پاکستان میں پیدا ہونے والے آسٹریلوی بلے باز عثمان خواجہ نے کہا ہے کہ وہ تاحال بھارتی ویزے کے منتظر ہیں جب کہ ان کے ساتھی 9 فروری سے شروع ہونے والی 4 ٹیسٹ میچوں پر مشتمل سیریز کھیلنے کے لیے روانہ ہو رہے ہیں۔عثمان خواجہ چار سال کی عمر میں پاکستان سے آسٹریلیا منتقل ہو گئے تھے، وہ اس سے قبل بھی بھارت کا دورہ کر چکے ہیں لیکن اس موقع پر بھی انہیں ویزا حاصل کرنے میں تاخیر کا سامنا کرنا پڑا تھا جب کہ ان کے ویزہ اجرا میں آسٹریلیا میں پیدا ہونے والے ساتھی کرکٹرز سے زیادہ وقت لگا تھا۔عثمان خواجہ نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ انسٹاگرام پر اسٹریمنگ ویب سائٹ ’نیٹ فلکس‘ سیریز ’نارکوس‘ کی ایک تصویر شیئر کرتے ہوئے جس میں اداکار گھومنے والی سیٹ پر تنہا بیٹھا ہے کہا کہ ’ میں اپنے بھارتی ویزے کا منتظر ہوں’۔بائیں ہاتھ کے اوپننگ بلے باز اب جمعرات کے روز بھارت کے لیے روانہ ہوں گے۔آسٹریلوی میڈیا نے رپورٹ کیا کہ دورہ کرنے والے کھلاڑیوں اور معاون عملے کو جنوری کے اوائل میں ویزے ملنا شروع ہو گئے تھے جن میں سے کچھ کھلاڑی پہلے ہی بنگلور پہنچنا شروع ہوگئے جہاں ٹیم میچ سے قبل ٹریننگ کیمپ لگائے گی۔پاکستان اور بھارت کے تعلقات کشیدہ رہے ہیں اور یہ تناؤ اب کھیلوں میں بھی معمول کا حصہ بن چکا ہے۔دونوں ممالک نے آخری بار ایک دہائی قبل دو طرفہ سیریز کھیلی تھی اور پاکستانی کھلاڑیوں کو انڈین پریمیئر ٹی 20 لیگ میں شرکت سے روک دیا گیا تھا۔آسٹریلیا تقریباً ایک دہائی میں بھارت میں اپنی پہلی ٹیسٹ سیریز جیتنے کی کوشش کر رہا ہے، دونوں ٹیموں کے درمیان ٹیسٹ میچز ناگپور، دہلی، دھرم شالہ اور احمد آباد میں واقع دنیا کے سب سے بڑے کرکٹ اسٹیڈیم میں کھیلے جائیں گے۔تقریباً 2 سال تک ٹیسٹ ٹیم سے باہر رہنے کے بعد عثمان خواجہ نے 2022-2021 کی ایشز سیریز میں انگلینڈ کے خلاف شاندار واپسی کی۔انہوں نے سڈنی میں جنوبی افریقہ کے خلاف حالیہ میچ کے دوران اپنے کریئر کے 400 رنز مکمل کیے جہاں وہ 195 رنز بنا کر ناٹ آؤٹ رہے۔عثمان خواجہ کو 78.46 کی اوسط سے ایک ہزار 20 رنز بنانے پر شین وارن مینز ٹیسٹ پلیئر آف دی ایئر کا اعزاز بھی دیا گیا۔
124
- فیس بک
- ٹویٹر
- واٹس ایپ
- ای میل
