قدرت نے جس کو صاحبِ وجدان کر دیا 81

قدرت نے جس کو صاحبِ وجدان کر دیا

غزل

ڈاکٹر مظفر منظور

قدرت نے جس کو صاحبِ وجدان کر دیا
اس کو جمالِ یار نے حیران کر دیا
دلکش خیالِ وصل ہے، سب کچھ یہی نہیں
پیدا مری حیات کا امکان کر دیا
ممکن نہ تھی رسائی، فقط رسمِ مستقل
میرے رقیب کو ہی نگہبان کر دیا
تکرار آج بھی ہے، شفق سا گلال بھی
جس بات پر کہ چاک گریبان کر دیا
عشرت کدوں میں واں ہیں بڑی بے نیازیاں
یاں دشت ہو کو ہم نے شبستان کر دیا
ہے بزم بے ثبات ہراساں کیے ہوئے
آرائشِ جہاں نے پریشان کر دیا
محظوظ کیوں نہ ہوں وہ مرا حال دیکھ کر
دیوانگی میں دل کو بیابان کر دیا
مشکل میں گو حیات، تردّد میں جان ہے
دل کو ترے خیال سے گنجان کر دیا
اس سے بڑی مثال کرم کی نہیں کوئی
مجھ کو مِرے خدا نے مسلمان کر دیا
ڈاکٹر مظفر منظور۔اسلام آباد کشمیر
9469839393

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں