عوام ڈی سی پونچھ سے لگائی گوہار، زمینوں و مکانوں کو تحفظ فراہم کرنے کا کیا مطالبہ ۔
ندائے کشمیر /ماجد چوہدری
پونچھ/16 جون /پونچھ// مرکزی زیرِ انتظام جموں و کشمیر کے سرحدی ضلع پونچھ کی تحصیل منڈی تا بفلیاز سڑک جو مغل شاہراہ سے ہوتی ہوئی منڈی کو براہ راست کشمیر سے جوڑتی ہے اور جو زیرِ تعمیر ہے جس کی کٹائی و اس سڑک گرد ونواح حفاظتی انتظامات کرنے میں جہاں محکمہ و ٹھیکیدار مصروف ہیں تو وہیں سڑک کے گردونواح کی آبادی نے بھی اس سڑک کو علاقوں کی ترقی کی راہ ہموار کرنے کا ذریعہ بتایا لیکن کئی جگہ پر لوگوں کے گھروں و زمینوں کو اس سڑک کی تعمیر کی وجہ سے بہت بڑے پیمانے پر نقصان بھی ہوا ہے ۔
اسی ضمن میں کلانی لہڑ علاقے کے کچھ غریب لوگوں نے بتایا کہ انکی زمینوں کو اس سڑک کی کٹائی کے دوران بہت نقصان پہنچا کیونکہ ٹھیکیدار نے سڑک کی کٹائی کرتے وقت سارا مواد لوگوں کی زمینوں میں ڈال دیا اور جب لوگوں نے آواز بلند کی کہ انکا اور انکے کنبہ کا گزر بسر ہی اسی سڑک پر ہے تو متعلقہ محکمہ بھی ٹھیکیدار کی بولی بولتا نظر آیا جبکہ ٹھیکیدار نے سرکار سے ٹھیکہ لیا ہے سڑک تعمیر کرنے کا جس کے لیے وہ سرکاری خزانے سے ایک موٹی رقم وصول کرے گا لیکن انکی زمینوں کے تحفظ کے لیے نہ ہی کوئی حفاظتی بندوبست کیا گیا اور نہ ہی محکمہ نے ٹھیکیدار کو بولا کہ اس مواد کو کہیں ٹھکانے لگاو جس سے لوگوں کا نقصان نہ ہو۔
وہیں ایک عورت نے بتایا کہ اس کے گھر کے آگے سے سڑک گزر رہی ہے جس کی کٹائی کے وقت اسکے گھر کے قریب سڑک پر ڈنگہ لگانے کی بات کہی تھی لیکن ابھی تک اس کا کچھ بھی نہیں کیا۔
اس عورت نے بتایا کہ اسکی ایک بچی آنکھوں کی بینائی کی بیماری میں مبتلا ہے تو دوسرا بیٹا جموں سے دوائیاں کھا رہا ہے کیونکہ وہ بھی ایک بیماری میں مبتلا ہے اور اسکا شوہر گھر سے باہر مزدوری کے لئے گیا ہے اور بارشوں کا موسم ہے جس میں اسکے مکان کے نیچے سے زمین کھسکنے کا خطرہ لاحق ہے۔
اس عورت نے بتایا کہ جب اس نے محکمہ کے لوگوں سے اپنی روداد بیان کی تو انہوں نے رعب جھاڑ کر مجھے خاموش کر دیا ۔
لوگوں نے ڈپٹی کمشنر پونچھ یاسین محمد چوہدری سے مطالبہ کیا ہیکہ وہ اس معاملے میں ذاتی مداخلت کر انکے ساتھ انصاف کا معاملہ کریں اور انکے مکانات و زمینوں کے تحفظ کو یقینی بنائیں۔

