سرجیکل اسٹرائیک اضح پیغام تھی کہ کوئی بھی ہندوستان کی سرحدوں کو نشانہ نہیںبنا سکتا / امیت شاہ
بھارت میںایک نئے دور کا آغاز ہو گیا ، پڑوسی ملک حرکتوں سے باز نہیںآیا تو کچھ بھی کر سکتے ہیں
سرینگر/ 14 اکتوبر /سی این آئی// گوا کی سرزمین سے ایک مرتبہ پھر پاکستان کے نام سخت پیغام دیتے ہوئے مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے کہا کہ ایک وقت تک جب سرحدوں پر حملے کے بعد ہم بات چیت کا عمل شروع کرتے تھے تاہم اب ایسا نہیںہوگا اور واضح کر دیا گیا کہ اس پار سے ہونے والی ہر حرکت کا بھر پور انداز میںجواب دیا جائے گا ۔ انہوں نے کہا کہ سرجیکل اسٹرئیک ایک واضح پیغام تھی کہ بھارت کے سرحدوں کے ساتھ کوئی چھیڑ خوانی نہیںکر سکتا ہے ۔ سی این آئی مانیٹرنگ کے مطابق گوا میں نیشنل فرانزک سائنسز یونیورسٹی کی سنگ بنیاد کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے مرکزی وزیر داخلہ امیت شاہ نے کہا کہ سرحدوں پر پڑوسی ملک کی جانب سے ہونی والی کارروائیوں کو اب برداشت نہیںکیا جا سکتا ہے جبکہ ہر کارورائی کا بھر پور انداز میں مناسب جواب دیا جائے گا ۔ انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم مودی اور سابق وزیر دفاع منوہر پاریکر کے کی سربراہی میںہوئی سرجیکل اسٹرائیک ایک واضح پیغام تھا کہ کوئی بھی ہندوستان کی سرحدوں کو نشانہ نہیںبنا سکتا ۔ انہوںنے کہا کہ جب بھی کھبی سرحدوں پر حالات کشیدہ ہوتے تھے تو ہم امن کیلئے بات چیت کا راستہ اختیار کرتے تھے تاہم اب ایسا نہیںہوگا ۔ امیت شاہ نے کہا کہ بدل گیا ہے اور اب گولی کا جواب گولی سے ہی دیا جائے گا ۔ امیت شاہ نے مزید کہا کہ یہ ایک نئے باب کا آغاز تھا جب بھارت نے یہ پیغام دیا کہ وہ اسی زبان میں جواب دے گا۔وزیر داخلہ کا پیغام ایک ایسے وقت میں آیا ہے جب جموں و کشمیر میں عسکریت پسندوں کی سرگرمیوں میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے اور پچھلے کچھ دنوں میں بہت سے شہری مارے گئے ہیں۔انہوںنے کہا کہ ہم نے ہمیشہ امن کو ترجیح دی تھی تاہم پاکستان ہماری بولی کو سمجھ نہیںپایا اور اپنی حرکتوں سے باز نہیں آتا ہے لہذا حکمت عملی کو تبدیل کر دیا گیا ہے اور سرحدوں پر تعینات فورسز کو ہدایت دی گئی ہے کہ کسی بھی کوشش کا بھر پور انداز میںجواب دینے کیلئے تیار رہیں ۔ امیت شاہ نے کہا کہ ہم واضح کر دینا چاہتے ہیں کہ جموں کشمیر میں امن کی صورتحال کو بگاڑنے کی اجازت نہیںدی جائے گی ۔ لہذا جو بھی کوئی کارورائی اس پار سے ہو گی اس کا دندان شکن جواب دیا جائے گا ۔ انہوں نے مزید کہا کہ ملک کی سیکورٹی اور سلامتی پہلی ترجیحات میں شامل ہے لہذا جو کوئی بھی اس کو للکار نے کی کوشش کریں گا تو اس کا اسکی زبان میںجواب ملے گا ۔
89
