93

جموں میں پتھروں سے بننے والی اپنی نوعیت کی پہلی مصنوعی دیوار تقریباً تیار

جموں/ جموں وکشمیر انتظامیہ کورونا وبا کے بیچ ایڈونچر ٹورازم اور کھیل سرگرمیوں کے فروغ کے لئے دلکش سرنسر جھیل میں پتھروں کا ایک مصنوعی دیوار بنا رہی ہے۔بتادیں کہ انتظامیہ کی طرف سے یہ جموں میں تعمیر کی جانے والی پہلی مصنوعی کلائمبنگ دیوار ہے جبکہ کشمیر میں پہلے ہی ایک موجود ہے۔پتھروں کی یہ مصنوعی دیوار نئی دلی کی آؤٹ ڈور نامی ایک فرم تعمیر کررہی ہے۔ قریب 36 لاکھ روپے کی لاگت والی دیوار کی اونچائی 42 فٹ ہوگی۔سرکاری ذرائع نے بتایا کہ یہ پروجیکٹ سرنسر مانسر ڈیولپمنٹ اتھارٹی کے اْس وقت کے چیف ایگزیکیٹو افسر ناگندر سنگھ جموال نے شروع کیا تھا اور یہ دیوار قریب قریب پایہ تکمیل پہنچ چکی ہے اور اس کی افتتاح عنقریب متوقع ہے۔ انہوں نے کہا کہ کورونا کی وجہ سے اس کے افتتاح میں تاخیر ہورہی ہے۔سرنسر مانسر ڈیولپمنٹ اتھارٹی کے سی ای او ڈاکٹر گرویندر جیت سنگھ نے یو این آئی کو تفصیلات فراہم کرتے ہوئے کہا: ‘اس پروجیکٹ کے لئے ساڑھے 36 لاکھ روپے کی ٹینڈرس طلب کی گئی تھیں اور اس کے تعمیر کا کام سال رواں کے ماہ جنوری میں ہی شروع کیا گیا تھا’۔انہوں نے کہا کہ یہ دو رخی دیوار جس کا ایک رخ سپیڈ کلائمبنگ وال ہے جبکہ دوسرا لیڈ کلائمبنگ وال ہے۔موصوف سی ای او نے کہا کہ یہ وال انسپکٹر رام سنگھ، پھولیل سنگھ، کرنل رنویر جموال اور دیگر ہونہار کوہ پیماؤں کے لئے ایک خراج تحسین کے بطور تعمیر کیا گیا ہے۔دریں اثنا جموں و کشمیر ماؤنٹنیئرنگ ایسوسی ایشن کے سینئر نائب صدر رام کھجوریہ نے یو این آئی کو بتایا کہ ہم نے ماہرین کی ایک ٹیم کے ساتھ وال کا معائینہ کیا اور یہ کوہ پیمائی کی تمام بنیادی ضرورتوں کے مطابق تیار کیا جارہا ہے۔انہوں نے کہا کہ اس وال سے ایڈونچر ٹورازم کو کافی فروغ ملے گا۔یو این آئی

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں