مزاجِ خودی ہے زماں رقص میںہے 81

چرچا

توصیف رضا

چلو کہ منزل بنالیں اپنی
محبتوں کے سجائیں گلشن
عنایتوں کے، سعادتوں کے
وہ دھر چکا ہے
محبتوں میں مقام اپنا
چلو کہ ہم بھی
مقام دھر لیں بغاوتوں کے
فقیر ساری کتاب ابجد
جلا گیا کل
ہوئے ہیں قائل
تمام منکر کرامتوں کے
کبھی بھی چرچا
وضاحتوں کا یہاں نہ ہوتا
اگر نہ ہوتے
وہ پھر سے چرچے
فصاحتوں کے
سُنے ہیں چرچے
کہ وہ مُصنف کمال کا ہے
قلم سے اس کے
نکلتےموتی جمال کے ہیں
اُسی خزانے سے ایک موتی
ہمیں بھی مل جائے تو بات بنتی
چھپا کے اس کو
میں من میں رکھتا
شعائیں اس کی
تمام عالم میں پھیل جاتیں
رضا بھی اس سے ہی فیض پاتا
تمام شکوؤں کو بھول جاتا

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں