101

نانا کی خون میں لت پت پڑی نعش پرنواسے کاماتم /ویڈیو وائرل ہونے کے بعد ہرآنکھ اشکبار

سوپور :یکم جولائی :بدھ کی صبح کشمیر کے اطراف واکناف میں ہزاروں آنکھیں اشکبار ہوئیں ،جب انہوںنے ایک معصوم بچے کوخون میں لت پت مردہ پڑے اپنے ناناکی لاش پرروتے بلکتے دیکھا۔ شمالی قصبہ سوپور کے ماڈل ٹاؤن علاقہ میں بدھ کی صبح سینٹرل ریزرو پولیس فورس (سی آر پی ایف)کے اہلکاروں اور جنگجوئوں کے درمیان فائرنگ کے تبادلے میں اپنی نجی گاڑی میں سوار ایک عام شہری مارا گیا، جبکہ مہلوک شہری کا تین سالہ نواسہ معجزاتی طور پر بچ گیا۔معلوم ہواکہ بدھ کی صبح تقریباًساڑھے 8 بجے سوپور میں جنگجوئوں کے سی آر پی ایف کی ایک ناکہ پارٹی پر اس حملے کی اطلاع ملتے ہی کشمیر پولیس کے اہلکار اور مقامی صحافی جائے وقوع پر پہنچے جہاں انہوں نے دل دہلانے والا منظر دیکھا۔ایک مقامی صحافی نے بتایاکہہم جب جائے وقوع پر پہنچے تو ہم نے ایک شخص کی خون میں لت پت لاش سڑک کے کنارے دیکھی اور ایک چھوٹے بچے کو اس کے سینے پر بیٹھے روتے بلکتے ہوئے دیکھا۔ایک ویڈیو جرنلسٹ نے بتایاکہ پولیس کے ایک اہلکار نے مذکورہ بچے، جس کے کپڑوں پرداداکا خون لگا ہوا تھا، کو اپنے سینے سے لگایا اور اس کو اپنی بانہوں میں اٹھا کر پولیس کی ایک چھوٹی گاڑی میں ڈال کر محفوظ مقام پر منتقل کردیاتاہم پولیس کی گاڑی میں معصوم عیاد روتا بلکتا رہا،اورغالباً زنانہ پولیس اہلکار اُس کی توجہ کسی اورجانب کرنے کی کوشش کرتے کرتے تھک گئی ۔فائرنگ کے تبادلے میں ہلاک ہونے والے شہری کی شناخت سری نگر کے مضافاتی علاقے مصطفیٰ کالونی ایچ ایم ٹی کے رہنے والے بشیر احمد خان ولد غلام محمد خان کے بطور ہوئی ہے۔مذکورہ شہری کے اہل خانہ کاالزام ہے کہ بشیر احمد جنگجوئوں کی نہیں بلکہ سکیورٹی فورسز کی گولیوں کا نشانہ بنے۔ معلوم ہوا کہ بشیر احمد پیشے کے اعتبار سے ایک ٹھیکے دار تھے۔ وہ اپنے 3 سالہ نواسے عیاد جہانگیر کو اپنے ساتھ لے کر سوپور میں تعمیراتی سائٹ پر جارہے تھے۔جہاں وہ کراس فائرنگ میں گولیاں لگنے سے جاں بحق ہوگیا۔مہلوک شہری بشیر احمد کے ایک بیٹے کاحوالہ دیتے ہوئے ایک میڈیارپورٹ میں کہاگیاکہ میرے والد اپنے نواسے کولیکر جمعرات کوصبح 6 بجے گھر سے نکلے۔ ان کا سوپور میں کام چل رہا تھا۔ وہاں فائرنگ شروع ہوئی،جس دوران بقول سوگوار بیٹے کے فورسزاہلکاروں کی گولیوں سے اُسکاباپ جاں بحق ہوگیا۔ایک میڈیا رپورٹ میں سی آرپی ایف کے ایک ترجمان کاحوالہ دیتے ہوئے تحریر کیاگیاہے کہ میرے لیے یہ کہنا مشکل ہے۔ آپ کراس فائرنگ لکھ سکتے ہیں؟۔سوپور پولیس نے سکیورٹی اہلکاروں کے ہاتھوں عام شہری کے قتل کی خبروں کو بے بنیاد قرار دے دیا ہے۔اپنے ٹوئٹر پیغام میں سوپور پولیس نے لکھاکہ سوشل میڈیا ویب سائٹس پر (پولیس کی جانب سے) ایک عام شہری کو ہلاکئے جانے کی خبریں مکمل طور پر بے بنیاد اور حقائق کے منافی ہیں۔ سوپور پولیس ان رپورٹس کو مسترد کرتی ہے اور غلط خبریں اور افواہیں پھیلانے والوں کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے گی۔جے کے اینس ایس

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں