فاضل شفیع 232

گھر گھر اخبار، ہر گھر اخبار

فاضل شفیع فاضل

 

اخبار عربی لفظ خبر کی جمع ہے۔ مگر اردو میں بطور واحد ہی استعمال ہوتا ہے۔ خبروں کا ایسا مجموعہ جو روزانہ شائع ہوتا ہے اخبار کہلاتا ہے
اخبار کا مطالعہ ہر شہری کے لیے از حد ضروری ہے اور اس کی اہمیت و افادیت مسلم ہے۔ اخبار ہمیں گرد و پیش کے حالات واقعات سے باخبر رکھتے ہیں اور بہت سی مفید معلومات فراہم کرتے ہیں۔ اخبار کے مطالعہ سے ہماری ذہنی اور روحانی تربیت ہوتی ہے اور یوں ہماری معلومات میں اضافہ ہوتا ہے۔ اخبارات میں حالات حاضرہ پر تبصرہ، مشہور و معروف شخصیتوں کے تعارف اور علمی و ادبی مضامین بڑی اہمیت کے حامل ہوتے ہیں۔

اخبار صفحوں کا مجموعہ ہی نہیں بلکہ اسے جام جہاں نما بھی کہا جائے تو غلط نہیں ہوگا۔عہد جدید میں اخبارات جو اہم کردار ادا کر سکتے ہیں وہ محتاج بیان نہیں۔ مجھے یاد ہے کہ ہمارے سکول میں طلبہ کے لیے کتب خانے میں اخبار بینی کے لئے ایک مخصوص وقت مقرر کیا گیا تھا۔ کتب خانہ میں طرح طرح کے اخبارات میسر ہوا کرتے تھے اور ہر کوئی طالب علم اپنی اپنی پسند کا اخبار پڑھتا تھا۔
وقت نے کروٹ لی۔ موبائل فون اور انٹرنیٹ کے نقصانات میں ایک نقصان اخبار بینی کے عمل کو ختم کرنا ہے۔ آج کل ای پیپر موبائل میں آسانی کے ساتھ دستیاب تو رہتا ہے لیکن میرے خیال سے موبائل میں اخبار پڑھنے کو اخبار بینی نہیں کہا جا سکتا ہے۔ آج کل کے نوجوان اخبار بینی کے علم سے بالکل بے خبر ہیں۔ چنانچہ یہ بات قابل ذکر ہے سوشل میڈیا اور یوٹیوب پر خبریں دستیاب تو رہتی ہیں لیکن بہت بار یہ بھی دیکھا گیا ہے وہ خبریں غیر مستند ہوتی ہیں اور کسی بھی صورت میں سوشل میڈیا اخبار بینی کی جگہ نہیں لے سکتا۔
اگر ہم اپنی ریاست جموں و کشمیر کی بات کریں یہاں اخبار بینی کا شوق بہت عام تھا اور ہزاروں کی تعداد میں مختلف اخبارات کی کاپیاں فروخت ہوتی تھی۔ بازار میں اخبار فروشوں کی چہل پہل رہتی تھی۔ گورنمنٹ کے اقدامات قابل تعریف تھے جس کی بدولت ہر گورنمنٹ اسکول ،کالج میں کتب خانے قائم کیے گئے اور ان کے فروغ کے لیے گورنمنٹ نے خصوصی امداد بھی فراہم کیا۔ ٹھیک اسی طرح پرائیویٹ اداروں نے بھی اخبار بینی کی فروغ کے لئے ایک اہم رول ادا کیا۔ یہ تب کی بات ہے جب اخبار بینی کا عمل عروج پر تھا۔
آج کے جدید دور میں یہ بات قابل غور ہےکہ سرکاری اور پرائیوٹ ادارے اخبار بینی کے عمل کو فروغ دینے کے بجائے اس کو ختم کرنے پر تلے ہوئے ہیں۔ اخبار بینی کے نام پر پیسے تو وصول لیے جاتے ہیں مگر بدقسمتی سے جہاں لاکھوں کی تعداد میں اخبارات فروخت ہوا کرتے تھے اب محض ان کی گنتی سینکڑوں میں ہوتی ہے۔
کیا کبھی ہم نے سوچا ایک اخبار نویس جو اتنی محنت و لگن کے ساتھ خبروں کا مجموعہ جمع کر کے ہمارے لئے ایک اخبار تیار کرتا ہے ، کس طرح ڈیجیٹلائزیشن نے اس کی زندگی بدل کے رکھ دی۔ میں یہ بات بڑے یقین کے ساتھ کہہ سکتا ہوں کہ بازار میں آپ کو اپنی پسند کا اخبار ملنا مشکل ہے۔ جہاں بازار میں سینکڑوں کی تعداد میں اخبار فروش ہوا کرتے تھے، آج اسی بازار میں بڑی مشکل سے ایک اخبار فروش دکھتا ہے گویا اخبار بیچنا اس کی مجبوری بن چکی ہے۔ ہم نے اخبار نویسی کے اس بہترین پیشہ کو نظر انداز کر دیا ہے جیسے یہ ہمارے معاشرے کا حصہ ہی نہیں ہے۔ اور سب سے بڑی بات اس اخبار کی قیمت دو سے پانچ روپے ہے اور یہ قیمت پچھلے دس پندرہ سال سے ایک ہی جگہ پر برقرار ہے۔ محض دو روپے میں معلومات سے بھرے آٹھ سے دس صفحات پڑھنے کو ملتے ہیں۔
اب گورنمنٹ انتظامیہ کو اپنا کردار نبھانا ہوگا۔ ان کی ذمہ داری ہے کہ صحافت خاص کر اخبار نویسی جیسے اعلی پیشے کو ڈوبنے سے بچائیں۔ ہر گورنمنٹ اور پرائیویٹ ادارے کے لیے یہ لازمی ہو کہ وہ بڑے جوش کے ساتھ اخبارات خریدیں اور اخبار بینی کو فروغ دیں۔ بات ہزاروں کی نہیں، بات دو یا پانچ روپے کی ہے۔ کیا ایسا نہیں ہو سکتا کہ ہر گورنمنٹ ملازم کے لئے اخبار خریدنا لازمی ہو جائے، دفتر سے چھٹی کے بعد وہ اخبار اسکے گھر میں آ کے اس کے بچے پڑھتے تو کتنا بہترین عمل رہتا۔ بہت سارے حضرات میری رائے سے اتفاق نہیں کریں گے لیکن میں یہ بات سب حضرات کو ذہن نشین کرا دوں کہ ہمیں موبائل فون اور سوشل میڈیا کی دنیا سے باہر نکلنا ہوگا۔ میں چاہتا ہوں کہ پھر سے پہلے کی طرح اخبار بینی عام ہو جائے اور میں صبح صبح اخبار کے آنے کا انتظار کروں۔ اخبار نویسی اور اخبار فروشی کے اعلیٰ پیشے کی قدر کرتے ہوئے بالآخر اپنے مضمون کے اختتام پر بس اتنا کہنا چاہتا ہوں” گھر گھر اخبار۔ ہر گھر اخبار”
����
فاضل شفیع فاضل
اکنگام انت ناگ

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں