86

کشمیر میں 90دہائی کی تاریخ دوبارہ نہ دوہرانے جائیں

معصوم شہری ہلاکتیں روایتی بھائی چارے کو زک پہنچانے اور انہیں کشمیر سے باہر نکالنے کی ایک سازش / عمر عبد اللہ
سرینگر/08اکتوبر/کشمیر میں 90دہائی کی تاریخ دوبارہ نہ دوہرانے کا مطالبہ کرتے ہوئے نیشنل کانفرنس کے نائب صدر اور سابق وزیر اعلیٰ عمر عبد اللہ نے اقلیتی طبقے سے اپیل کی ہے کہ وہ اپنے گھر چھوڑ کر کہیں نہ جائیں ۔ انہوںنے کہا کہ معصوم شہری ہلاکتیں روایتی بھائی چارے کو زک پہنچانے اور انہیں کشمیر سے باہر نکالنے کی ایک سازش ہے تاہم ہمیں ان سازشوں کو کامیاب نہیں ہونے دینا ہے۔ سی این آئی کے مطابق سنگم عیدہ گاہ میں نا معلوم مسلح افراد کی فائرنگ سے از جاںہوئی سنگھ پرنسپل کے گھر واقع آلوچی باغ سرینگر تعزیتی پرسی کیلئے جانے کے بعد میڈیا سے بات کرتے ہوئے نیشنل کانفرنس کے نائب صدر عمر عبد اللہ نے کہا “میں درد کو سمجھ سکتا ہوں اور ڈرتا ہوں کہ مہلوک سکھ پرنسپل کے خاندان اور اقلیتی برادری کے افراد پر کیا گزرتی ہوگی ‘‘۔ انہوںنے کہا کہ میرا ماننا ہے کہ ان حملوں کا مقصد کمیونٹیوں کے درمیان دراڑ ڈالنا اور انہیں کشمیر سے باہر دھکیلنا ہے۔ تاہم ہم ایسا نہیں ہونے دیں گے ۔
انہوں نے کہا کہ میں اقلیتی برادری کے ارکان سے اپیل کرتا ہوں کہ وہ 90 کی دہائی کے اوائل کو دہرانے کی اجازت نہ دیں اور خوف سے اپنے گھروں کو چھوڑ کر نہ چلیں جائیں ۔ انہوں نے کہا کہ وادی کشمیر میںہر طبقہ محفوظ ہے اور صدیوں پرانے بھائی چارے کو زک پہنچانے کیلئے جو سازشیںہو رہی ہے انکو کامیاب نہیںہونے دیا جائے گا ۔ عمر نے جموں وکشمیر انتظامیہ کے صرف کشمیری پنڈت برادری سے تعلق رکھنے والے سرکاری ملازمین کو 10 دن کی چھٹی دینے اور سکھ برادری کے ارکان کو نظر انداز کرنے کے فیصلے پر بھی سوال اٹھایا۔انہوںنے کہا کہ یہ دو روائی کیوں ہے ۔ حکومت کو اپنے فیصلے پر نظر ثانی کرنی چاہیے اور سکھ برادری سے تعلق رکھنے والے سرکاری ملازمین کو بھی شامل کرنا چاہیے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں