سری نگر/ جماعت اسلامی جموں وکشمیر، جس کو کالعدم قرار دیا جاچکا ہے، کے سابق ترجمان ایڈوکیٹ زاہد علی کے اہل خانہ نے ان کی پبلک سیفٹی ایکٹ (پی ایس اے) کے تحت دوبارہ گرفتاری کے خلاف عدالت کا دروازہ کھٹکھٹانے کا فیصلہ کیا ہے۔بتادیں کہ زاہد علی کو سال رواں کے ماہ اپریل کی 11 تاریخ کو سینٹرل جیل کوٹ بلوال جموں سے رہا گیا گیا تھا تاہم انہیں 30 جون کو دوبارہ گرفتار کیا گیا ہے۔خاندانی ذرائع نے یو این آئی اردو کو بتایا کہ ہم ان کی گرفتاری کے خلاف عدالت کا دروازہ کھٹکھٹائیں گے۔انہوں نے کہا: ‘ہم نے زاہد علی کی غیر آئینی اور غیر قانونی گرفتاری کو جموں و کشمیر ہائی کورٹ میں چلینج کرنے کا فیصلہ لیا ہے’۔مذکورہ ذرائع نے بتایا کہ انہیں (زاہد علی کو) 30 جون دس بجے صبح پولیس اسٹیشن کاکہ پورہ کی ایک ٹیم نے بغیر کسی وجوہات کے گرفتار کر کے تھانے میں بند رکھا۔ جہاں سے 3 جولائی کو انہیں پی ایس اے کے تحت سینٹرل جیل سری نگر منتقل کیا گیا۔خاندانی ذرائع نے ان کے خلاف عائد کئے جارہے الزامات کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان کا کسی بھی غیر قانونی سرگرمی سے کوئی واسطہ ہی نہیں ہے۔انہوں نے کہا کہ ان کی گرفتاری کے تازہ حکمنامے میں گذشتہ دو حکم ناموں کے وجوہات کو ہی دہرایا گیا ہے جو سراسر بے بنیاد ہیں۔انہوں نے کہا کہ ضلع مجسٹریٹ پلوامہ نے ایس ایس پی پلوامہ کی طرف سے جاری وارنٹ احکامات پر آنکھیں بند کر کے دستخط کئے ہیں جس کے تحت ایک بے گناہ شہری کی گرفتاری عمل میں لائی گئی ہے۔یو این آئی
83
- فیس بک
- ٹویٹر
- واٹس ایپ
- ای میل
