گلیڈی ایٹرز نے سابقہ ناکامیوں کے ازالے کی ٹھان لی 76

گلیڈی ایٹرز نے سابقہ ناکامیوں کے ازالے کی ٹھان لی

کراچی: کوئٹہ گلیڈی ایٹرز نے پی ایس ایل 8میں سابقہ ناکامیوں کے ازالے کی ٹھان لی۔کپتان سرفراز احمد کا کہنا ہے کہ ماضی میں کورونا کی وجہ سے کمبی نیشن متاثر ہوتا رہا،اس بار متوازن اسکواڈ منتخب ہوا، مقامی کرکٹرز محمد نواز، افتخار احمد، نسیم شاہ اور محمد حسنین کی اچھی فارم کا فائدہ اٹھائیں گے۔پاکستان کرکٹ کی سب سے بڑی ویب سائٹ پر خصوصی انٹرویو میں کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کے کپتان سرفراز احمد نے کہاکہ ہم گذشتہ سیزنز کی غلطیاں نہ دہراتے ہوئے، اس بار اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کرنے کی کوشش کریں گے، ماضی میں کورونا کی وجہ سے چند کھلاڑیوں کو قرنطینہ جیسے مسائل ہوتے رہے، ان کی وجہ سے پلیئرز کا آنا جانا بھی لگا رہا، اس بار متوازن اسکواڈ منتخب ہوا،امید ہے کہ بہتر کمبی نیشن بن جائے گا۔انھوں نے کہا کہ مقامی کرکٹرز کے اچھی فارم میں ہونے کا ٹیم کو بہت فائدہ ہوتا ہے، ہمیں محمد نواز، افتخار احمد، نسیم شاہ اور محمد حسنین کی خدمات حاصل ہیں، یہ سب پاکستان ٹیم کا بھی اہم حصہ ہونے کے ساتھ زبردست پرفارم کررہے ہیں،عمراکمل،احسان علی،سعود شکیل اور عمیر بن یوسف سے بھی ٹیم کو توقعات وابستہ ہیں۔سرفراز احمد نے کہا کہ ہمیں غیرملکی اسٹارز وانندو ہسارنگا،جیسن روئے، ول اسمیڈ اور اوڈین اسمتھ کا ساتھ بھی میسر ہوگا، جیسن روئے کی کارکردگی میں نمایاں نکھار دیکھنے میں آیا ہے۔انھوں نے گزشتہ سیزن میں اپنی موجودگی کا بھرپور احساس دلایا،وہ ٹیم کا حوصلہ بلند رکھنے کیلیے کوشاں رہے، بولرز کی رہنمائی بھی کرتے دکھائی دیے،ان کی فارم ہمارے لیے خوش آئند ہے۔ایک سوال پر سرفراز احمد نے کہا کہ گذشتہ پی ایس ایل کے بعد سے محمد نواز اور افتخار احمد کی کارکردگی میں تسلسل نظر آیا ہے، انھوں نے قومی ٹیم کیلیے اچھا پرفارم کرتے ہوئے جیت میں اہم کردار ادا کیا،بنگلہ دیش لیگ میں بھی فارم میں نظر آئے۔عمراکمل پر اعتماد برقرار رکھنے کے سوال پر کپتان نے کہا کہ انھیں گذشتہ سیزن کے اختتامی میچز کھیلنے کا موقع ملا تھا،اس دوران انھوں نے زبردست پرفارم کیا، اچھا اور بْرا وقت ہر کرکٹر پر آتا ہے مگر عمر اکمل ایک بہترین بیٹر ہیں،ہمیں ان کی صلاحیتوں پر پورا بھروسہ ہے۔ حالیہ ڈومیسٹک ون ڈے کپ میں بھی عمر کی کارکردگی اچھی رہی، اسی وجہ سے ان کو برقرار رکھا،پوری امید ہے کہ اس بار بھی وہ اچھا پرفارم کریں گے۔سرفراز احمد نے کہا کہ نسیم شاہ کی کارکردگی میں مسلسل بہتری آرہی ہے،وہ تینوں فارمیٹ میں ملک کی نمائندگی کررہے ہیں،ان کے پیس میں اضافہ ہوا،وہ نئی گیند کو سوئنگ کررہے ہیں۔ یہ نہ صرف کوئٹہ گلیڈی ایٹرز بلکہ پاکستان ٹیم کیلیے بھی بہت اچھا ہے۔پاکستان کی کنڈیشنز پیسرز کیلیے زیادہ سازگار نہ ہونے کے باوجود نسیم شاہ اور محمد حسنین سے توقعات کے سوال پر کپتان نے کہا کہ دونوں ٹاپ کے بولر ہیں،حسنین کے بولنگ ایکشن کا مسئلہ ہونے کی وجہ سے کمبی نیشن متاثر ہوا، اب وہ بہت بہتر بولر نظر آرہے ہیں، نئی گیند سوئنگ بھی ہورہی ہے،ان کا نسیم شاہ کے ساتھ کمبی نیشن ہمارے لیے بہت اہم کردار ادا کرے سرفراز احمد نے کہا کہ ہر نئے سیزن میں پہلے سے زیادہ مسابقتی کرکٹ ہوتی ہے، پی ایس ایل 8میں کسی ایک ٹیم کو فیورٹ نہیں قرار دیا جاسکتا، اس بار بھی ٹاپ کی سائیڈز مقابل ہوں گی،کسی بھی ٹیم کو ہرانے کیلیے اچھی کرکٹ کھیلنا پڑے انھوں نے کہا کہ کوچ معین خان مجھے اکثر کہتے ہیں کہ میں اوپر کے نمبرز پر بیٹنگ کر کے پاکستان ٹیم میں بھی کم بیک کیلیے راستہ بناؤں، ان کی سوچ درست ہے، مگر میری کوشش ہوتی ہے کہ ٹیم کمبی نیشن کے مطابق بہتر کردار ادا کروں، اب معین خان بھی متفق ہیں اور میں نمبر 3یا 4پر بیٹنگ کروں گا،جہاں پر نمبر تبدیل کرنے کی ضرورت ہو ضرور کریں گے،افتخاراحمد، محمد نواز اور عمر اکمل کو بھی ٹاپ آرڈر میں آزمایا جا سکتا ہے۔
اعظم خان بھائیوں کی طرح ہیںخواہش ہے دوبارہ ساتھ کھیلیں
سرفراز احمد نے کہا کہ اعظم خان میرے بھائیوں کی طرح ہیں،ان کو ایک اچھا موقع مل رہا تھا اس لیے دوسری فرنچائز میں گئے۔ میرا ان سے تعلق ہمیشہ رہے گا،ہماری بات چیت ہوتی رہتی ہے، خواہش ہے کہ ہم کوئٹہ گلیڈی ایٹرز یا کسی بھی ٹیم کی طرف سے دوبارہ ایک ساتھ کھیلیں، میری نیک خواہشات اعظم کے ساتھ ہیں، خوشی کی بات ہے کہ وہ دنیا بھر کی لیگز کھیل رہے ہیں اور کارکردگی میں مسلسل بہتری بھی آرہی ہے۔ایک سوال پر سرفراز احمد نے کہا کہ میرا کوچ معین خان کے ساتھ ہمیشہ رابطہ رہتا ہے،وہ میرے محسنوں میں سے ایک ہیں، جلد ٹیم یکجا ہو جائے گی اور ہم کمبی نیشن کے حوالے سے بات چیت کریں گے۔
ہسارنگا پہلے میچ سے دستیاب ہوں توٹیم کیلیے بہت اچھا رہے گا
سرفراز احمد نے کہا کہ وانندو ہسارنگا دنیا کے نمبر ون اسپنر ہیں،وہ وائٹ بال میں سری لنکا اور فرنچائز ٹیموں کیلیے زبردست پرفارم کررہے ہیں، اسی وجہ سے ڈرافٹ میں ہمارا پہلا انتخاب وہی تھے،اگر ہسارنگا پہلے میچ سے دستیاب ہوں تو گلیڈی ایٹرز کیلیے بہت اچھا رہے گا،ان کا محمد نواز کے ساتھ اسپن کمبی نیشن اہم کردار ادا کرسکتا ہے۔
کھیل پر توجہ رکھی اور باری کا انتظار کیا،موقع ملنے پرپرفارم کرنے کی خوشی ہے
قومی ٹیسٹ ٹیم میں شاندار کم بیک کے سوال پر سرفراز احمد نے کہا کہ خوش قسمتی سے مجھے کرکٹ حلقوں میں ہمیشہ اچھے لوگوں کی صحبت میں بیٹھنے کا موقع ملا،پاکستان کرکٹ کلب، کوچ اعظم خان، ندیم عمر، معین خان اور ساجد خان، میڈیا کے دوست بھی یہی مشورہ دیتے رہے کہ اپنی کرکٹ جاری رکھو، مجھے جو بھی فارمیٹ ملا، بہتر سے بہتر کارکردگی دکھانے کی کوشش کرتا رہا،صرف اپنے کھیل پر توجہ مرکوز رکھی اور باری کا انتظار کیا، موقع ملا تو پرفارمنس دکھانے میں بھی کامیاب ہوگیا،انھوں نے کہا کہ کارکردگی پر عوام کی پذیرائی کھلاڑیوں کو ہمیشہ اچھی لگتی ہے، ہوم گراؤنڈ پر یہ خوشی اور بھی زیادہ ہوجاتی ہے،میں خوش ہوں کہ اچھا پرفارم کرنے میں کامیاب رہا۔سرفراز احمد نے کہا کہ انٹرنیشنل کرکٹ میں اچھی فارم سے لیگ میں زیادہ اعتماد حاصل ہوتا ہے،میں اپنا تجربہ قیادت کے ساتھ انفرادی کارکردگی بھی بہتر بنانے کیلیے استعمال کروں گا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں