96

سولینہ سلک فلچرس احاطے کو ثقافتی مرکز کے طور پر ترقی دی جا رہی ہے : دویدی

جموں//کمشنر سیکرٹری صنعت و حرفت منوج کمار دویدی نے عالمی بنک کی معاونت والے جہلم توی فلد ریکوری پروجیکٹ کے روز گار کے عنصر کا تفصیلی جائیزہ لیا ۔ میٹنگ میں منیجنگ ڈائریکٹر (جے کے آئی )، ڈائریکٹر خزانہ و ایڈیشنل سیکرٹری محکمہ صنعت و حرفت اور جے ٹی ایف آر آر پی کے دیگر افسران موجود تھے ۔ پروجیکٹ کے تحت سولینہ سلک فلچرس احاطے کو فن ، دستکاری اور ثقافتی مرکز کے طور ترقی دی جا رہی ہے ۔ اس موقعہ پر بتایا گیا کہ اس ضمن میں مفصل پروجیکٹ رپورٹ کو مرتب کرنے کیلئے پہلے ہی کنسلٹینٹ مقرر کیا گیا ہے اور پروجیکٹ پر عنقریب کام شروع ہو گا ۔ پروجیکٹ کے تحت جموں کشمیر کے کاریگروں کی مفصل تفصیل مرتب کی جا رہی ہے اور مکمل ہونے پر جموں کشمیر قریباً 2.50 لاکھ کاریگروں کی معاشرتی و معاشی حالاتِ زندگی میں بہتری لانے کیلئے موثر اقدامات اٹھائے جائیں گے ۔ پروجیکٹ کے تحت 5 دستکاری و ہینڈ لوم کلسٹروں کو ترقی دی جائے گی ۔ نور باغ کشیدہ کاری کلسٹر ، ذڈی بل پیپر ماشی کلسٹر ، بانڈی پورہ اون کلسٹر کو ترقی دینے کیلئے پہلے ہی اقدامات اٹھائے جا چکے ہیں جن سے ان کلسٹروں سے وابستہ کاریگر مستفید ہو رہے ہیں ۔ ان اقدامات سے 5 کلسٹروں کیلئے 14.0 کروڑ روپے کی تجارت متوقع ہے جس سے قریباً 2400 کاریگر براہ راست مستفید ہوں گے ۔ پروجیکٹ کے تحت گورنمنٹ سلک فیکٹری راج باغ اور گورنمنٹ وولن ملز بمنہ کی جدید کاری کا کام بھی ہاتھ میں لیا جا رہا ہے جس سے غنچہ ابریشم سے وابستہ 20 ہزار کنبوں اور بھیڑ پالن سرگرمیوں سے وابستہ دس ہزار کنبوں کیلئے مارکیٹنگ سہولت فراہم ہو گی ۔ مکمل ہونے پر گورنمنٹ سلک فیکٹری راج باغ کی صلاحیت میں اضافہ ہو گا اور سالانہ 4.50 لاکھ میٹر ریشم کا کپڑا تیار ہو گا جبکہ گورنمنٹ وولن ملز بمنہ میں 2.50 لاکھ میٹر کا اضافہ ہو گا ۔ کمشنر سیکرٹری نے پروجیکٹ پر جاری کام کا جائیزہ لیتے ہوئے تمام نشاندہی کئے گئے کاموں کو بروقت مکمل کرنے کی ہدایت دی تا کہ اس پروجیکٹ کے فوائد سے جموں کشمیر کے لوگ مستفید ہو سکیں ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں