تحریر: شیخ بشیر احمد
پہلی قسط
بستی میں وہ کب آیا۔۔ ؟ کہاں سے آیاحسب و نسب کیا تھا۔۔۔۔؟ کسی معلوم نہ تھا اور انہیں یہ بھی پتہ نہیں کہ وہ کب بستی سے غائب ہوگیا۔۔۔؟کہاں چلا گیا۔۔۔؟کدھرچلاگیا۔۔۔؟ آسمان کھاگیا یا زمین نگل گئی وہ لوگوں کے لئے ایک معمہ بن کر رہ گیا۔ ایک دن اچانک وہ کہیں سے ہوا کے جھونکے کی طرح بستی میں نمودار ہوا۔ تب سے پھر لوگوں کی نظروں میں آگیا تھا۔ اس کا کوئی مستقل رہائشی ٹھکانہ نہ تھا۔
گاہے بہ گاہے وہ بس اڈہ میں کسی دکان کے تھڑے پر سویا ہوا پایا جاتا یا گاہے خانقاہ یا گوردوارے کی باہری سیڑھیوں پر کمبل اوڑھے مست نیند میں خراٹے لیتے ہوئے ملتا۔ اس کی شخصیت بڑی معنی خیز تھی۔ گرگٹ کی طرح وہ ہر بار اپنا رنگ و روپ بدلتا رہتا۔کبھی خان ڈریس پہن کر مسلمان جیسا لگتا کبھی کیسری رنگ کے گیروے کرتے اور سفید دھوتی میں ہندو دکھائی دیتا یا کبھی سر پر پگڑی پہنے سکھ ہونے کا گمان ہوجاتا تھا۔ وثوق سے اس کے بارے میں کچھ کہا نہیں جاسکتا۔ آخر بھلا وہ کس فرقے یا طبقے سے تعلق رکھتا تھا۔ کسی کو پتہ نہ تھا۔مگر تھا ایک ایسا اوباش اور بگڑا آدمی جس کا کوئی دین و دھرم نہ تھا۔
ہٹا کٹا بھرپور جسم کا مالک تھا۔ بظاہر وہ ایک شریف طبع دکھائی دیتا تھا۔ دن بھر بستی کے بس اڈہ میں قلی کا کام کیا کرتا۔ آوارہ گردی اس کی عادت تھی۔ کئی بار پولیس کے ہاتھوں پٹ چکا تھا۔ بسا اوقات جب جیب خالی ہوجاتی تو جیبیں کاٹ کر اپنی ضروریات پوری کرنے کی کوشش کرتا۔ اپنی کمائی کا زیادہ تر حصہ شراب اور جوئے پر لگادیتا تھا۔ اب تک لگ بھگ پچاس سے زائد بہاریں اور خزان دیکھ چکا تھا۔ کوئی دودھ پیتا بچہ نہ تھا جو اس عمر میں اسے کوئی روکنے اور ٹوکنے والا ہوتا۔ اپنی مرضی کا آپ مالک تھا۔ کافی سمجھانے کے باوجود بھی اپنے بُرے کرتوتوں سے باز نہ آتا تھا۔ جب کوئی کام کاج نہ ہوتا تو دن بھر اقبال سنگھ سردار نامی کے ڈھابے پر بیٹھ کراونگھتے ہوئے نظر آتا۔ شاید ہی وجہ تھی کہ وہاں بیٹھنے پر اسے اقبال سنگھ کا نام پڑگیا تھا اور بعد میں اسی نام سے پوری بستی میں معروف ہوا۔
کئی ہفتوں سے شراب اور گانجا پینے سے اس کی طبیعت گری گری سی رہنے لگی اور وہ عجب دوبدھا میں پڑ گیا۔ مقامی ڈسپنسری میں جاکر ڈاکٹر سے تشخیص کروائی۔ ڈاکٹرنے اس کے علاج میں کوئی کسر نہیں چھوڑی۔ چند دنوں میں ہی اس کی حالت ٹھیک ہوگئی اور وہ اپنے دھندے میں دوبارہ لگ گیا۔گرمی کا زمانہ تھا ۔ دھوپ سخت تھی ۔ اقبال سنگھ بستی کی خانقاہ کے پاس سے گزر رہا تھا ۔ اس نے خانقاہ کے باہری گیٹ کی سیڑھیوں پر ایک ضعیف العمر بوڑھے آدمی کو دیکھا۔ جو وہاں ٹوٹے پھوٹے چھاتے کے تلے چٹائی بچھائے بیٹھے بچوں کی قسم ہا کھلونے بیچ رہا تھا۔ اس کا جسم پسینے میں شرابور تھا۔ جس سے دیکھ کر وہ ٹھٹھک سا گیا۔ اور لگا جیسے کسی نے اس کے سینے میں اچانک چھر گھونپ دیا ہو۔ اس سے یہ رقت آمیز منظر دیکھا نہ گیا۔ جیسے اس کی بے بسی نے اسے بہت کچھ کہہ دیا ہو۔ اس کی آنکھیں ڈبڈبا آئیں۔ اچانک اس کی نظروں کے سامنے زندگی کے جانے کتنے واقعات پلک جھپکتے گذر گئے کہ جس نے اس کے دل و دماغ کے تاروں کو جھنجھوڑ کر رکھ دئے۔
بوڑھے پر ترس کھا کر اس نے فوراً اپنی واسکٹ کی جیب میں ہاتھ ڈالا اور اپنی ساری جمع پونجی نکال کر اس کے ہاتھ میں تھمادی اور ہمدردی جتاتے ہوئے کہا’’ یہ لو بابا کچھ روپے ہیں۔ تمہارے کام آئیں گے۔ ‘‘
’’نا ۔۔۔ نا۔۔۔ بیٹے۔ مجھے نہیں چاہئے۔ میں اپنا دھندا کررہا ہوں۔‘‘ یہ کہتے ہوئے بوڑھے نے روپے واپس لوٹا دئے۔
بابا۔ یہ خیرات نہیں ہے۔ یوں سمجھو۔ میں تمہیں ایک قسم کی مدد کررہا ہوں۔ مجھے تمہارا اس طرح کھلی دھوپ میں بیٹھنا برداشت نہیں ہوتا۔‘‘
’’بھگوان تیرا بھلا کرے۔ ہمیشہ سلامت رکھے۔ کھلی دھوپ میں بیٹھنا اب میری عادت ہوچکی ہے۔ ‘‘
یہ کہہ کر بوڑھا آدمی ایک لمحہ کیلئے رکا۔ اس کی آنکھوں میں جھانک کر دیکھا اور پھر بولا۔
’’بیٹے! لگتا ہے کہ تم ایک اچھے آدمی ہو۔ غلط طریقے کی کمائی میں وہ سکون کہاں ہے جو حلال کمائی میں ہے۔ اس کا اپنا ایک الگ لطف اور مزہ ہے ۔ ایک سکون ہے۔‘‘
بوڑھے کی باتیں اس کے کانوں میں نشتر کی طرح اُتر گئی اور وہ دم سا دھے کھڑاسنتا رہا۔ اس کی نظر میں بوڑھے کےجھریوں بھرے چہرے پر جمی رہیں اور ذہن خیالوں میں الجھا رہا
اس کی باتوں سے اتنا متاثر ہوا کہ دل ہی دل میں اپنے بُرے کرتوں پر خود کو ملامت کرتا رہا۔ جیسے اچانک پہاڑ کے نیچے اونٹ آگیا ہو۔ اسے لگا جیسے بوڑھے سے کہنے کیلئے اب اس کے پاس کچھ نہیںبچا ہے ۔ لہذا اس نے چپ رہنا ہی مناسب سمجھا۔ چند لمحوں تک اس پر ایک ہیجانی کیفیت سے طاری ہوئی۔ گویا وہ اپنی سدھ بدھ کھو بیٹھا تھا۔
چند لمحے یوں ہی گزرے کہ اچانک نہ جانے اس کے من میں اتنی اداسی کہاںسے سمٹ آئی کہ اس نے اپنے گناہوں سے توبہ کرنے کی نیت کی اور وہاں سے بوجھل من لیے کھسک گیا۔
دوسرے دن اپنے گناہوں سے توبہ کرنے کی نیت سے وہ مندر گیا۔ اتفاق سے وہاں اس وقت لوگوں کی تعداد معمول سے کم تھی۔ شاید گرمی کی شدت کی وجہ سے لوگ آنہ سکے تھے۔ یہ دیکھ کر اس کا دل بلیوں اچھلا۔وہ مندر کے سامنے ایک باغیچے میں اپنا اچاٹ سا من لئے ایک تنہا گوشے میں بیٹھ گیا۔ جہاں آسیب کے ڈر کے مارے اکثر لوگ تیز تیز قدم اٹھا کر گذر جاتے۔
آج جب وہ زندگی میں پہلی بار بنا پی کے بھگوان کا درشن کرنے آیا تو اس وقت اس کے چہرے پر نہ شکن تھی نہ بیزاری۔ فکر تھی تو اپنے پاپوں سے پرایسچت کرنےکی۔ ویسے عمر بھر بُرے کاموں کے سوا کیا ہی کیا تھا اس نے ہمیشہ نشے میں دھت ہوکر چوری چکاری، مار دھاڑ، گالی گلوچ یا لڑتا جھگڑتا رہتا۔
کسی نے خوب کہا ہے کہ جب انسان میں کوئی اچھا کام کرنے یا خود کو سدھرنے کا جذبہ شوق و جنون پیدا ہوجاتا ہے تو راہیں خود بخود کھل جاتی ہیں اور اس کا کام آسان بنا دیتی ہیں اور ساتھ ہی بھگوان بھی ٰخوش ہوجاتا ہے۔ یہ تو قسمت اچھی تھی کہ اس روز اس نے خانقاہ ے باہری گیٹ پر ایک ضعیف بوڑھے بزرگ کو چلچلاتی دھوپ میں بچوں کے کھلونے بیجتے ہوئے دیکھا جو زندگی گزارنے کیلئے محض چند روٹی کے ٹکڑوں کی خاطر حلال طریقے سے کما رہا تھا۔جس نے اس کے دل و دماغ کے تاروں کو ہلا کر رکھ دیا تھا اور وہ سکتے کے عالم میں بت بنا وہیں کھڑا اسے دیکھتا رہا۔
اب جبکہ زندگی میں یہ اس کا پہلا موقع تھا تو اس نے من ہی من میں بنا کسی دھونس و دبائو میں شراب نوشی سے توبہ کرنے کا فیصلہ کرلیا۔ دیکھتے ہی دیکھتے اس کے دل پر پڑا بوجھ ایک دم سے ہٹ گیا اور پھر وقت نے ایسا پلٹ کھایا کہ زندگی کا رخ بدل کر رہ گیا۔
نہ جانے یہ فیصلہ اس نے بوڑھے بزرگ کو دیکھ کر لیا یا بھگوان کے خوف و ڈر نے اسے مجبور کردیا۔ یہ تو بھگوان جانے۔
وہ مراقبہ کی حالت میں اپنی نم آنکھیں اوپر اٹھا کر آسمان کی طرف دیکھ رہا تھا اور دل میں نئی زندگی کی شروعات کیلے خود کو تیار کر رہا تھا۔ دفعتاً بیتے دنوں کی یادوںنے اسے گھیر لیا ور وہ اپنے گناہوں پر نادم ہوکر بلک بلک کر رونے لگا۔ خود کو ملامت کرتا رہا اور کوستا رہا۔
اس کے زخموں پر مرہم رکھنے والا کوئی نہیں تھا۔ لہذا وہ اپنی زندگی سے دل برداشتہ ہوگیا۔ اب اس کا ایک ہی منشا تھا کہ کس طرح وہ ان گناہوں سے چھٹکارا پانے کیلئے توبہ کرلے اور سر سے اپنے اس بوجھ کو اتار کر باقی ماندہ دن چین سے رہ سکے اور ایشور بھگوان کی یاد میں گزارے۔
INC
تحریر: شیخ بشیر احمد
ٹینگہ پورہ نواب بازار
6005368893
