Rayees kumar 151

حضرت سید نور شاہ ولی بغدادی رح کنڈ قاضی گنڈ

رئیس احمد کمار
قاضی گنڈ کشمیر

 

وادی کنڈ جہاں اپنی بے مثال خوبصورتی اور قدرتی حسن سے مالامال ہے اور جس وجہ سے اس علاقے کو پورے ضلعے میں اپنی خاص شناخت اور پہچان ہے وہیں یہ علاقہ اللہ کے ایک برگزیدہ ولی کامل حضرت سید نور شاہ ولی بغدادی رح کا آخری قیام گاہ بھی ہے ۔

اگر چہ حضرت نور شاہ صاحب کی ولادت کے بارے میں پوری علمیت نہیں ہے کہ کس سال ان کی ولادت ہوئی ہے مگر ان کی جائے ولادت کے بارے میں اکثر لوگ اور دانشور حضرات اس بات پر متفق ہے کہ حضرت نور شاہ صاحب بغداد میں پیدا ہوئے ہیں ۔ ان کی وابستگی اور قرابت شاہ جیلان حضرت شیخ سید عبدالقادر جیلانی رح کے ساتھ ہے ۔ باطنی طور حضرت سید نور شاہ ولی بغدادی رح کو کشمیر جانے کا حکم ملا تاکہ یہاں کے لوگوں کو دین مبین کی تعلیمات سے آراستہ کریں کیونکہ یہاں کی اکثر آبادی ہندودھرم سے وابستہ تھی ۔ مانا جاتا ہے کہ حضرت نور شاہ صاحب نے بغداد سے کشمیر کا سفر ایک پتھر پر سوار ہوکر کیا اور بغداد سے سیدھے کشمیر کے ضلع بڈگام کے واڈون علاقے میں پہنچے ۔ وہ مقدس پتھر آج بھی اس جگہ موجود ہے جس پر سوار ہوکر حضرت سید نور شاہ ولی بغدادی رح نے سفر کیا تھا ۔ واڈون سے نور شاہ صاحب نے کنڈ علاقے کی طرف اپنا سفر جاری رکھا اور اوریل گاؤں میں قیام فرمایا ۔ کنڈ علاقے کے لوگ بھی ان دنوں ہندو دھرم کے ماننے والے تھے ۔ اوریل گاؤں میں بارہ سال تک رہے ۔ دعوت و تبلیغ، عبادت اور ریاضت میں برابر بارہ سال تک محو رہے۔ گھنے سایہ دار اور گنجان درختوں کی بنا پر اوریل زیارت شریف کو ” کلئی استان ” بھی کہا جاتا ہے ۔ اوریل گاؤں میں حضرت سید نور شاہ صاحب کی خدمت میں قائم بھٹ نامی پنڈت آدمی بارہ سال تک رہے ۔ اس کے گھر میں ایک گاے تھی جو نور شاہ صاحب کے آنے سے پہلے ایک بچھڑے کو جنم دے چکی تھی ۔ قائم بھٹ کو اپنی بیوی نے بہت ملامت کی کیونکہ بارہ سالوں میں ایک بھی بار گاے نے کسی دوسرے بچھڑے کو جنم نہیں دیا تھا ۔ لیکن نور شاہ صاحب کی کرامت ایسی تھی کہ ان بارہ سالوں تک گاے برابر دودھ دیتی رہی ۔ نور شاہ صاحب کو روحانیت میں ایک عظیم مرتبہ حاصل تھا ۔ الہام اور کشفالقلوب کے ذریعے حضرت سید نور شاہ ولی صاحب کو پتہ چلا کہ قائم بھٹ کی بیوی اس سے خوش نہیں ہے اور وہ وہاں سے چلا گیا ۔ جاتے ہوئے نور شاہ صاحب نے قائم بھٹ کو اپنے گاوخانے میں نظر مارنے کے لیے کہا ۔ جوں ہی گاوخانے کا دروازہ کھولا قائم بھٹ نے بارہ رنگوں کے بارہ بچھڑے وہاں پائے ۔ قائم بھٹ اور اس کی بیوی دوڑتے ہوئے اور معافی مانگتے ہوئے ولی کامل کی طرف آئے لیکن نور شاہ صاحب نے وہ دریا پار کیا تھا جو اوریل اور کرالو نامی گاؤں کے درمیان میں تھا ۔ چلتے چلتے نور شاہ صاحب ولٹنگو گاؤں میں پہنچے ۔ وہاں ایک جگہ ہے جسے کنہ بل کہتے ہیں اس جگہ پر بھی سید نور شاہ ولی صاحب نے بارہ سال تک پتھر پر اللہ کی عبادت کی ہے ۔ وہ پتھر آج بھی وہاں موجود ہے اور لوگ اسے دیکھنے کے لیے سال بھر آتے رہتے ہیں ۔ ولٹنگو سے کچھ دوری پر ہی واسک ناگ علاقہ ہے ۔ نور شاہ صاحب اکثر وہاں سیر کرنے اور عبادت کرنے کے لئے جاتے تھے ۔ بتایا جاتا ہے کہ وہاں ایک سادھو رہتا تھا۔ ایک دفعہ کچھ لڑکیاں وہاں کشمیری سبزی ہند جمع کرری تھیں ۔ اپنی پیاس بجھانے کی غرض سے انہوں نے ادھر ادھر دیکھا لیکن نہ پانی ملا نہ ہی برتن ۔ اچانک ان کی نظر سادھو پر پڑی جو سویا ہوا تھا اور جس کے ہاتھ میں کدھو کا آدھا حصہ تھا اور اس میں اس سادھو نے ایک سانپ کو قید کیا تھا ۔ جوں ہی انہوں نے کدھو کے حصے کو ہاتھ لگایا سانپ نیچے گرا اور گھوم کر اس نے زمین پر ایک گول چکر لگایا ۔ جہاں پر سانپ نے چکر لگایا وہاں سے ایک چشمہ ظاہر ہوا ۔ اسی مناسبت سے یہ علاقہ واسک ناگ کہلانے لگا ۔ سادھو نے چشمہ بندھ کرنا چاہا لیکن جلد ہی نور شاہ صاحب کے ساتھ ایک معائدہ طے ہوا ۔ معاہدے کے مطابق چشمہ چھ مہینہ سادھو اور چھ مہینہ نور شاہ صاحب کے حوالے رکھنے کا فیصلہ ہوا ۔ سید نور شاہ ولی صاحب کے عرس کے دن ہی جو ہر سال ۹ فروری کو منایا جاتا ہے چشمے سے پانی نکلنا شروع ہو جاتا ہے ۔ ولٹنگو میں ہی اس بلند پایہ ولی کامل نے وفات پائی ہے اور وہاں ہی مدفون ہے ۔ واسک ناگ گرمیوں میں کنڈ علاقے کی بستی کی پیاس بجھانے کے علاوہ ان کی زمینوں کو بھی سیراب کرتا ہے ۔ زائرین اور سیاح لوگ اس چشمے کو دیکھنے کے لیے اپنی خاص دلچسپی دکھاتے ہیں ۔ سید نور شاہ ولی صاحب کی زیارت پر جہاں سال بھر عقیدت مندوں کا تانتا باندھا رہتا ہے وہیں عرس کے ایام متبرکہ جو یکم فروری سے نو فروری تک جاری رہتے ہیں لوگوں کی جمہ غفیر دیکھنے کو ملتی ہے ۔ عرس کے موقعہ پر رات بھر ختمات المعظمات اور درودوازکار کی محفل جاری رہتی ہے جس میں ضلع کے تمام کونوں سے آئے ہوئے عقیدت مند شامل ہوتے ہیں اور فیض حاصل کرتے ہیں ۔ اس سال بھی یہ عرس ۹ فروری ۲۰۲۳ کو منایا جارہا ہے ۔ اللہ ہمیں ان ولیوں کی تعلیمات پر عمل پیرا ہونے کی توفیق عطا فرمائے ۔ سید نور شاہ ولی صاحب کے سایے تلے ہمیں ہمیشہ رکھے اور ان کی وسالت سے ہمیں اپنے حفظ و ایمان میں رکھے آمین ۔۔۔۔۔۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں