پلوامہ/ تنہا ایاز/
جموں و کشمیر میں4۔جی موبائل انٹرنیٹ سروس بحال کی جائے ۔سست رفتار انٹرنیٹ کی وجہ سے نہ صرف طالب علموں کو بلکہ تاجر کاروباری ادارے سے وابستہ افراد کو سخت مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ پچھلے دس ماہ سے جمو ںو کشمیر4-Gموبائل انٹرنیٹ سروس خدمات سے محروم ہے۔ جموںو کشمیر کے طالب علموں کو اپنا تعلیمی مستقبل تاریک ہی نہیں بلکہ خطرے میںنظر آرہا ہے کوئی بھی قوم تعلیم کے بغیر ترقی نہیں کر سکتی ہے۔ کالجوں میں پچھلے کئی برسوںسے عارضی کنٹریکچول لیکچرار اپنی خدمات انجام دے رہے ہیں۔ انکی نوکری کو مستقل بنانے کیلئے سرکار فوری طور اقدامات اٹھائیں ان خیالات کا اظہار نیشنل ہیومن رائٹس و سوشل جسٹس کے چیف ایگزیکٹیو ڈائریکٹر نے پریس کے نام ایک تحریری بیان میں کیا۔ تفصیلات کے مطابق نیشنل ہیومن رائٹس سوشل جسٹس کے چیف ایگزیکٹیو ڈائریکٹر ایڈوکیٹ ایم آئی زرگر نے پریس کے نام جاری ایک بیان میں کہا کہ جموںو کشمیر میں4-Gانٹرنیٹ سروس پر پچھلے دس ماہ سے پا بندی عائدہے۔ جسکی وجہ سے تعلیم بُری طرح سے متاثر ہوگئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ کورونا وائرس کا قہر جا ری ہے اور مار چ سے لاک ڈائون کی وجہ سے سکول اور کالجز بند ہیں۔ اگر چہ آن لائن کلاسز بھی شروع کئے گئے ہیں تاہم سست رفتار انٹرنیٹ کی وجہ سے بچے تعلیم حاصل نہیں کر پا رہے ہیں انہوں نے کہا کہ پچھلے سال اگست سے جموںو کشمیر میں4-Gانٹرنیٹ سروس پر قدغن ہےجس کے نتیجے میں زند گی کا ہر شعبہ ٹورازم، تعلیم بُری طرح سے متاثر ہے۔ بیان میں نیشنل ہیومن رائٹس سو شل جسٹس کے چیف ایگزیکٹیو ڈائریکٹر نے مزید کہا کہ سرکار کو فوری طور پر جموںو کشمیر میں4-Gانٹرنیٹ سروس پر پا بندی ہٹادینی چاہئے تاکہ طالب علموں کو تعلیم حاصل کرنے میں مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ انہوں نے کہا کہ کوئی بھی قوم ملک تعلیم کے بغیر ترقی نہیں کر سکتا ہے۔ جموںو کشمیر کو اگر تعلیم کے میدان میں آگے بڑھاناہے تو سرکار کو اس شعبے میں بہتری لانے کیلئے سنجید گی کے ساتھ اقدامات اٹھانے ہوں گی اور خاص طور پر اساتذہ کےمسائل و مشکلات کی طرف توجہ دینی ہو گی۔ ادھر جموں سے نیشنل ہیومن رائٹرس سو شل جسٹس کے چیف ایگزیکٹیو ڈائریکٹر ایڈو کیٹ ایم آئی زرگر نے ٹیلی گفتگو میں کہا کہ جموں، کشمیر اور لداخ میں2100کالج کنٹریکچول لیکچرار مختلف کالجوں میں اپنی خدمات انجام دے رہے ہیں۔ پی ایچ ڈی ایم فِل کی ڈگریاں حاصل کرنے کے با وجود بھی انکی نوکریوں کو مستقل نہیں کیا جارہا ہے جس کی وجہ سے کالج کنٹریکچول لیکچرار ذہنی پریشانی میں مبتلا ہے۔ انہوں نے جموںو کشمیر کے سرکار سے مطالبہ کیا ہے کہ کالجوں میں کام کر رہے عارضی کنٹریکچول لیکچراروں کی نوکری کو مستقل بنانے کیلئے فوری طور پر اقدامات اٹھانے چاہئے تاکہ تعلیم کے شعبے کو بہتر ڈھنگ سے آگے لے جایاجا سکے۔
112
