سرینگر؍؍18 اکتوبر؍وادی میں ٹارگٹ کلنگ کے واقعات میں حالیہ اضافے کو لیکر سرینگرسے دلی تک تشویش پائی جارہی ہے جبکہ صورتحال پر فوری قابو پانے کیلئے سی آر پی ایف ،این آئی اے اور فوج کی اعلیٰ قیادت خفیہ ایجنسیوں کی اطلاعات پر نظر گزر رکھنے کیلئے وادی میں خیمہ زن ہیں جبکہ فوجی سربراہ جنرل ایم ایم نروانے دو روزہ دورے پر جموں آرہے ہیں۔اس بیچ نئی دلی میں پیر کو وزیر داخلہ امت شاہ کی صدارت میں ملک بھر کے پولیس سربراہوں اور انسپکٹر جنرلوں کی ایک غیر معمولی میٹنگ ہوئی جس میں جموں وکشمیر اور شمال مشرقی ریاستوں کی تازہ ترین سلامتی صورتحال پر تبادلہ خیال ہوا۔میٹنگ میں خفیہ ایجنسیوں کے اعلیٰ عہدیداروں کے علاوہ قومی سلامتی کے مشیر اجیت دوال بھی موجود تھے۔ایس این ایس کے مطابق وادی میں سیکورٹی صورتحال کو درپیش نئے چیلنجو ں اور عام شہریوں کی ٹارگٹ کلنگ میں اچانک اضافے نے وزارت داخلہ کے ساتھ منسلک اداروں کو فکر وتشویش میں مبتلا کردیا ہے اور صورتحال پر فوری قابو پانے کیلئے سرینگر سے لے کر دلی تک تمام ایجنسیوں کو متحرک کردیا گیا ہے ۔اس بیچ سی آر پی ایف اور قومی تحقیقاتی ایجنسی یا این آئی اے کے سربراہ کلدیپ سنگھ گزشتہ چند روز سے وادی میں موجود ہیں جو انٹلی جنس ایجنسیوں کی رپورٹ کا جائزہ لے رہے ہیں۔فوج، آئی بی اور سی آر پی ایف کے اعلیٰ حکام بھی وادی میں ڈیرہ ڈالے ہوئے ہیں اور صورتحال کی مانیٹرنگ کررہے ہیں۔میڈیا رپورٹس کے مطابق این آئی اے کے چھاپوں کے بعد سراغ رساں ایجنسیاں جنگجویانہ حملوں میں اضافے کا خدشہ ظاہر کررہے ہیں جس کی مثال غیر کشمیر ی مزدوروں کی حالیہ ہلاکتیں دی جارہی ہیں۔کشمیر وادی میں اس سال مختلف آپریشنز کے دوران جنوری سے اب تک 132جنگجو مارے گئے ہیں جبکہ 254کو گرفتار کرلیا گیاہے۔پچھلے 9روز کے دوران 13جنگجو اور 11عام شہری مارے گئے جبکہ پونچھ کے مینڈھر علاقے میں 9فوجیوں کو بھی جھڑپ کے دوران مار دیا گیا ہے۔اس بیچ نئی دلی میں سوموار کو وزارت داخلہ کی بند کمرے میں ایک غیر معمولی میٹنگ ہوئی جس کی صدارت وزیر داخلہ امت شاہ نے کی۔یہ میٹنگ سہ پہر 3بجے شروع ہوئی اور اس میں ہندوستان بھر کی ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں کے پولیس سربراہوں،انسپکٹر جنرلوں،خفیہ اداروں کے سربراہوں اور سینئر عہدیداروں نے شرکت کی۔قومی سلامتی کے مشیر اجیت دوال بھی اس میٹنگ میں موجود تھے۔معلوم ہواہے کہ میٹنگ کے دوران جموں وکشمیر کی تازہ ترین صورتحال اور شمال مشرقی ریاستوں کی سیکورٹی صورتحال پر خاص تبادلہ خیال ہوا ۔اروناچل پردیش میں چینی فوج کی تازہ دراندازی کے واقعات کے بارے میں بھی میٹنگ کے دوران تبادلہ خیال ہونے کی اطلاعات ہیں۔
82
- فیس بک
- ٹویٹر
- واٹس ایپ
- ای میل
