جموں کشمیر اپنی پارٹی کا کرشن چندر پارک میں پُر امن احتجاج 57

جموں کشمیر اپنی پارٹی کا کرشن چندر پارک میں پُر امن احتجاج

مہنگائی، بیروزگاری پر قابو پانے، غرباء کی زمینوں و مکانوں کے تحفظ کا کیا مطالبہ

ندائے کشمیر/ماجد چوہدری

پونچھ// مرکزی زیرِ انتظام جموں و کشمیر کے سرحدی ضلع پونچھ کی تحصیل حویلی کے کرشن چندر میموریل پارک میں جموں کشمیر اپنی پارٹی کے ضلع صدر (رورل) الحاج بشیر احمد خاکی کی زیرِ سرپرستی مہنگائی، بیروزگاری، رشوت خوری و سرکاری اراضیوں و سرکاری اراضیوں پر تعمیر مکانوں سے بے دخلی کے خلاف پُر امن طریقے سے احتجاج درج کروایا جس میں انہوں نے مرکزی سرکار و جموں کشمیر کے لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا سے بیروزگاری، مہنگائی و رشوت خوری پر قابو پانے کا مطالبہ کیا ہے انہوں نے کہا کہ بیروزگاری، مہنگائی و رشوت خوری عروج پر ہیں جن پر قابو پانے کی اشد ضرورت ہے ۔اس کے علاوہ انہوں نے کہا کہ سرکاری اراضیوں و سرکاری اراضیوں پر تعمیر مکانوں و دکانوں کو منہدم کرنے کی کارروائی کو بند کرے سرکار کیونکہ 1956 کے بعد وقتا فوقتا زرعی اراضی اصلاحات قوانین و دیگر قوانین کے ذریعے جموں کشمیر کے لوگوں کو ان اراضیوں پر مالکانہ حقوق آئینِ ہند کے تحت دیئے گئے تھے اور اسی قومی پرچم تلے ہندوستان کی پارلیمنٹ، جموں کشمیر کی اسمبلی میں قوانین سازی کر لوگوں کو ان اراضیوں پر مالکانہ حقوق دیئے گئے تھے لیکن آج کے وقت میں جموں کشمیر ہائی کورٹ کے فیصلے کی آڑ میں جموں کشمیر میں اپنی جڑیں مضبوط کیے ہوئے بیوروکریسی کے علمبرداروں نے قوانین کو درکنار کرتے ہوئے پیلے پنجے کے ذریعے جہاں عوام کو روندنے کا من بنا لیا ہے وہیں اس سے ہندوستان کی جمہوریت شرمسار ہوئی ہے جو اس سے قبل ہندوستان میں کبھی نہیں ہوئی ۔انہوں نے کہا کہ ہندوستان کے وزیرِ داخلہ امت شاہ و لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے جو قولی طور پر غریب عوام و چھوٹے کسانوں کی اراضیوں و مکانوں کے تحفظ کی یقین دہانی کرائی ہے اسکا تحریری طور پر ایک سرکولر جاری کرنے کا مطالبہ کیا ہے جس میں غریبوں اور چھوٹے کسانوں کی نشاندہی کر انکی فہرست جاری کی جائے تاکہ بڑے مافیاوں کو آسانی سے بے دخل کیا جا سکے اور غریب اور چھوٹے کسانوں کو تحفظ فراہم ہو پائے۔انہوں نے اپنے پارٹی لیڈران و کارکنان کے ہمراہ مرکزی سرکار و جموں کشمیر کے لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا سے مطالبہ کیا ہیکہ وہ غریب لوگوں و چھوٹے کسانوں جو سرکاری اراضیوں پر قابض ہیں انہیں مالکانہ حقوق دینے کا قانون بنائیں اور جو پہلے سے ہی مختلف زرعی اصلاحات قوانین کے تحت یا پھر دوسرے قوانین کے تحت مالکانہ حقوق حاصل کر چکے ہیں انکے حقوق کو برقرار رکھا جائے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں