تقریب میں ان کی تین کتابیں اور میوزک البم کی رسم رونمائی۔ادیبوں ،دانشوروں اور قلمکاروں کا حاجنی صاحب کو شاندار خراج
26اکتوبر /حاجن//آج حاجن کے میونسپل ہال میں حلقہ ادب سوناواری اور وہاب کلچرل سوسائٹی حاجن کے باہمی اشتراک سے عزیز حاجنی کی یاد میں ایک پر وقار ادبی تقریب کا انعقاد کیا گیا۔تقریب میں جموں و کشمیر کے اطراف و اکناف سے آئے ہوئے ادیبوں ،قلمکاروں اور دانشوروں نے شرکت کی۔ تقریب کی صدارت کشمیری اور اردو زبان کے معروف ادیب پروفیسر محمد زماں آزردہ نے کی ،ان کے ساتھ ایوان صدارت میں بزرگ ادیب غلام نبی آتش ،ادبی مرکز کمراز کے صدر محمد امین بٹ ، سرینگر میونسپل کارپوریشن کے کمشنر اطہر عامر خان اور اظہر حاجنی بھی رہے۔تقریب کا آغاز شبیر مقبول نے تلاوت کلام پاک سے کیا جس کے بعد سجاد رشید نے اپنی سحر انگیز آواز میں عزیز حاجنی کا مشہور نعت پیش کیا۔حلقہ ادب سوناواری کے صدر شاکر شفیع نے خطبہ استقبالیہ میں عزیز حاجنی کی شخصیت کے مختلف پہلو اجاگر کیے۔ پروفیسر فاروق فیاض نے اپنے کلیدی خطبے میں عزیز حاجنی کی زندگی کے مختلف گوشوں پر روشنی دالٹتے ہوے ان کی زندگی کے مختلف انہار اجاگر کرتے ہوے ان کے شخصیت کا تعین کیا۔اس کے بعد عزیز حاجنی کی تین کتابیں اجرا کی گئی جن میں “یی ہا مے ونے آؤ” Aziz Hajini Man and Missionاور Aziz Hajini indelible . ان تین کتابوں پر ڈاکٹر گلزار، افتخار عمران اور پروفیسر شیخ اعجاز نے تبصرے پیش کیے۔اس کے بعد راجہ بلال اور کشن لنگو کا تیار کیا گیا میوزک البم ریلیز کیا گیا۔تقریب میں پروفیسر شاد رمضان،مشتاق احمد تانترے ، عیاش عارف ،اعجاز احمد ککرو نے عزیز حاجنی کو شاندار الفاظ میں خراج پیش کیا۔غلام نبی آتش نے اپنے خطبے میں عزیز حاجنی کے ساتھ اپنی دیرینہ وابستگی کا ذکر کرتے ہوئے ان کو شاندار خراج پیش کیا۔محمد امین بٹ نے رقعت آمیز لہجے نے پرانی یادوں کو تازہ کرتے ہوئے عزیز حاجنی کو ایک عظیم لسانی ،علمی اور ادبی شخصیت قرار دیا۔ پروفیسر آزردہ نے عزیز حاجنی کو ایک کشمیر کا ایک حقیقی سپوت قرار دے کر انہیں عظیم شخصیت قرار دیا۔اظہر حاجنی نے آخر پر تمام مہمانوں اور اداروں کا شکریہ ادا کیا۔ اس نشست کی نظامت کے فرائض ڈاکٹر ریاض الحسن نے انجام دیے۔ اس تقریب کی دوسری نشست میں شعراء نے عزیز حاجنی کو منظوم خراج پیش کیا۔اس مشاعرے کی صدارت اختر منصور نے کی نے کی جبکہ سناللہ نیاز بھی ایوانِ صدارت میں رہے۔مشاعرے کی نظامت سہیل فاروق نے انجام دی۔آخر پر شیخ غلام محمد نے شکرانہ کی تحریک پیش کی۔ اس تقریب میں میونسپل کمیٹی حاجن کا تعاون رہا اور تقریب ادبی مرکز کمراز کی سرپرستی میں منعقد ہوئی۔
