کشمیر جو کبھی پتھراؤ کیلئے جانا جاتا تھا اب کھیل کود کی سرگرمیوں کیلئے مشہور / انوراگ ٹھاکر 60

کشمیر جو کبھی پتھراؤ کیلئے جانا جاتا تھا اب کھیل کود کی سرگرمیوں کیلئے مشہور / انوراگ ٹھاکر

شہر ہ آفاق گلمرگ میں سرمائی کھیل مقابلے’’ کھیلو انڈیا ‘‘ کے تیسرے مرحلے کا با ضابطہ طور پر آغاز

جموں و کشمیر کے ہر ضلع میں اب ایک انڈور اسٹیڈیم اور ہر گاؤں میں ایک کھیل کا میدان ہوگا

سرینگر /10فروری / مرکزی وزیر انوراگ ٹھاکر نے جموں کشمیر کے لیفٹنٹ گورنر منوج سنہا کی موجودگی میں شہر ہ آفاق گلمرگ میں ’’ کھیلو انڈیا ‘‘ کے تیسرے مرحلے کا آغاز کیا ۔ اس موقعہ پر انہوں نے کہا کہ کشمیر جو کبھی پتھراؤ کیلئے جانا جاتا تھا اب کھیلوں کی سرگرمیوں کیلئے مشہور ہے اور کہا کہ حکومت نے صرف 3 سال میں کشمیر کے حالات بدل دئے اور ہمیں آج ایک بدلتا ہوا کشمیر دیکھنے کو مل رہا ہے ۔ سی این آئی کے مطابق شہر ہ آفاق گلمرگ میں ’’ سرمائی کھیل مقابلے کھیلو انڈیا ‘‘ کے تیسرے مرحلے کا افتتاح کرنے کے بعد وہاں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے مرکزی وزیر انوراگ ٹھاکر نے کہ وادی کشمیرجو پہلے پتھراؤ کے واقعات کیلئے جانی جاتی تھی، اب فٹ بال اور دیگر کھیلوں کی سرگرمیوں کے لیے جانی جاتی ہے۔انہوں نے کہا کہ جوان جو ہاتھوں میں پتھر لئے ہوتے تھے اب کھیلوں کی سرگرمیوں میں شامل ہو رہے ہیں اور آج قوم کو ان پر فخر ہے ۔ جموں و کشمیر حکومت کے کردار کو سراہتے ہوئے انہوں نے کہا کہ حکومت نے صرف 3 سال میں کشمیر کے حالات کو تبدیل کرنا ممکن بنایا جو پہلے 75 سالوں میں نہیں ہو سکا۔انہوں نے کہا کہ یہ واقعی ہم سب کیلئے ایک قابل فخر تحریک ہے کہ جموں و کشمیر تیسری بار کھیلو انڈیا کھیل سرگرمیوں کی میزبانی کر رہا ہے، جس میں دیگر ریاستیں ناکام رہیں ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ان کے پاس جلد ہی بہت سے سٹار ایتھلیٹس ہوں گے، کیونکہ نوجوان کھیلوں میں بہت زیادہ مشغول ہیں، چاہے وہ فٹ بال ہو، ووشو، کرکٹ، سکینگ یا دیگر کھیلوں کی سرگرمیاں شامل ہے ۔ٹھاکر نے مزید کہا کہ جموں و کشمیر کے ہر ضلع میں اب ایک انڈور اسٹیڈیم اور ہر گاؤں میں ایک کھیل کا میدان ہے، جو خود بتاتا ہے کہ حالات نے کس طرح یو ٹرن لیا ہے۔ خیال رہے کہ مرکزی وزیر برائے کھیل انوراگ ٹھاکر نے جموں کشمیر کے لیفٹنٹ گورنر منوج سنہا کی موجودگی میں گلمرگ میں تیسرے کھیلو انڈیا کھیل مقابلوں کا افتتاح کیا ۔ اس موقعہ پر ان کے ہمراہ چیف سیکرٹری ارون کمار مہتا، سیکرٹری سیاحت سرمد حفیظ اور دیگر انتظامیہ کے افسران موجود تھے ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں