی سرگرمیاں بھی ٹھپ ہوکر رہ گئی ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں