رفیق و شفیق مخمور کی یاد میں 75

بنت عائشہ

ملک منظور

اقبال اور اسد بچپن کے دوست تھے ۔دونوں نے ابتدائی تعلیم ایک ہی اسکول میں حاصل کی تھی۔ نے ایل ایل بی کی ڈگری حاصل کی اور ہائی کورٹ میں وکالت کرنے لگا ۔قابلیت ، متانت ،فصاحت اور بہترین انداز گفتگو کی وجہ سے اس نے بہت جلد اپنا لوہا منوایا اور کامیابی کی منزلیں طے کرتا گیا ۔اسی اثنا میں اس نے زریفہ نامی ایک لڑکی سے شادی کی ۔زریفہ بھی پیشے سے وکیل تھی اور شہر خاص کی بسکین بھی ۔اسد نے شہر میں ہی مکان بنوایا اور وہیں آباد ہوگیا ۔
اقبال اپنی تعلیم جاری نہ رکھ سکا اس لئے گھر میں ہی کھیتی باڑی کرنے لگا ۔اس کی شادی گاوں میں ایک بڑے زمیندار کی بیٹی شریفہ سے ہوئی ۔دونوں میاں بیوی نے محنت مشقت کرکے سیبوں اور بادام کے باغات بناکر ترقی کے دروازے کھول دیئے ۔اب‌‌ ان کےگھر میں کسی چیز کی کمی نہیں تھی ۔گھر کا کام کاج نوکر اور مزدور کرتے تھے ۔ان کے گھر میں ایک بیٹی اور ایک بیٹا پیدا ہوئے ۔ان کی تعلیم و تربیت میں اقبال نے کوئی کمی نہیں رکھی ۔بیٹا اپنی زندگی جدید تقاضوں کے مطابق گزارتا تھا جبکہ بیٹی عائشہ اس کے برعکس تھی ۔اس پر مغربی تہذ یب کا کوئی اثر نہیں پڑا ۔وہ اپنے گاؤں کے ریتی رواج کے عین مطابق زندگی گزارنے لگی ۔۔۔گاوں میں اگر چہ اس روپ اور سادگی کو سراہا جاتا تھا لیکن وقت کی بدلتی نزاکتیں اس کو منظور نہیں کرتی تھیں ۔عائشہ نظریں جھکا کر اورچہرے پر نقاب لگا کر گھر سےباہر نکلنا پسند کرتی تھی ۔۔۔
اسد کبھی کبھی اقبال کے گھر آتا تھا اور عایشہ کی سادگی اور سیرت کی تعریفیں کرتا رہتا تھا ۔عائشہ بھی اس کی خدمت کھلی پیشانی کے ساتھ کرتی تھی ۔۔عائشہ کی نرمی اور حلیمی اسد کو بہت پسند تھی ۔۔وہ اکثر اپنے دوست سے کہتا تھا کہ وہ عائشہ کو اپنی بہو بنائیے گا ۔۔۔اس کا بیٹا دانش شہر میں پلا بڑھا تھا اور وہ بھی باپ کی طرح وکالت میں نام کما چکا تھا ۔ایک دن اسد نے اقبال سے کہا ۔۔۔اقبال مجھے لگتا ہے کہ اب ہمیں دوستی کو رشتہ داری میں بدلنا چاہیے۔۔۔۔میرے کہنے کا مطلب ہے کہ میں عایشہ کو اپنی بہو بناکر لے جانا چاہتا ہوں ۔۔۔
اقبال نے مسکرا کر کہا۔۔۔اسد ۔۔میری بیٹی سیدھی سادی ہے ۔۔۔شہر کے ریتی رواج سے بالکل ناواقف ۔۔۔۔۔اور تو اور یہ بدلنے کے لئے تیار بھی نہیں ہے ۔۔۔۔
اسد بات کو ٹوکتے ہوئے ۔۔۔۔دیکھواقبال ۔۔عائشہ قدرت کا نادر تحفہ ہے ۔۔۔میں بھی نہیں چاہتا کہ وہ بدل جائے ۔۔۔
وہ شہر میں رہ کر بھی ہیرا ہی رہے گی ۔۔۔
اقبال نے بات کاٹتے ہوئے کہا ۔۔۔۔توپہلے بیٹے سے تو پوچھ ۔۔۔خاصکراپنی بیوی سے ۔۔۔تب تک ہم بھی مشورہ کریں گے ۔۔
اسد نے حامی بھر لی ۔۔۔۔۔
میری مانو دوستی کو دوستی ہی رہنے دو ۔۔۔۔
اسد ۔۔۔نہیں دوستی کو اور زیادہ مضبوط کریں گے
اگلے دن صبح سویرے اسد شہر کی طرف روانہ ہوا اور گھر‌ پہنچ کر‌ اپنی بیوی سے کہا ۔۔۔ ۔۔زریفہ میں نے دانش کا رشتہ گاؤں میں اپنے دوست اقبال کی بیٹی سے طے کیا ہے ۔۔۔وہ نہایت شریف اور حلیم لڑکی ہے ۔۔۔
زریفہ ۔۔۔آپ نے ہمیں پوچھے بغیر اتنا بڑا فیصلہ کیسے لیا ۔۔۔اپنے معیار اور مرتبے کا خیال کرو ۔۔۔کہاں ہم اور کہاں وہ دیہاتی گنوار۔۔۔ہمارا ایک ہی بیٹا ہے ۔۔۔اس سے پوچھے بغیر یہ رشتہ نہیں ہوسکتا۔۔۔
اسد۔۔۔شہر میں رہنے کا یہ ہرگز مطلب نہیں ہے کہ ہمارا مقام بہت اونچا ہے ۔۔۔میں بھی گاوں کا ہی تھا ۔۔۔جب تم سے شادی کی ۔۔۔ہم دونوں جب آج تک خوشی خوشی زندگی گزارتے آئے تو ہمارا بیٹا کیوں نہیں گزارے گا ۔۔۔
زریفہ ۔۔۔بیٹے کو آنے دو ۔۔پھر بولتی ہوں
کچھ ہی دیر بعد بیٹا دانش بھی آیا۔۔
ماں نے دور سے ہی کہنا شروع کیا۔۔۔۔بیٹا باپ سے مل لو ۔۔۔۔اس نے تمہارے لئے قدرت کا نادر تحفہ ڈھونڈا ہے۔۔۔۔۔۔
دانش ماں کا یہ طنزیہ لہجہ دیکھ کر حیران بھی ہوا اور پریشان بھی ۔۔۔ اس نے ماں سے کہا ۔۔۔ماں میں سمجھا نہیں ۔۔۔کیا کہنا چاہتی ہو۔۔۔ ۔ ماں ۔۔۔۔تیرے باپ نے تیرا رشتہ طے کیا ہے وہ بھی اپنے گاؤں میں ،اپنے دوست کی بیٹی کے ساتھ۔۔۔۔۔
دانش باپ کے پاس چلا گیا اور پوچھا ۔۔۔۔اباجان ممی کیا کہہ رہی ہے۔۔۔
اسد ۔۔۔ہاں بیٹا ۔۔۔تمہاری امی ٹھیک کہہ رہی ہے ۔۔۔ عائشہ نیک سیرت اور حلیم لڑکی ہے ۔
دانش۔۔لیکن ۔۔۔۔
اباجان۔۔۔۔لیکن ویکن ۔۔کچھ نہیں ۔۔۔میں نے اقبال کو مشکل سے منایا ہے اور زبان دی ہے ۔۔۔
دانش سمجھ گیا کہ ابو کا فیصلہ پتھر کی لکیر ہے ۔۔۔
اس نےماں سے کہا ۔۔۔۔ ماں اباجان اتنا بڑا فیصلہ مجھ سے پوچھے بغیر کیسے لے سکتا ہے ؟ آخر یہ میری زندگی کا معاملہ ہے۔۔۔۔
ماں ۔۔۔۔بیٹا ۔۔مرغے کی ایک ہی ٹانگ ۔۔۔۔تمہارے باپ کا فیصلہ آخری۔ فیصلہ ہے ۔۔۔پتہ نہیں ۔۔۔اس نے گاؤں کی ناری میں کونسی انار کلی دیکھی ہے ۔۔۔
بہرحال رشتہ طے ہوگیا ۔۔۔شادی ہوگئی ۔۔۔عائشہ گاؤں سے شہر دلہن کی صورت میں آگئی ۔۔۔کچھ مہینے سب کچھ ٹھیک ٹھاک رہا ۔۔۔پھر ایک دن ساس زریفہ نے عایشہ سے کہا ۔۔۔۔دیکھو بہو ۔۔یہ گاؤں کی سادگی اور فضول کی شرم و حیا یہاں نہیں چلے گی ۔۔۔ہمارے رشتے دار اور دوست ہمیں طعنے دے رہے ہیں کہ آپ نے بہو لائی ہے یا مٹی کی گڑیا۔۔۔۔ نہ اس کو اٹھنے بیٹھنے کا صحیح سلیقہ ہے اور نہ ہی خود کو سنگھار کرنے کا طریقہ معلوم ہے ۔۔۔
عایشہ خاموشی سے سن رہی تھی ۔۔۔اس نے کچھ نہیں کہا ۔۔۔شام ہوتے ہی اس کا شوہر آگیا تو عایشہ نے پوچھا۔۔ ۔ کیا میرے اٹھنے بیٹھنے کا سلیقہ غلط ہے ۔۔۔۔
شوہر نے جواب دیا ۔۔۔۔۔قدیم انسان کو دیکھا ہے؟۔۔۔۔
عایشہ نے سر ہلا کر کہا ۔۔۔نہیں ۔۔۔۔
دانش ۔۔۔۔تو خود کو دیکھ لو ۔۔۔۔۔
عایشہ دانش کا یہ رویہ دیکھ کر حیران ھو گئی ۔۔۔۔
وہ سمجھ گئی کہ ساس اور شوہر کو اس کی سادگی پسند نہیں ہے ۔۔۔ عائشہ نے بدلنے کی کوشش کی لیکن وہ خود کو بدل نہیں پائی ۔۔۔۔ایک سال گزر گیا ۔۔۔عائشہ نے ایک بیٹی کو جنم دیا ۔۔۔ بیٹی کے جنم لیتے ہی ساس کا سر بھاری ہوگیا ۔۔۔اس نے اپنے بیٹے کے کان بھرنے شروع کئے۔۔۔۔دیکھو بیٹا دانش۔۔۔ہمیں کچھ کرنا ہوگا ۔۔۔۔یہ عورت ہمارے خاندان پر کلنک ہے ۔۔۔اس کی وجہ سے ہمیں شرمندگی اٹھانی پڑتی ہے ۔۔۔۔اب اس نے بیٹی کو جنم دیا ۔۔۔کل اور ایک بیٹی کو جنم دے گی ۔۔۔۔اور بیٹیوں کو اپنی طرح بنائیے گی ۔۔۔۔بہتر ہے اس کو کچھ دن کے بعد گاوں بھیج دیتے ہیں۔۔۔
دانش نے سر ہلا کر اقرار کیا ۔۔۔۔۔
اگلے دن دانش اپنا فون کمرے میں بھول گیا ۔۔۔
اور اس پر کال آگئی ۔۔۔۔۔رنگ بجتی رہی لیکن عایشہ نے فون اٹھانے کی جرات نہیں کی ۔۔۔۔
جب فون دوبارہ بجا ۔۔۔۔تو عایشہ نے فون اٹھایا ۔۔۔ابھی وہ ہیلو بھی نہیں کہہ پائی تھی کہ فون کرنے والی نے کہا ۔۔۔دانش تم کب تک مجھے جھوٹ موٹ کا دلاسا دیتے رہو گے ۔۔۔تونے کہا تھا کہ تم اس دیہاتن کو طلاق دو گے ۔۔۔۔
یہ باتیں سنتے ہی عایشہ کانپنے لگی ۔۔۔اس کے ہاتھ سے فون پھسل کر گر گیا۔۔۔۔اتنے میں دانش آیا ۔۔۔اس نے فون اٹھایا اور دیکھا تو کہنے لگا ۔۔۔۔
کس کا فون تھا ؟ عایشہ
۔۔۔عائشہ معلوم نہیں ۔۔۔کوئی عورت تھی کہہ رہی تھی کہ تم مجھے طلاق کب دو گے ؟
۔۔۔۔کیا تم مجھے طلاق دو گے؟ عایشہ نے سوال کرتے ہوئے پوچھا ۔۔
دانش نے طیش میں آکر کہا ۔۔۔اور کیا کروں ۔۔۔مجھے تم پسند نہیں ہو اور نہ ہی تمہارا طرز زندگی ۔۔۔۔تم‌ پتھر کے زمانے کی عورت ہو ۔
پتہ نہیں میرے باپ نے تجھ میں ایسا کیا دیکھا جو میرے پلے باندھ دیا۔۔۔۔
عایشہ خاموشی سے دانش کی زہریلی باتیں سنتی رہی ۔۔۔۔
وہ سمجھ گئی کہ سسر کے علاوہ وہ کسی کو پسند نہیں ہے ۔۔۔۔اس نے خود ہی گھر چھوڑنے کا فیصلہ لیا
اور دانش سے کہا ۔۔۔۔اگر ایسی بات ہے تو میں خود ہی اس گھر سے نکل رہی ہوں ۔۔۔۔لیکن ایک بات کا جواب دو مجھے ۔۔اگر میں پسند نہیں تھی تو شادی کیوں کی ؟ میری زندگی برباد کیوں کی ؟ شادی سے پہلے کیوں نہیں بتایا ؟
دانش خاموش تماشائی بن کر رہ گیا ۔۔۔۔وہ کچھ نہیں کہہ پایا ۔۔۔۔وہ جانتا تھا کہ اس کی بھی غلطی ہے ۔۔شادی سے پہلے ہی اس کو ہمت جٹانی چاہیے تھی اور شادی سے گریز کرنا چاہیے تھا ۔۔۔
عایشہ نے بیٹی کو گود میں اٹھایا اور دانش سے کہا ۔۔۔۔
میں اپنی بیٹی کو لے کر جا رہی ہوں ۔۔۔۔۔اب تم آزاد ہو ۔۔۔۔جب مرضی ہو تب طلاق بھیج دینا ۔۔۔لیکن میری بیٹی کی زندگی میں کبھی مت آنا ۔۔۔۔۔میں اسکو بتاؤں گی کہ اس کا باپ مر گیا ہے ۔۔۔۔یہ کہہ کر عایشہ آنسوں پونچھتے ہوئے گھر سے نکل گئی ۔۔۔۔نہ ساس نے کچھ کہا اور نہ ہی شوہر نے روکنے کی کوشش کی ۔۔۔سسر خاموش تماشائی بن کر پتھر کی طرح دیکھتا رہا ۔۔۔
عایشہ واپس اپنے گاؤں پہنچی اور والدین کو سارا ماجرا سنایا ۔۔۔ساتھ ہی فیصلہ بھی سنایا ۔۔۔دیکھو ابا جان ۔۔۔۔میں اب اپنی بیٹی کے لئے جیوں گی ۔۔۔اپنی ساری خوشیاں اسی پر لٹاوں گی ۔۔۔۔میری دوسری شادی کے بارے میں سوچنا مت ۔۔۔۔اگر آپ کو میں بوجھ لگوں گی تو میں محنت مزدوری کر کے اس بیٹی کو پالوں گی ۔۔۔۔
باپ نے دلاسہ دیتے ہوئے کہا ۔۔۔۔دیکھو بیٹی ۔۔۔تم ہم پر بوجھ نہیں ہو اور نہ کبھی بنو گی ۔۔۔ہماری کل جائیداد کی تم بھی وارث ہو ۔۔۔تمہیں جیسا لگے ویسا کرو ۔۔۔۔
کچھ دنوں کے بعد بزریعہ پوسٹ آفس طلاق بھی پہنچا ۔۔۔۔گاوں والوں کو جب پتہ چلا تو پورا گاؤں دکھی ہوا آخر عایشہ جیسی لڑکی کے ساتھ ایسا کیوں ہوا ۔۔۔۔لوگوں نے عدالت سے رجوع کرنے کی صلاح دی ۔۔۔۔لیکن عایشہ نے صاف صاف لفظوں میں کہہ دیا ۔۔۔کہ ایسا نہیں کریں گے ۔۔۔۔کیونکہ میری شادی بلا سوچے سمجھے ہوئی تھی ۔۔۔۔میرے گھر والوں نے لڑکے کی مرضی نہیں پوچھی تھی ۔۔۔اس لئے ایسا ہونا ہی تھا ۔۔۔
عایشہ نے بیٹی کا نام بنت عائشہ رکھا ۔۔۔اور بچپن سے ہی اس کو یقین دلایا کہ اس کا باپ اس کے جنم سے پہلے ہی مر گیا ہے اور وہ یتیم ہوگئی ہے۔
وقت کی سوئی گھومتی رہی ۔۔۔دن مہینوں میں بدل گئے ۔۔۔مہینے سالوں میں اور سال دہائیوں میں ۔۔عائشہ کی بیٹی یونیورسٹی سے پوسٹ گریجویشن کر کے کالج میں بحیثیت پروفیسر تعینات ہوئی ۔۔ایک دن عایشہ اپنی گاڑی میں کالج سے گھر واپس لوٹ رہی تھی کہ اچانک اس کی نظر سڑک کے کنارے ایک نوجوان پر پڑھی جو بیہوش ہوگیا تھا ۔۔۔وہ نیچے اتری اور دیکھا ۔۔۔نوجوان کے سر پر چوٹ لگی تھی اور اس کی ناک اور کان سے خون بہہ رہا تھا ۔۔۔اس نے ایک راہ چلتے آدمی کی مدد سے نوجوان کو اپنی گاڑی میں ڈال کر ہسپتال پہنچایا ۔۔۔۔ہسپتال میں جب ڈاکٹروں نے معائینہ کیا تو فوراً دو پوائنٹ خون کا انتظام کرنے کو کہا ۔۔۔بنت عایشہ نے جب خون کا گروپ دیکھا تو وہ اس کے خون کے گروپ سے ملتا تھا ۔۔اس نے فوراً اپنی بازو آگے کر‌کے دو پوائنٹ خون نکال کر نوجوان کے لئے دان کر دئیے ۔۔۔کچھ دیر کے بعد نوجوان کے والدین بھی آگئے۔۔۔
باپ نے بنت عائشہ کو پاس بلا کر کہا۔۔۔۔بیٹی ہم تمہارے بہت مشکور ہیں جو وقت پر تونے ہمارے بیٹے عارف کو ہسپتال ہپہنچایا ۔۔۔
بیٹی تمہارا نام کیا ہے ؟
بنت عائشہ ۔۔۔
بہت خوبصورت نام ہے ۔۔
تم کرتی کیا ہو ؟
جی ۔۔میں اسسٹنٹ پروفیسر ہوں ۔۔۔۔
بہت قسمت والےہیں تمہارے والدین جو تم جیسی بیٹی ملی ہے ۔۔۔ورنہ آجکل کے زمانے میں بچے پڑھائی کہاں کرتے ہیں ۔۔۔
یہ ہمارا اخلوتا بیٹا ہے ۔۔۔جو چاہتا ہے وہ حاضر ۔۔۔
اس نے ہمیں بہت تنگ کیا ہے ۔۔۔۔کبھی نشے کی حالت میں جیل پہنچتا ہے تو کبھی گاڑی تیز چلانے سے حادثے کا شکار ۔۔۔۔
بنت عائشہ ۔۔۔انکل یہ آپ کی لاپرواہی کا نتیجہ ہے ۔۔۔اگر آپ نے بچے کی صحیح تربیت پر دھیان دیا ہوتا تو شاید ایسا نہیں ہوتا ۔۔۔۔۔اب آگے خیال ‌رکھنا ۔۔۔میں چلتی ہوں ۔۔۔مجھے دیر ہو رہی ہے ۔۔۔
بیٹی تونے اپنے والدین کا نام نہیں بتایا ۔۔۔
بنت عائشہ۔۔۔ انکل پھر کبھی ۔۔۔
بیٹی کل پھر آنا ۔۔۔پتہ نہیں تجھے دیکھ کر دل میں شفقت کی لہر کیوں اٹھتی ہے ۔۔۔۔
بنت عائشہ مسکرا کر ہسپتال سے گھر واپس لوٹ گئی ۔۔۔
۔۔۔۔۔گھر پہنچتے ہی ماں نے پوچھا ۔۔۔بیٹی آج دیر سے کیوں آئی۔۔۔
ماں آج سڑک پر ایک نوجوان کا حادثہ ہوا تھا ۔۔وہ بیہوش پڑا تھا اور خون بھی بہت بہہ رہا تھا ۔۔۔میں نے اس کو ہسپتال میں داخل کرایا اور دو پوائنٹ خون بھی دئیے ۔۔۔اس کا اور میرا گروپ ایک ہی تھا ۔۔۔
ماں۔۔۔بہت اچھا کیا ۔۔۔۔لیکن سوچ سمجھ کر ہی کسی کی مدد کرنا ۔۔۔۔۔آج کل لوگ مدد کے بہانے پھنسا بھی لیتے ہیں ۔۔۔
۔۔۔۔ہاں ماں ۔۔۔میں جانتی ہوں ۔۔۔
اگلے دن بنت عائشہ جب کالج سے فارغ ہوئی ۔تو من میں خیال آیا کہ کیوں نہ میں ہسپتال جاکر نوجوان کی خبر پوچھ لوں ۔۔۔۔وہ گاڑی لے کر ہسپتال پہنچی ۔۔۔۔۔وہاں پارک میں دانش بیٹھا تھا ۔۔۔۔اس نے دور سے پکارا ۔۔۔۔بیٹی ۔۔۔۔
بنت عائشہ نے سلام عرض کی اور پوچھا ۔۔۔انکل عارف کی کیا خبر ہے ۔۔۔۔۔
دانش ۔۔۔۔بیٹی ڈاکٹروں نے اس کے سر کی جراحی کی ۔۔۔ابھی وہ آئی سی یو میں ہے ۔۔۔۔
آجاؤ بیٹھو ۔۔۔۔نہیں نہیں انکل مجھے دیر ہورہی ہے ۔۔۔۔
بنت عائشہ نے کہا ۔۔۔
لیکن دانش کے اصرار پر وہ ایک بینچ پر بیٹھ گئی ۔۔۔۔۔
دانش نے پوچھا ۔۔۔۔بیٹی تونے والدین کے بارے میں کچھ نہیں کہا ۔ان کا نام کیا ہے ۔۔۔وہ کیا کرتے ہیں ۔۔۔
بنت عائشہ۔۔۔۔جی ۔۔میرے والد بچپن میں ہی فوت ہوگئے ہیں ۔۔۔میں نے ان کو نہیں دیکھا ہے ۔۔۔اتفاقاً ان کا نام دانش بن اسد تھا ۔۔۔میری ماں کا نام عائشہ ہے ۔۔۔مجھے اسی نے پالا پوسا اور پڑھایا لکھایا ۔۔۔۔ہم زمیندار ہیں ۔۔۔
دانش نے جب عایشہ کی باتیں سنیں تو اس کے بدن میں کپکپاہٹ پھیل گئی ۔۔۔وہ سمجھ گیا کہ بنت عائشہ اسی کی بیٹی ہے ۔۔۔لیکن وہ کچھ کہہ نہیں پایا ۔۔۔اسی اثنا میں اس کی بیوی آئی ۔۔۔
اس نے بنت عائشہ کو گلے لگایا اور دعائیں دے کر کہا ۔۔۔۔تم کسی لل دید کی بیٹی ہو ۔۔۔مبارک اس ماں کو جس نے تجھے جنم دیا ۔۔۔خدا تمہیں سلامت رکھے ۔۔۔۔۔
دانش نے خود کو سنبھالا ۔۔۔وہ بنت عائشہ کو گلے لگا کر رونا چاہتا تھا ۔۔۔اس کو پیار دینا چاہتا تھا ۔۔۔اس کی زبان سے انکل کے بجائے ابو سننا چاہتا تھا ۔۔۔لیکن وہ نہ ممکن تھا اور نہ ہی مناسب ۔۔۔۔اتنے میں ہسپتال سے فون آیا کہ عارف کو ہوش آگیا ہے ۔۔۔وہ سب وہیں دوڈ گئے ۔۔۔
دانش نے عارف کو دیکھا اور رونے لگا ۔۔۔۔ماں بھی سسکیاں لینے لگی ۔۔۔بنت عائشہ نے حال چال پوچھا ۔۔۔
۔۔کیوں عارف صاحب کیسے ہیں آپ ؟
عارف نے حیران کن نظر ڈالی ۔۔۔
دانش نے جواب دیا ۔۔۔بیٹا یہ پروفیسر بنت عائشہ ہیں ۔۔۔۔آپ کی بڑی بہن ۔۔۔اسی نے تجھے ہسپتال پہنچایا اور اپنا خون دے کر بچا لیا ۔۔۔۔۔۔
۔۔۔عارف نے نرم لہجے میں کہا۔۔۔۔شکریہ دیدی ۔۔۔۔۔
اسی دوران ڈاکٹر صاحب نے پوچھا ۔۔۔۔دانش صاحب گھبرانے کی ضرورت نہیں ہے ۔۔۔۔اب عارف خطرے سے باہر ہیں ۔۔۔۔ویسے اسد صاحب کیسے ہیں ؟۔۔
دانش ۔۔۔جناب وہ بزرگ ہیں اور اکثر گھر میں ہی رہتے ہیں ۔۔۔۔ہاں ہاں میں ان کو جانتا ہو ۔۔۔انہیں میری سلام کہنا ۔۔۔
ڈاکٹر صاحب چلے گئے اور بنت عائشہ بھی اجازت لے کر نکل گئی ۔۔۔دانش اس کو روکنا چاہتا تھا۔۔لیکن روک نہیں پایا ۔۔۔وہ باپ کی طرح حق جتا نہیں پایا ۔۔۔
اس روز جب بنت عائشہ گھر لوٹی تو ماں سے کہا ۔۔۔ماں پتہ ہے ۔۔۔جس لڑکے کی میں نے مدد کی۔۔۔اس کے باپ کا نام بھی دانش بن اسد ہے ۔۔۔
ماں نے جب یہ بات سنی تو وہ سمجھ گئی کہ اس کی بیٹی اپنے باپ سے مل چکی ہے ۔۔۔بس اب حقیقت سامنے آنی باقی ہے ۔۔آج نہیں تو کل وہ بھی آجائے گی۔۔۔
بہتر ہے کہ میں ہی بتاؤں ۔۔۔۔۔نہیں تو میری بیٹی نہ جانے کیا سوچے گی ۔۔۔۔اسی روز شام کو عائشہ نے اپنی بیٹی سے کہا ۔۔۔۔بیٹی میں آج تجھے‌ایک راز کی بات بتانے جارہی ہوں۔۔۔
غور سے سننا ۔۔۔۔بیٹی نے دلچسپی لیتے ہوئے کہا۔۔۔ماں ایسا کونسا راز ہے جو مجھے معلوم نہیں ہے ۔۔۔۔
ماں عائشہ نے گہری سانس لی اور کہا۔۔۔۔بیٹی تمہارا باپ مرا نہیں ہے بلکہ زندہ ہے ۔۔۔۔
بنت عائشہ ۔۔۔کیا !۔۔۔وہ ہکا بکا ہوئی
ماں ۔۔۔جی بیٹی ۔۔۔
ماں نے اپنی ساری کہانی سنائی اور کہا ۔۔۔وہ انسان میرے اور تیرے لئے اسی دن مرگیا تھا جب اس نے مجھے تیرے سمیت گھر سے نکالا اور طلاق دیا ۔۔
پھر پچیس سال تک تیرا نام تک نہیں لیا ۔۔۔
آج وہ تجھے نہیں تیرے مقام کو اپنانا چاہتا ہے ۔
اگر میں نے تجھے پڑھایا نہیں ہوتا یا تو اس مقام پر نہیں ہوتی ۔۔تو تیرا ماں کے سوا کوئی نہیں ہوتا
تو چاہیے تو باپ سے مل سکتی ہے ۔۔اس کو ابو کہہ سکتی ہے۔۔۔میں تجھے نہیں روک سکتی ۔۔۔۔بنت عائشہ ۔۔۔ماں تم روتی کیوں ہو ۔۔۔میں سمجھ سکتی ہوں کہ تم پر کیا بیتی ہے ۔
اور یہ بات بھی سچ ہے کہ میرا باپ مرچکا ہے ۔۔۔جس آدمی نے پچیس سال تک میرا نام نہیں لیا وہ اچانک مجھے سامنے پاکر بیٹی کیسے کہے گا ۔۔۔اس نے وہ حق کھو دیا ہے ۔۔۔
آج میرا رتبہ دیکھ کر وہ تمہاری اہمیت سمجھ گیا ہوگا ۔۔۔
تو مطمئن رہ ۔۔۔میرا دل اس کو باپ کہنے کے لئے تیار نہ ہے اور نہ ہی ہوگا ۔۔۔میں اسی کی بیٹی ہوں جس نے مجھے جیون دیا ۔۔۔۔پالا پوسا اور بہترین زندگی گزارنے کے قابل بنایا۔۔۔۔میں صرف تیری بیٹی ہی نہیں ہوں بلکہ ایک عورت بھی ہوں ۔۔۔جو میری ماں کا نہ ہوسکا وہ میرا کیا ہوگا ۔۔
میں جانتی ہوں ماں ۔۔۔یہ دنیا رتبے کو سلام کرتی اور غریبوں پر کلام کرتی ہے ۔۔۔۔میں تجھے رسوا نہیں کرونگی ۔۔۔۔۔میں پہلے زمیندار لڑکی ہوں اور بعد میں پروفیسر۔۔۔۔ ۔۔میں تمہاری بیٹی ہوں ماں۔۔۔۔۔بس تمہاری بیٹی۔۔۔دونوں ماں بیٹی رونے لگیں ۔۔۔۔۔
بنت عائشہ نے آنسوں پونچھے اور اعتمادً کہا
اب دانش بن اسد کے لئے یہی سزا ہے کہ وہ میرے غم میں مبتلا ہوجائے ۔۔اور میں ماں کی بیٹی بنی رہوں۔۔۔۔ ۔۔۔۔
ملک منظور قصبہ کھُل کولگام
9906598163

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں